بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 139
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 139
آیت نمبر: 139 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو
تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو
اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو،
اے مسلمانو! کمزوری نہ دکھاؤ اور غمگین نہ ہو اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب و برتر ہوگے۔
اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شہادت اور بشارت ٭٭

چونکہ احد والے دن ستر (‏‏‏‏70)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔

اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] ‏‏‏‏ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔

پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

📖 احسن البیان

139۔ 1 گذشتہ جنگ میں تمہیں جو نقصان پہنچا ہے، اس سے نہ سست ہو اور نہ اس پر غم کھاؤ کیونکہ اگر تمہارے اندر ایمانی قوت موجود رہی تو غالب اور کامران تم ہی رہو گے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی قوت کا اصل راز اور ان کی کامیابی کی ایک بنیاد واضح کردی ہے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ اس کے بعد مسلمان ہر معرکے میں سرخرو ہی رہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 139) {وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا …:} اوپر کی آیت { ”قَدْ خَلَتْ“ } اس بشارت کی تمہید تھی اور { ”وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ“ } کے لیے ایک طرح کی دلیل کہ پہلی امتوں کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو اگرچہ غلبہ حاصل ہوا مگر عارضی، آخر کار وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ یہی حال تمھارا ہے، اس لیے کسی قسم کے { ”وَهْنٌ“ } (کمزوری) سے کام نہ لو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ چنانچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے۔
← پچھلی آیت (138) پوری سورۃ اگلی آیت (140) →