بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 108
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 108
آیت نمبر: 108 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
یہ اللہ کے ارشادات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنارہے ہیں کیونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا
اے نبی! ہم ان حقانی آیتوں کی تلاوت آپ پر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا اراده لوگوں پر ﻇلم کرنے کا نہیں
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا
یہ آیاتِ الٰہیہ ہیں جو ہم سچائی کے ساتھ تمہیں پڑھ کر سنا رہے ہیں کیونکہ خدا جہان والوں پر ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ جہانوں پر کوئی ظلم نہیں چاہتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خوارج کا انجام ٭٭

پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:465/2] ‏‏‏‏ ۱؎ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدتر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہد ہیں پھر آیت «یوم تبیض» تلاوت فرمائی، ابوغالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، [سنن ترمذي:3000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ ابن مردویہ نے یہاں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے [ جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے ] ‏‏‏‏ زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 108) {وَ مَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ:} یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ مخلوق پر ظلم نہیں، اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (107) پوری سورۃ اگلی آیت (109) →