بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 137
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 137
آیت نمبر: 137 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ سُنَنٌ ۙ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾
تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ اُن لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام و ہدایات کو) جھٹلایا
تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گزر چکے ہیں، سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ (آسمانی تعلیم کے) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟
تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا
تم سے پہلے بہت سے نمونے (اور دور) گزر چکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (احکام خداوندی) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ ۔
بلاشبہ تم سے پہلے بہت سے طریقے گزر چکے، سو زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟

📖 تفسیر ابن کثیر

شہادت اور بشارت ٭٭

چونکہ احد والے دن ستر (‏‏‏‏70)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔

اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] ‏‏‏‏ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔

پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

📖 احسن البیان

137۔ 1 جنگ احد میں مسلمانوں کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا جس میں 50 تیر اندازوں کا ایک دستہ آپ نے عبد اللہ بن جبیر ؓ کی قیادت میں ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا اور انہیں تاکید کردی کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست تم یہاں سے نہ ہلنا اور تمہارا کام یہ ہے کہ جو گھڑ سوار تمہاری طرف آئے تیروں سے اسے پیچھے دھکیل دینا لیکن مسلمان فتح یاب ہوگئے اور مال اسباب سمیٹنے لگے تو اس دستے میں اختلاف ہوگیا کچھ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مقصد تو یہ تھا جب تک جنگ جاری رہے یہیں جمے رہنا لیکن جب یہ جنگ ختم ہوگئی ہے اور کفار بھاگ رہے ہیں تو یہاں رہنا ضروری نہیں۔ چناچہ انہوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر مال و اسباب جمع کرنا شروع کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہاں صرف دس آدمی رہ گئے جس سے کافروں نے فائدہ اٹھایا ان کے گھڑ سوار پلٹ کر وہیں سے مسلمانوں کے عقب میں جا پہنچے اور اچانک حملہ کردیا جس میں مسلمانوں میں افراتفری مچ گئی۔ جس سے مسلمانوں کو قدرتی طور پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دے رہا ہے کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ تاہم بالآخر تباہی و بربادی اللہ و رسول کی تکذیب کرنے والوں کا ہی مقدر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 137) {قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ …:} اوپر کی آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر اور ان کی نافرمانی سے توبہ پر بخشش اور جنت کا وعدہ فرمایا، اب یہاں اطاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور و فکر کا حکم دیا ہے، تاکہ ان میں سے مطیع اور نافرمان کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامانِ عبرت حاصل کرے۔ {” سُنَنٌ “} کا مفرد {”سُنَّةٌ “} ہے، اس کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کا اتباع کیا جاتا ہے۔ یہ {” فُعْلَةٌ “} بمعنی {” مَفْعُوْلَةٌ “} ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل چونکہ مسلمان کے لیے نمونہ اورطریق مستقیم ہوتا ہے، اس لیے اسے سنت کہتے ہیں۔ جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید اور کچھ زخمی ہوئے تو اس شکست سے مسلمانوں کو قدرتی طور پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ اس شکست سے افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات تو پہلی امتوں اور انبیاء کے متبعین میں بھی ہوتی چلی آئی ہے کہ ابتدا میں ان کو تکا لیف سے دو چار ہونا پڑااور بالآخر جھٹلانے والے ذلیل و خوار ہوئے۔ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (136) پوری سورۃ اگلی آیت (138) →