بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 35
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 35
آیت نمبر: 35 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجۡنُبۡنِیۡ وَ بَنِیَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے دعا کی تھی کہ "پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا
(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے، اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا
اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے (بارگاہ ایزدی میں) دعا کی تھی اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ) کو امن کی جگہ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچا کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حرمت وعظمت کا مالک شہر ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ السلام اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ‘۔ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» ۱؎ [29-العنکبوت:67] ‏‏‏‏۔ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ» «فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ [3-آل عمران:96-97] ‏‏‏‏ ’ سب سے پہلا با برکت اور با ہدایت اللہ کا گھر مکے شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن و امان میں آ گیا ‘۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ ”اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔‏‏‏‏“ اسی لیے فرمایا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» ۱؎ [14-ابراھیم:39] ‏‏‏‏ ’ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے ‘۔ اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ علیہ السلام نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [2-البقرة:126] ‏‏‏‏۔ پس اس دعا میں «بَلَدَ» پر لام نہیں ہے، اس لیے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ «بلد» کو معرف بلام لائے۔ سورۃ البقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔ پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ علیہ السلام بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کرے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔ { حضور علیہ السلام نے خلیل اللہ کا یہ قول اور روح اللہ کا قول آیت «اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [5-المائدة:118] ‏‏‏‏، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کر دیں گے ناراض نہ کریں گے۔ [صحیح مسلم:202] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

35۔ 1 ' اس شہر ' سے مراد مکہ ہے۔ دیگر دعاؤں سے قبل یہ دعا کی کہ اسے امن والا بنا دے، اس لئے کہ امن ہوگا تو لوگ دوسری نعمتوں سے بھی صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں گے، ورنہ امن و سکون کے بغیر تمام آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود، خوف اور دہشت کے سائے انسان کو مضطرب اور پریشان رکھتے ہیں۔ جیسے آجکل کے عام معاشروں کا حال ہے۔ سوائے سعودی عرب کے۔ وہاں اس دعا کی برکت سے اور اسلامی حدود کے نفاذ سے آج بھی ایک مثالی امن قائم ہے۔ صانھا اللہ عن الشرور والفتن۔ یہاں انعامات الہیہ کے ضمن میں اسے بیان فرما کر اشارہ کردیا کہ قریش جہاں اللہ کے دیگر انعامات سے غافل ہیں اس خصوصی انعام سے بھی غافل ہیں کہ اس نے انھیں مکہ جیسے امن والے شہر کا باشندہ بنایا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت35) ➊ {وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ …:} عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام کا ان کے جد اعلیٰ اسماعیل علیہ السلام کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام نے کن تمناؤں کے ساتھ تمھیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اس شہر کے پرامن بنانے کی اور اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی، مگر آج تم ان احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو اپنا دین قرار دے دیا۔ ➋ { اٰمِنًا:} یہ {”ذَا اَمْنٍ“} (امن والا) کے معنی میں ہے، جیسے {”لَابِنٌ“} (دودھ والا) اور {”تَامِرٌ“} (کھجور والا) ہے۔ سورۂ بقرہ(۱۲۶) میں {” هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا “} اور یہاں {” هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا “} میں فرق یہ ہے کہ سورۂ بقرہ میں {”هٰذَا“} پہلا مفعول اور {” بَلَدًا اٰمِنًا “} دوسرا مفعول ہے، جب کہ یہاں { ” هٰذَا الْبَلَدَ “} پہلا مفعول اور{ ”اٰمِنًا“} دوسرا مفعول ہے۔ دونوں جگہ ترجمے کا فرق ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورۂ بقرہ (۱۲۶) میں موجود پہلی دعا {” رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا “} اس وقت کی ہے جب شہر نہیں بنا تھا، تو دعا کی کہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے اور دوسری دعا اس وقت کی جب شہر بن چکا تھا، اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو چکے تھے کہ پروردگارا! اس شہر کو امن والا بنا دے۔ امن ایک بہت بڑی نعمت ہے اور خوف بہت بڑی آزمائش ہے۔ رازی فرماتے ہیں، ایک عالم سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو بیماری اور خوف میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جائے تو آپ کیا اختیار کریں گے؟ انھوں نے فرمایا، میں بیماری کو اختیار کروں گا کہ اس میں آدمی کھا پی اور سو تو سکتا ہے، خوف میں اس سے بھی محروم ہو جاتا ہے، آپ ایک بکری کا تصور کریں جس کی ٹانگ ٹوٹ جائے، وہ کھاتی پیتی رہے گی، سو بھی جائے گی، مگر ایک تندرست بکری جس کے سامنے بھیڑیا ہو، وہ نہ کھا سکے گی، نہ پی سکے گی اور نہ آرام کر سکے گی، حتیٰ کہ نوبت موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورۂ قریش میں بھوک سے کھلانے اور خوف سے امن دینے کی نعمت کا ذکر فرما کر قریش کو خاص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ ➌ {وَ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ: ”جَنَبَ يَجْنُبُ“} یہ ”نصر“ سے اور افعال اور تفعیل سے ایک ہی معنی میں آتا ہے۔ ”صنم“ اس پتھر یا لکڑی یا کسی دھات کے بنائے ہوئے بت، تصویر یا مجسمے کو کہتے ہیں جو کسی انسان یا فرشتے یا دیوتا کی حقیقی یا خیالی صورت پر پوجا کے لیے بنایا گیا ہو، جب کہ ”وثن“ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہو، خواہ قبر ہو یا درخت یا دریا یا بت یا کوئی جانور یا انسان وغیرہ۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم اور اپنے والد کی صنم پرستی اور اس پر اصرار اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس لیے وہ اپنے یا اپنی اولاد کے اس میں مبتلا ہونے سے سخت خوف زدہ تھے، سو انھوں نے یہ دعا کی۔ {”بَنِيَّ “} میں ساری اولاد شامل ہے، جیسے بنی آدم یا بنی اسرائیل۔ بیٹوں کی حد تک تو دعا قبول ہوئی، مگر ساری اولاد کے حق میں بعینہٖ قبول نہیں ہوئی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ }» [ الصافات: ۱۱۳ ] ”اور ان دونوں (ابراہیم اور اسحاق) کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔“ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کا مالک ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق دعا کرنے والے کی دعا کا جتنا حصہ چاہتا ہے اس کی خواہش کے مطابق پورا کر دیتا ہے اور جو حصہ چاہتا ہے کسی اور صورت میں عطا کر دیتا ہے۔ دعا کسی صورت بھی ضائع نہیں جاتی، البتہ مرضی اسی کی چلتی ہے، کسی دوسرے حتیٰ کہ انبیاء کی بھی نہیں۔ ہمیں بھی ہر وقت اس بات کی فکر رہنی چاہیے کہ ہم یا ہماری اولاد کسی طرح شرک میں مبتلا نہ ہو جائیں، ہمیں اپنی اولاد کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور اسے توحید کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔
← پچھلی آیت (34) پوری سورۃ اگلی آیت (36) →