بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 7
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 7
آیت نمبر: 7 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾
اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے"
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،
اور یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تمہیں مطلع کر دیا تھا کہ اگر (میرا) شکر ادا کروگے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر کفرانِ نعمت (ناشکری) کروگے تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔
اور جب تمھارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اولاد کا قاتل ٭٭

فرمان الٰہی کے مطابق موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں، مثلاً قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بے وقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جیسے فرمان ہے «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:168] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا ‘۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ’ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی ‘۔ جیسے «وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏، میں۔ پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی۔ حدیث میں ہے { بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے }۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کھجور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی کھجور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا }۔ اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو } }۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف] ‏‏‏‏ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بے نیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔ چنانچہ فرمان ہے «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [39-الزمر:7] ‏‏‏‏ ’ تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «كَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» ۱؎ [64-التغابن:6] ‏‏‏‏ ’ انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقاً بے نیازی برتی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں حدیثِ قدسی ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بھی نہ گھٹے گا ‘۔ ’ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو ‘ }۔ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔

📖 احسن البیان

7۔ 1 اس نے تمہیں اپنے وعدے سے تمہیں آگاہ اور خبردار کردیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قسم کے معنی میں ہو یعنی جب تمہارے رب نے اپنی عزت و جلال اور کبریائی کی قسم کھا کر کہا (ابن کثیر) 7۔ 2 نعمت پر شکر کرنے پر مذید انعامات سے نوازوں گا، 7۔ 3 اس کا مطلب یہ ہوا کہ کفران نعمت (ناشکری) اللہ کو ناپسند ہے، جس پر اس نے سخت عذاب کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی (صحیح مسلم)

📖 القرآن الکریم

(آیت7) ➊ { وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ: ”آذَنَ يُؤْذِنُ“} کا معنی اطلاع دینا، اعلان کرنا ہے۔ باب تفعل میں جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”صاف اعلان کر دیا۔“ ➋ { لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ:} کیونکہ کسی کے بھی احسان کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ادا کرنے سے اس کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا توکہنا ہی کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللّٰهِ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ وَعَدَ اللّٰهُ الْجَنَّةَ ] [ مسلم، اللعان: ۱۴۹۹ ] ”کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنی تعریف پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔“ جب اللہ تعالیٰ کو زبانی شکر اتنا پسند ہے تو عملاً شکر اور اطاعت پر اس کی نوازش کس قدر ہو گی۔ ➌ { وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ:} اس کا جواب تو یہ تھا {”لَأُعَذِّبَنَّكُمْ“} کہ اگر تم کفر کرو گے تو میں تمھیں ضرور عذاب دوں گا، مگر اسے حذف کرکے ایسا جملہ استعمال فرمایا جو اس جملے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نہایت شدت کو بھی، یعنی فرمایا: «{وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ }» اور یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے۔
← پچھلی آیت (6) پوری سورۃ اگلی آیت (8) →