بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 91
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 91
آیت نمبر: 91 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡا یٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَہُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡنَا ضَعِیۡفًا ۚ وَ لَوۡ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمۡنٰکَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡنَا بِعَزِیۡزٍ ﴿۹۱﴾
انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو"
انہوں نے کہا اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں، اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تو تجھے سنگسار کر دیتے، اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے
بولے اے شعیب! ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں،
ان لوگوں نے کہا اے شعیب! تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے درمیان ایک کمزور آدمی دیکھتے ہیں اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے۔ اور تم ہم پر غالب نہیں ہو۔
انھوں نے کہا اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تجھے سنگسار کر دیتے اور تو ہم پر ہرگز کسی طرح غالب نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب ٭٭

قوم مدین نے کہا کہ ”اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں۔‏‏‏‏“ سعید رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ ”آپ علیہ السلام کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ علیہ السلام بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔‏‏‏‏“ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ علیہ السلام کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ علیہ السلام کے کنبے والے بھی آپ علیہ السلام کے دین پر نہ تھے۔‏‏‏‏“ کہتے ہیں کہ ”اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کر دیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔‏‏‏‏“ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”بھائیو! تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑتے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

91۔ 1 یہ یا تو انہوں نے بطور مذاق تحقیر کہا درآنحالیکہ ان کی باتیں ان کے لئے ناقابل فہم نہیں تھیں۔ اس صورت میں یہاں فہم کی نفی مجازا ہوگی۔ یا ان کا مقصد ان باتوں کے سمجھنے سے معذوری کا اظہار ہے جن کا تعلق غیب سے ہے۔ مثلا بعث بعدالموت، حشر نشر، جنت و دوزخ وغیرہ اس لحاظ سے، فہم کی فنی حقیقتا ہوگی۔ 91۔ 2 یہ کمزوری جسمانی لحاظ سے تھی، جیسا کہ بعض کا خیال ہے کہ حضرت شعیب ؑ کی بینائی کمزور تھی یا وہ نحیف و لاغر جسم کے تھے یا اس اعتبار سے انھیں کمزور کہا کہ وہ خود بھی مخالفین سے تنہا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ 91۔ 3 حضرت شعیب ؑ کا قبیلہ کہا جاتا ہے کہ ان کا مددگار نہیں تھا، لیکن وہ قبیلہ چونکہ کفر و شرک میں اپنی ہی قوم کے ساتھ تھا، اس لئے اپنے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے اس قبیلے کا لحاظ، بہرحال حضرت شعیب ؑ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے اور انھیں نقصان پہنچانے میں مانع تھا۔ 91۔ 4 لیکن چونکہ تیرے قبیلے کی حیثیت بہرحال ہمارے دلوں میں موجود ہے، اس لئے ہم درگزر سے کام لے رہے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 91) ➊ {قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ …: ” فَقِهَ يَفْقَهُ “} (ع) متکلم کی بات کا مطلب سمجھنا۔ یہ بات انھوں نے استہزا اور تحقیر، یعنی شعیب علیہ السلام اور ان کے کلام کو بے وقعت قرار دینے کے لیے کہی، یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہو چکے تھے کہ شعیب علیہ السلام کی سیدھی باتیں بھی واقعتا ان کے ذہن میں نہیں آتی تھیں، حالانکہ شعیب علیہ السلام نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا، بلکہ شعیب علیہ السلام کی گفتگو سے صاف پتا چل رہا ہے کہ وہ کتنے بڑے فصیح اللسان خطیب تھے۔ مفسر ابوالسعود کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ بات کہ ”ہم تیری بات کا مطلب ہی نہیں سمجھتے“ اس وقت کہی جب وہ بہترین اور بلیغ ترین طریقے سے شعیب علیہ السلام سے حق اور اس کے ایسے واضح دلائل سن چکے جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اب اس سے آگے ان کے پاس کوئی بات باقی ہی نہ تھی جو وہ کہہ سکتے، تو جس طرح کوئی بندہ لاجواب ہو کر بدزبانی، گالی گلوچ اور دھمکیوں پر اتر آتا ہے، یہی کام انھوں نے کیا۔ ➋ { وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا:} یعنی نہ تیرے پاس فوج ہے، نہ حکومت اور نہ کرّو فر۔ ➌ { وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ: } جو ہمارے دین پر ہیں، لیکن تیری پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ➍ {وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ: ”عَزِيْزٌ“} معزز، محبوب اور قوی، یعنی تو ہم پر کسی طرح بھی عزیز نہیں ہے، نہ ہم تمھاری کچھ عزت سمجھتے ہیں، نہ ہمیں تجھ سے کوئی محبت ہے اور نہ تو ہم سے طاقت میں بڑھ کر ہے۔ غرض تجھے سنگسار کرنا ہمیں کچھ بھی مشکل نہیں، اگر تیرے قبیلے کے لوگ جو ہمارے ہی دین پر ہیں، تیری پشت پر نہ ہوتے تو ہم ضرور تجھے سنگسار کر دیتے۔ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئیں بالکل وہی صورت حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ معظمہ میں درپیش تھی۔ قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور ہر ممکن طریقے سے آپ کی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ بنو ہاشم آپ کی پشت پر تھے اور خاص طور پر آپ کے چچا ابوطالب آپ کی پوری طرح حفاظت کر رہے تھے، اس لیے قریش کو آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہو سکی۔
← پچھلی آیت (90) پوری سورۃ اگلی آیت (92) →