اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
جب آسمان پھٹ جائے گا (1)
(آیت 3) {وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ:} یہاں فرمایا کہ سمندر پھاڑ دیے جائیں گے، پچھلی سورت میں فرمایا بھڑکائے جائیں گے، تو دونوں باتیں ہی حق ہیں، پہلے قیامت کے شدید زلزلوں سے ساری زمین جا بجا پھٹ جائے گی، سمندر درمیان میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے سے ایک ہو جائیں گے، پھر ان میں آگ لگ جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
«واذا البحار فجرت» : یہاں فرمایا کہ سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے، پچھلی سورت میں فرمایا بھڑکائے جائیں گے، تو دونوں باتیں ہی حق ہیں، پہلے قیامت کے شدید زلزلوں سے ساری زمین جا بجا پھٹ جائے گی، سمندر درمیان میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے سے ایک ہو جائیں گے، پھر ان میں آگ لگ جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
4۔ 1 یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔
(آیت 4) {وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ:} دوسرے نفخہ سے قبریں پھٹیں گی اور مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔
اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
(اس وقت) ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے (یعنی اگلے پچھلے اعمال) کو معلوم کر لے گا
احمد رضا خان بریلوی
ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے
علامہ محمد حسین نجفی
تب ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا ہے اور پیچھے کیا چھوڑا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
ہر شخص جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور قبریں پھوٹ پڑیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5){ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ:} جو اچھے یا برے اعمال موت سے پہلے کیے، یا جو اچھے یا برے طریقے پیچھے چھوڑ گیا، جن کے ثواب و عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا، وہ سب سامنے آجائیں گے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جو عمل شروع عمر میں کیے اور جو آخر عمر میں کیے۔
اے انسان، کس چیز نے تجھے اپنے اُس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا
احمد رضا خان بریلوی
اے آدمی! تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے
علامہ محمد حسین نجفی
اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے (رحیم و) کریم پروردگار سے دھو کے میں ڈال رکھا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اے انسان! تجھے تیرے نہایت کرم والے رب کے متعلق کس چیز نے دھوکا دیا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور قبریں پھوٹ پڑیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6){ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ:} اتنی مہربانیوں والے رب کے متعلق دھوکا کھانے اور کفر کرنے کی تو کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔
جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نک سک سے درست کیا، تجھے متناسب بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس (رب نے) تجھے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر (درست اور) برابر بنایا
احمد رضا خان بریلوی
جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا پھر ہموار فرمایا
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے تجھے پیدا کیا پھر (تیرے اعضاء کو) درست بنایا (اور) پھر تجھے متناسب بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے درست کیا، پھر تجھے برابر کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور قبریں پھوٹ پڑیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
7۔ 1 یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔ 7۔ 2 یعنی تجھے ایک کامل انسان بنادیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔
(آیت 8،7) {الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ …:} وہ تجھے بے ڈھب بنا سکتا تھا، بندر، خنزیر یا کوئی جانور بھی بنا سکتا تھا۔ اتنی اچھی ترکیب سے جب پہلے بنا دیا تو جزائے اعمال کے لیے دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتا؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
ہرگز نہیں، بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کوئی نہیں بلکہ تم انصاف ہونے کو جھٹلانتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! بلکہ (اصل حقیقت یہ ہے کہ) تم جزا و سزا (کے دن) کو جھٹلاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور قبریں پھوٹ پڑیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9){ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ:} یعنی دھوکا کھانے کا سبب یہ نہیں کہ تمھیں رب کریم کی مہربانیوں پر بہت اعتماد ہے، بلکہ یہ باطل خیال ہے کہ ہمیں نہ دوبارہ زندہ ہونا ہے اور نہ اعمال کا بدلا ملنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام بد اعمالیوں کا اصل سبب روز جزا کو جھٹلانا ہے اور اسی کو تم جھٹلا رہے ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11،10){ وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ …:} حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں، یعنی فرشتے۔ {”حَافِظِيْنَ“} یعنی کوئی عمل ان کی نگرانی سے باہر نہیں۔ {” كِرَامًا “} عزت والے، اس لیے کہ وہ لکھنے میں کوئی خیانت نہیں کرتے، نہ کوئی بات لکھنے سے چھوڑتے ہیں اور نہ زیادہ لکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ‘۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ’ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ ‘ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔ صحیح مطلب یہی ہے کہ ’ اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ ‘ حدیث شریف میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔“ بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ ۱؎ [بغوی:4/424:ضعیف] پھر فرماتا ہے ’ وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔ { ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5305] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے }۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ { جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں }۔ ۱؎ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا }۔ ۱؎ [مسند بزار:3214:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) {يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ:} تمھارا کوئی مخفی سے مخفی کام،حتیٰ کہ تمھاری نیتیں اور ارادے بھی ان سے پوشیدہ نہیں۔ لہٰذا تمھارا یہ سمجھنا کہ تمھارے چھپا کر کیے ہوئے گناہ ریکارڈ میں نہیں آئیں گے اور تم ان کی سزا سے بچ جاؤ گے، زبردست نادانی ہے۔ ان فرشتوں کا مزید ذکر سورۂ ق (۱۷، ۱۸) میں دیکھیے۔
یقیناً نیک لوگ (جنت کے عیش وآرام اور) نعمتوں میں ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک نِکو کار ضرور چین میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک نیکوکار لوگ عیش و آرام میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک نیک لوگ یقیناً بڑی نعمت میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابرار کا کردار ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14،13){ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ …:} فرشتوں کے تیار کردہ اعمال ناموں کا نتیجہ یہ ہے کہ نیک لوگ نعمت میں اور نافرمان بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوں گے۔ {” الْاَبْرَارَ “ ” بَرٌّ “} کی جمع ہے، وہ شخص جس میں {” بِرٌّ “} (نیکی) پائی جائے۔ نیکی کیا ہے اور نیک کون ہے اس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت (۱۷۷) یعنی ”آیت بر“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ {” الْفُجَّارَ “ ”فَاجِرٌ“} کی جمع ہے، یہاں مراد کافر ہیں، کیونکہ مومن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
اور بے شک نافرمان لوگ یقیناً بھڑکتی آگ میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابرار کا کردار ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
15۔ 1 یعنی جس دن جزا و سزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہونگے،
(آیت 16،15) {يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ …: ” بِغَآىِٕبِيْنَ “} پر باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کبھی غائب ہونے والے نہیں۔“ کیا گیا ہے۔ فاجر لوگ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، کبھی اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اگرچہ وہ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے مگر اس سے پہلے قبر میں بھی وہ آگ سے غائب نہیں ہیں، جیسا کہ آل فرعون کے متعلق فرمایا: «وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ (45) اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ» [ المؤمن: ۴۵، ۴۶ ] ”اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا جو آگ ہے۔ اس پر صبح اور شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی (کہا جائے گا کہ) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔“
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابرار کا کردار ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18،17){ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ …:} قیامت کی عظمت و اہمیت ذہن میں بٹھانے کے لیے سوال اور پھر تکرار سوال ہے۔
میں پھر (کہتا ہوں کہ) تجھے کیا معلوم کہ جزا (اور سزا) کا دن کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر تو کیا جانے کیسا انصاف کا دن،
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر سنو) تمہیں کیا معلوم کہ جزا (و سزا) والا دن کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابرار کا کردار ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
(وه ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن کوئی جان کسی جان کا کچھ اختیار نہ رکھے گی اور سارا حکم اس دن اللہ کا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن کوئی کسی دوسرے کے کام نہ آسکے گا اور اس دن معاملہ (اختیار) اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابرار کا کردار ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221] بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4] مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔ سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
19۔ 1 یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والے دن تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے پاس ہوں گے۔
(آیت 19){ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا …:} دنيا ميں بظاہر لوگوں کی كچھ ملكيت بهی ہے اور ايک حد تک نفع و ضرر كا اختيار بهی ہے، مگر قيامت كے دن الله كے علاوه نہ کسی کا اختیار رہے گا، نہ ملکیت اور نہ حکومت، جیساکہ فرمایا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [المؤمن: ۱۶ ] ”آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ رہ گئی شفاعت تو وہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں ہوگی، بلکہ صرف وہی کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، فرمایا: «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [ البقرۃ: ۲۵۵] ”کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ مزید دیکھیے سورۂ نبا کی آیت (۳۸) کی تفسیر۔