بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 66
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 66
آیت نمبر: 66 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا وَ مِنۡ خِزۡیِ یَوۡمِئِذٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ ﴿۶۶﴾
آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالحؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا بے شک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالا دست ہے
پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا، ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان ﻻنے والوں کو اپنی رحمت سے اس سے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے
پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صا لح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تمہارا رب قومی عزت والا ہے،
پس جب ہمارا حکم (عذاب) آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے دی اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا بے شک پروردگار بڑا طاقتور، بڑا زبردست ہے۔
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بے شک تیرا رب ہی بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف ۱؎ [7-الأعراف:] ‏‏‏‏ میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔

📖 احسن البیان

66۔ ا 1 س سے مراد وہی عذاب ہے جو وعدے کے مطابق چوتھے دن آیا اور حضرت صالح ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کے سوا، سب کو ہلاک کردیا گیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 66تا68) ان آیات کی تفسیر سورۂ اعراف کی آیات (۷۷ تا ۷۹) میں اور سورۂ ہود کے اس سے پچھلے رکوع کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ {” كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا “ ” غَنِيَ يَغْنٰي“} (ع) {” فِيْ مَكَانٍ كَذَا “} جب کوئی شخص لمبی مدت کسی جگہ میں یوں رہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی جگہ سے غنی ہو۔{”مَغْنَي“} مصدر بھی ہے، مکان بھی، یعنی رہنا اور رہنے کی جگہ۔ (مفردات راغب)
← پچھلی آیت (65) پوری سورۃ اگلی آیت (67) →