بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإنفطار — Surah Infitar
آیت نمبر 19
کل آیات: 19
قرآن کریم الإنفطار آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الإنفطار islamicurdubooks.com ↗
یَوۡمَ لَا تَمۡلِکُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَیۡئًا ؕ وَ الۡاَمۡرُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ﴿٪۱۹﴾
یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا
(وه ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے
جس دن کوئی جان کسی جان کا کچھ اختیار نہ رکھے گی اور سارا حکم اس دن اللہ کا ہے،
جس دن کوئی کسی دوسرے کے کام نہ آسکے گا اور اس دن معاملہ (اختیار) اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہوگا۔
جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابرار کا کردار ٭٭

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] ‏‏‏‏ بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] ‏‏‏‏ یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] ‏‏‏‏ مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

📖 احسن البیان

19۔ 1 یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والے دن تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے پاس ہوں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19){ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا …:} دنيا ميں بظاہر لوگوں کی كچھ ملكيت بهی ہے اور ايک حد تک نفع و ضرر كا اختيار بهی ہے، مگر قيامت كے دن الله كے علاوه نہ کسی کا اختیار رہے گا، نہ ملکیت اور نہ حکومت، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [المؤمن: ۱۶ ] ”آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ رہ گئی شفاعت تو وہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں ہوگی، بلکہ صرف وہی کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، فرمایا: «‏‏‏‏مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [ البقرۃ: ۲۵۵] ”کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ مزید دیکھیے سورۂ نبا کی آیت (۳۸) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت →