بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 109
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 109
آیت نمبر: 109 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ یَبۡکُوۡنَ وَ یَزِیۡدُہُمۡ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ٛ
اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے
وه اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجده میں گر پڑ تے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے
اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے، (السجدة) ۴
اور وہ روتے ہوئے منہ کے بل گر پڑتے ہیں۔ اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں اضافہ کر دیتا ہے۔
اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گر جاتے ہیں، روتے ہیں اور وہ (قرآن) انھیں عاجزی میں زیادہ کر دیتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭

فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔ آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑنے کا دوبارہ ذکر کیا، کیونکہ پہلا سجدہ اللہ کی تعظیم کے لئے اور بطور شکر تھا اور قرآن سن کر جو خشیت و رقت ان پر طاری ہوئی اور اس کی تاثیر و اعجاز سے جس درجہ وہ متأثر ہوئے، اس نے دوبارہ انھیں سجدہ ریز کردیا۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (108) پوری سورۃ اگلی آیت (110) →