بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 116
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 116
آیت نمبر: 116 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡـًٔا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے
کافروں کو ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے
وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں ان کے اموال اور اولاد اللہ (کی گرفت) سے کچھ بھی نہیں بچا سکیں گے۔ وہ تو دوزخی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا نہ کبھی ان کے اموال انھیں اللہ سے (بچانے میں) کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد ، اور وہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ظلم نہیں سزا ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] ‏‏‏‏ ۱؎ لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 117،116) ➊ {لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ …:} یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ کی رضا پر نہ دیا، آخرت میں دیا نہ دیا برابر ہے۔ (موضح) عام طور پر مصیبت کے وقت اولاد انسان کے کام آتی ہے، مگر اس وقت کفار کی اولاد ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہیں ہو گی، بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا، اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بے فائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ان لوگوں کی کھیتی سے تشبیہ دی ہے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جو کھیتی دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن یکایک سخت سرد ہوا چلے اور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔ یہی حال کفار کے صدقہ و خیرات کا ہے، وہ چونکہ ایمان و اخلاص کی دولت سے محروم ہیں، اس لیے آخرت میں ان کے اعمال تباہ و برباد ہو جائیں گے اور انھیں ان اعمال کا کچھ بھی اجر نہیں ملے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۲۳) اور سورۂ نور(۳۹، ۴۰) ہاں کفار کو دنیا ہی میں ان کے اچھے اعمال کا بدلہ مل جائے گا۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۲۰) {”صِرٌّ “} شدید ٹھنڈی ہوا جو کھیتوں کو جلا دے۔ واضح رہے کہ قرآن میں عموماً {”رِيْحٌ“} کا لفظ عذاب کے لیے استعمال ہوا ہے اور {”رِيَاحٌ“} جمع کا لفظ رحمت کے لیے۔ (مفردات) سورۂ یونس (۲۲) میں {”رِيْحٌ“} کا لفظ موافق ہوا کے لیے آیا ہے: «وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ» ‏‏‏‏ دوسرے مقامات پر عذاب کی ہوا کے لیے آیا ہے۔ ➋ {وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ …:} یعنی ان کے اعمال جو ضائع اور برباد ہوئے یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم کیا ہے، بلکہ خود ان کے اپنے اوپر ظلم کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ انھوں نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور کتابوں کی تصدیق کی اور نہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیے، بلکہ ریاکاری کرتے رہے۔
← پچھلی آیت (115) پوری سورۃ اگلی آیت (117) →