بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 132
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 132
آیت نمبر: 132 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ
اور اللہ اور رسول کا حکم مان لو، توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا
اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ،
اور اللہ اور رسول(ص) کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور اللہ اور رسول کا حکم مانو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 132) {وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار تو وہ شخص ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرماں بردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں۔ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر نافرمان کے لیے بھی عتاب موجود ہے۔ (رازی)
← پچھلی آیت (131) پوری سورۃ اگلی آیت (133) →