بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 62
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 62
آیت نمبر: 62 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾
پھر وہ بولا "دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے"
اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اوﻻد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے، اپنے بس میں کرلوں گا
بولا دیکھ تو جو یہ تو نے مجھ سے معزز رکھا اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا مگر تھوڑا
نیز اس نے کہا بھلا مجھے بتا تو سہی یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (آخر کیوں افضل ہے) اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں چند افراد کے سوا اس کی پوری اولاد کی بیخ کنی کر ڈالوں گا۔
اس نے کہا کیا تونے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقینا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭

ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» ۱؎ [7-الأعراف:12] ‏‏‏‏ ’ میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ ‘ پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیئے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے، باقی سب کو غارت کر دوں گا۔

📖 احسن البیان

62۔ 1 یعنی اس پر غلبہ حاصل کرلوں گا اور اسے جس طرح چاہوں گا، گمراہ کرلوں گا۔ البتہ تھوڑے سے لوگ میرے داؤ سے بچ جائیں گے۔ آدم ؑ و ابلیس کا یہ قصہ اس سے قبل سورة بقرہ، اعراف اور حجر میں گزر چکا ہے۔ یہاں چوتھی مرتبہ اسے بیان کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں سورة کہف طٰہٰ اور سورة ص میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 62) ➊ {قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ …: ” اَرَءَيْتَكَ “} اصل {”أَرَأَيْتَ“} ہی ہے، کاف حرف خطاب ہے، جو مخاطب کے مطابق بدلتا رہتا ہے، مثلاً مخاطب واحد مذکر ہو تو {”أَرَأَيْتَكَ“}، تثنیہ مذکر ہو تو {”أَرَأَيْتَكُمَا“} اور جمع مذکر ہو تو {”أَرَأَيْتَكُمْ“}، معنی سب کا یہی ہے کہ ”کیا تو نے دیکھا“ مگر مراد ہوتی ہے {” أَخْبِرْنِيْ“} یعنی ”مجھے بتا۔“ {” اَرَءَيْتَكَ “} یہ اصل میں {”حَنَكٌ“} سے مشتق ہے جس کا معنی جبڑا ہے۔ عرب کہتے ہیں {”حَنَكْتُ الْفَرَسَ أَحْنُكُهُ“} (باب ضرب و نصر) {”وَاحْتَنَكْتُهُ“} میں نے گھوڑے کے (نچلے) جبڑے میں رسی باندھی اور اسے اپنے پیچھے چلایا۔ مراد یہ ہے کہ میں اس کی اولاد کو لگام کی طرح جبڑے میں رسی باندھ کر اپنے پیچھے چلاؤں گا۔ مگر یہ لفظ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے: {” لَأَسْتَوْلِيَنَّ “} ”میں ضرور ان پر غالب ہوں گا“ اور {”لَأَسْتَأْصِلَنَّ“} جو {”اِسْتَأْصَلَتِ السَّنَةُ أَمْوَالَهُمْ“} سے اخذ کیا گیا ہے، یعنی قحط نے ان کے اموال کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، ہلاک کر دیا۔ ➋ یعنی نہایت جرأت و تکبر سے اللہ تعالیٰ سے کہنے لگا کہ مجھے بتا کہ یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یعنی جب بہتر میں ہوں تو تو نے اسے مجھ پر عزت کیوں بخشی؟! اس میں آدم علیہ السلام پر حسد کا اظہار بھی ہے، اللہ کے فرمان کے مقابلے میں اپنے عقلی ڈھکوسلے قیاس سے تعمیل حکم کا انکار بھی اور تکبر وسرکشی کا اظہار بھی اور ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں۔ ➌ { لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ …:} اس کی تفصیل سورۂ اعراف کی آیات (۱۴ تا ۱۷) میں دیکھیں۔ {” اِلَّا قَلِيْلًا “} سے مراد اللہ کے مخلص بندے ہیں۔
← پچھلی آیت (61) پوری سورۃ اگلی آیت (63) →