بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 65
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 65
آیت نمبر: 65 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾
یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا، اور توکل کے لیے تیرا رب کافی ہے"
میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں۔ تیرا رب کارسازی کرنے واﻻ کافی ہے
بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں، اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو
بے شک جو میرے خاص بندے ہیں ان پر تیرا کوئی قابو نہیں ہے اور کارسازی کیلئے آپ کا پروردگار کافی ہے۔
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں اور تیرا رب کافی کار ساز ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شیطانی آواز کا بہکاوا ٭٭

ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرمالی اور ارشاد ہوا کہ «قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:37-38] ‏‏‏‏ ’ وقت معلوم تک مہلت ہے ‘ تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے جسے تو بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لے کر جس پر تجھ سے حملہ ہوسکے حملہ کرلے۔ «رَجِلِ» جمع ہے «راجل» کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔

شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو بھڑکاتے اور بہکاتے رہتے ہیں۔ انہیں گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی معصیت میں جو سواری پر ہو اور پیدل ہو، وہ شیطانی لشکر میں ہے۔ ایسے جن بھی ہیں اور انسان بھی ہیں جو اس کے مطیع ہیں۔ جب کسی پر آوازیں اٹھائی جائیں تو عرب کہتے ہیں ”اجلب فلان علی فلان۔‏‏‏‏“ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ گھوڑ دوڑ میں جلب نہیں، } ۱؎ [سنن ابوداود:2581،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ وہ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ جلبہ کا اشتقاق بھی اسی سے ہے یعنی آوازوں کا بلند ہونا۔ ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا، سود خوری ان سے کرا، برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ۔ اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زناکاری جس سے اولاد ہو۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بیوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو۔ اولادوں کے نام عبد الحارث، عبد الشمس اور عبد فلاں رکھا ہو۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو، یا اس کو ساتھ کیا ہو، یہی شیطان کی شرکت ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ پڑھ لے «‏‏‏‏اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ‏‏‏‏ ”یعنی یا اللہ تو ہمیں شیطان سے بچا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا فرمائے۔“ تو اگر اس میں کوئی بچہ اللہ کی طرف سے ٹھیر جائے گا تو اسے ہرگز ہرگز کبھی بھی شیطان کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:141] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے میری حفاظت میں ہیں، میں انہیں شیطان رجیم سے بچاتا رہوں گا۔ اللہ کی وکالت اس کی حفاظت اس کی نصرت اس کی تائید بندوں کو کافی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مومن اپنے شیطان پر اس طرح قابو پالیتا ہے جیسے وہ شخص جو کسی جانور کو لگام چڑھائے ہوئے ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:380/2:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

65۔ 1 بندوں کی نسبت اپنی طرف کی، بطور شرف اور اعزاز کے ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے خاص بندوں کو شیطان بہکانے میں ناکام رہتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی جو صحیح معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، اسی پر اعتماد اور توکل کرتا ہے تو اللہ بھی اس کا دوست اور کار ساز بن جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 65){ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ …:} اللہ تعالیٰ نے اس سلسلۂ کلام کو سچے ایمان والوں کے اطمینان کے لیے اس بات پر ختم کیا کہ میرے خاص بندوں پر تو غالب نہیں آ سکے گا، کیونکہ انھوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے سپرد کر دیا ہے اور رب تعالیٰ بہت کافی وکیل ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۴۲، ۴۳) اور سورۂ نحل(۹۸ تا ۱۰۰)۔
← پچھلی آیت (64) پوری سورۃ اگلی آیت (66) →