بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 34
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾
جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے
اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے۔ اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے۔ یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے
اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے
اور جس نے تمہیں ہر چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے بے شک انسان بڑا ظالم اور بڑا ناشکرا ہے۔
اور تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بلاشبہ انسان یقینا بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب کچھ تمہارا مطیع ہے ٭٭

اللہ کی طرح طرح کی بےشمار نعمتوں کو دیکھو، آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کر دیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-یس:40] ‏‏‏‏ ’ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا ‘۔ «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ‏‏‏‏ ’ دن رات انہی کے آنے جانے سے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے ‘۔ «يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:29] ‏‏‏‏ ’ کبھی دنوں کو بڑے کر دیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لیے مہیا کر دی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بغیر مانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے ‘۔

طلق بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔‏‏‏‏“ صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ { اے اللہ تیرے ہی لیے سب حمد و ثنا سزاوار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بے پرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما } }۔ [صحیح بخاری:5459] ‏‏‏‏ بزار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ ’ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے ‘، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہو جائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کر لے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں } }۔ [مسند بزار، 3444:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ جواب ملا کہ ’ داؤد! اب تو شکر ادا کر چکا جب کہ تونے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کر لیا کہ تو میری نعمتوں کی شکر کی ادائیگی سے قاصر ہے ‘۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ ہی کیلئے تو حمد ہے، جس کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہو جاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر بھی پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔‏‏‏‏“ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے «لَوْ كُلُّ جَارِحَةٍ مِنِّي لَهَا لُغَةٌ تُثْنِي» «عَلَيكَ بِمَا أَوْلَيتَ مِنْ حَسَنِ» «لَكَانَ مَا زَادَ شُكْرِي إِذْ شَكَرْتُ بِهِ» «إِلَيْكَ أَبْلُغَ فِي الْإِحْسَانِ وَالْمِنَنِ» کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہو سکتا تیرے احسانات اور انعامات بےشمار ہیں۔

📖 احسن البیان

34۔ 1 یعنی اس نے تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں مہیا کیں جو تم اس سے طلب کرتے ہو، وہ بھی دیتا ہے اور جسے نہیں مانگتے، لیکن اسے پتہ ہے کہ وہ تمہاری ضرورت ہے، وہ بھی دے دیتا ہے۔ غرض تمہیں زندگی گزارنے کی تمام سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ 34۔ 2 یعنی اللہ کی نعمتیں ان گنت ہیں انھیں کوئی شمار میں نہیں لاسکتا۔ چہ جائیکہ کوئی ان نعمتوں کے شکر کا حق ادا کرسکے۔ ایک اثر میں حضرت داؤد ؑ کا قول نقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ' اے رب! میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں؟ جب کہ شکر بجائے خود تیری طرف سے مجھ پر ایک نعمت ہے ' اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اے داؤد اب تو نے میرا شکر ادا کردیا جب کہ تو نے اعتراف کرلیا کہ یا اللہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں ' (تفسیر ابن کثیر) 34۔ 3 اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے غفلت کی وجہ سے انسان اپنے نفس کے ساتھ ظلم اور بےانصافی کرتا ہے۔ بالخصوص کافر، جو بالکل ہی اللہ سے غافل ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت34) ➊ {وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ:} یعنی یہ سب کچھ اور بہت کچھ تمھارے مانگے بغیر دیا۔ علاوہ ازیں جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے بھی جتنا چاہا اس نے تمھیں دیا۔{ ” مِنْ “ } تبعیضیہ ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ زبان حال یا قال سے تم نے جو مانگا، یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے تمھاری حالت جو تقاضا کرتی تھی اور جو بھی تمھاری ضرورت ہو سکتی تھی اس نے اس میں سے جتنا چاہا تمھیں دیا۔ ➋ {وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا:} یعنی مختصر طور پر بھی نہیں گن سکو گے، کجا یہ کہ تم لا محدود نعمتوں کو شمار کر سکو، تو سوچو تم اس کا شکر کس طرح ادا کر سکتے ہو۔ (شوکانی) {” كَفَّارٌ “} بہت ناشکرا۔ {”اَحْصٰي يُحْصِيْ اِحْصَاءً“} (افعال) شمار کرنا، کیونکہ {”اَلْحَصٰي“} کا معنی کنکری ہے اور عرب کنکریوں کے ذریعے سے شمار کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ کنکریوں سے محدود شمار ہی ہو سکتا ہے۔ ➌ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ:} انسان پر اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں اور ہر آن ہوتے رہتے ہیں، مگر وہ ہے کہ ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو ناشکری پر اتر آتا ہے۔ {” لَظَلُوْمٌ “} سے یہی مراد ہے، یا {” الْاِنْسَانَ “} میں الف لام عہد کا ہے اور مراد کافر انسان ہے کہ وہ اللہ کا حق دوسروں کو دے کر، یعنی غیر اللہ کی عبادت کرکے بہت بڑا ظلم کر رہا ہے۔ فرمایا: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ }» [لقمان: ۱۳ ] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“ کیونکہ ظلم کا معنی ہے {” وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهِ“} کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھ دینا۔ تو کافر انسان اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے نہ اس کی عبادت کرتا ہے نہ اطاعت بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو مخلوق کے احسانات شمار کرتا ہے، کبھی کسی کو جھولی بھرنے والا کہتا ہے، کبھی کسی کو داتا کہتا ہے، کبھی کسی کو دستگیر، کبھی کسی کو مشکل کشا۔{” الْاِنْسَانَ “} سے مراد یہاں کافر انسان ہونے کی دلیل اس سلسلۂ آیات کی ابتدا بھی ہے، فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (28) جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَ بِئْسَ الْقَرَارُ }» [ إبراہیم: ۲۸، ۲۹ ] ”کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا، جہنم میں، وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔“ یہ اس کی زبردست ناشکری ہے۔ اے کافر انسان! افسوس تیری اس کافری اور ناشکری پر۔ کاش! تو اپنے اصل داتا اور دستگیر کا احسان مانتا، اسی کا شکر ادا کرتا: بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →