بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 8
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنۡ تَکۡفُرُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۸﴾
اور موسیٰؑ نے کہا کہ "اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے"
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم سب اور روئے زمین کے تمام انسان اللہ کی ناشکری کریں تو بھی اللہ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے
اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کا فر ہوجاؤ تو بیشک اللہ بے پروہ سب خوبیوں والا ہے،
اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے سب لوگ کفر اختیار کریں تو اللہ کو اس کی کیا پروا ہے وہ یقیناً بے نیاز (اور) قابلِ ستائش ہے۔
اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بے شک اللہ یقینا بڑا بے پروا، بے حد تعریف والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اولاد کا قاتل ٭٭

فرمان الٰہی کے مطابق موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں، مثلاً قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بے وقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جیسے فرمان ہے «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:168] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا ‘۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ’ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی ‘۔ جیسے «وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏، میں۔ پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی۔ حدیث میں ہے { بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے }۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کھجور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی کھجور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا }۔ اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو } }۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف] ‏‏‏‏ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بے نیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔ چنانچہ فرمان ہے «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [39-الزمر:7] ‏‏‏‏ ’ تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «كَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» ۱؎ [64-التغابن:6] ‏‏‏‏ ’ انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقاً بے نیازی برتی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں حدیثِ قدسی ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بھی نہ گھٹے گا ‘۔ ’ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو ‘ }۔ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی شکر گزاری کرے گا تو اس میں اسی کا فائدہ ہے۔ ناشکری کرے گا تو اللہ کا اس میں کیا نقصان ہے؟ وہ تو بےنیاز ہے سارا جہان ناشکرگزار ہوجائے تو اس کا کیا بگڑے گا جس طرح حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یا عبادی! لو ان اولکم وآخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی اتقی قلب رجل واحد منکم مازاد ذلک فی ملکی شیئا، یا عبادی! لو ان اولکم وآخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی افجر قلب رجل واحد منکم ما نقصٓ ذلک فی ملکی شیئا یا عبادی لو ان اولکم وآخرکم وانسکم وجنکم قاموا فی صٓعید واحد فسالونی فاعطیت کل انسان مسالتہ مانقصٓ ذلک من ملکی شیئا الا کما ینقض المخیط اذا ادخل فی البحر۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اوّل اور آخر اور اسی طرح تمام انسان اور جن، اس ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں، جو تم میں سب سے زیادہ متقی اور پر ہزگار ہو، (یعنی کوئی بھی نافرمان نہ رہے) تو اس سے میری حکومت اور بادشاہی میں اضافہ نہیں ہوگا اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمام انسان اور جن ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں، جو تم میں سب سے بڑا نافرمان اور فاجر ہو تو اس سے میری حکومت اور بادشاہی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور انسان و جن، سب ایک میدان میں جمع ہوجائیں اور مجھ سے سوال کریں، پس میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کر دوں تو اس سے میرے خزانے اور بادشاہی میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے ' فَسُبْحَانَہُ وَ تَعَالَی الْغَنِیُّ الْحمِیْدُ '۔

📖 القرآن الکریم

(آیت8){وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا …:} یعنی اگر تم اور زمین و آسمان کے تمام لوگ ناشکری کرو تو اس ناشکری کا نقصان خود تمھی کو پہنچے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا، اسے نہ تمھارے شکر کی ضرورت ہے اور نہ تمھاری ناشکری کی پروا۔ اس کی ذات ہر تعریف کی حامل ہے، چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُوْنِيْ، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلاَّ كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷ ] ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے، تمھارے پچھلے اور تمھارے انسان اور تمھارے جن تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والے آدمی کے دل والے ہو جائیں تو یہ چیز میری سلطنت میں کسی شے کا اضافہ نہیں کرے گی اور اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جن تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل والے ہو جائیں تو یہ چیز میری سلطنت میں کسی شے کی کمی نہیں کرے گی اور اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے، تمھارے پچھلے اور تمھارے انسان اور تمھارے جن ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں، پھر مجھ سے مانگیں اور میں ہر شخص کو جو اس نے مانگا ہے دے دوں تو یہ چیز اس میں سے جو میرے پاس ہے کچھ کمی نہیں کرے گی، مگر جتنا سوئی جب وہ سمندرمیں داخل کی جائے۔“
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →