بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 74
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 74
آیت نمبر: 74 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
فَلَمَّا ذَہَبَ عَنۡ اِبۡرٰہِیۡمَ الرَّوۡعُ وَ جَآءَتۡہُ الۡبُشۡرٰی یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۴﴾
پھر جب ابراہیمؑ کی گھبراہٹ دور ہو گئی اور (اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہو گیا تو اس نے قوم لوط کے معاملے میں ہم سے جھگڑا شروع کیا
جب ابراہیم کا ڈر خوف جاتا رہا اور اسے بشارت بھی پہنچ چکی تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں کہنے سننے لگے
پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا،
جب ابراہیم (ع) کا خوف دور ہوگیا اور انہیں خوشخبری مل گئی تو قومِ لوط(ع) کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے۔
پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی اور اس کے پاس خوش خبری آگئی تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابراہیم علیہ السلام کی بردباری اور سفارش ٭٭

مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کے دل میں جو دہشت سمائی تھی، ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہو گئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوشخبری بھی سن لی۔ «وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:31] ‏‏‏‏ اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی؟ جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر ایک ہی کی نسبت سوال کیا اور یہی جواب ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:32] ‏‏‏‏ ’ پھر اس بستی کو لوط علیہ السلام کی موجودگی میں تم کیسے ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا ہمیں وہاں لوط کی موجودگی کا علم ہے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو اور خاموش ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام بردبار، نرم دل اور رجوع رہنے والے تھے اس آیت کی تفسیر پہلے سورۃ التوبہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کی بہترین صفتیں بیان فرمائیں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس گفتگو اور سفارش کے جواب میں فرمان باری ہوا کہ ’ اب آپ علیہ السلام اس سے چشم پوشی کیجئے۔ قضاء حق نافذ و جاری ہوگئی اب عذاب آئے گا اور وہ لوٹایا نہ جائے گا۔

📖 احسن البیان

74۔ 1 اس مجادلہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے فرشتوں سے کہا کہ جس بستی کو تم ہلاک کرنے جا رہے ہو، اسی میں حضرت لوط ؑ بھی موجود ہیں۔ جس پر فرشتوں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ لوط ؑ بھی وہاں رہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے ان کی بیوی کے بچا لیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 74) {فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِيْمَ الرَّوْعُ …:} ابراہیم علیہ السلام کی قومِ لوط سے متعلق بحث فرشتوں سے ہوئی تھی، جیسا کہ سورۂ عنکبوت (۳۲) میں صراحت ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ساتھ جھگڑا فرمایا، کیونکہ فرشتے تو جو کچھ کر رہے تھے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کر رہے تھے۔{” يُجَادِلُنَا “} مضارع کا صیغہ حکایت حال یعنی اس وقت کی منظر کشی کے لیے استعمال فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (73) پوری سورۃ اگلی آیت (75) →