بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 56
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اِنِّیۡ تَوَکَّلۡتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ ؕ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۵۶﴾
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے
میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے، جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے۔ یقیناً میرا رب بالکل صحیح راه پر ہے
میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے،
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ کوئی بھی چلنے پھرنے والا ایسا جاندار نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضۂ قدرت میں نہ ہو یقینا میرا پروردگار (عدل و انصاف کی) سیدھی راہ پر ہے۔
بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا، جو میرا رب ہے اور تمھارا رب ہے۔ کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر وہ اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے۔ بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم ہود کے مطالبات ٭٭

قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔ یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔‏‏‏‏“

”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

📖 احسن البیان

56۔ 1 یعنی جس ذات کے ہاتھ میں ہر چیز کا قبضہ و تصرف ہے، وہی ذات ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے میرا توکل اسی پر ہے۔ مقصد ان الفاظ سے حضرت ہود ؑ کا یہ ہے کہ جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان پر بھی اللہ ہی کا قبضہ و تصرف ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ جو چاہے کرسکتا ہے، وہ کسی کا کچھ نہیں کرسکتے۔ 56۔ 2 یعنی وہ جو توحید کی دعوت دے رہا ہے یقیناً یہ دعوت ہی صراط مستقیم ہے اس پر چل کر نجات اور کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہو اور اس صراط مستقیم سے اعراض انحراف تباہی و بربادی کا باعث ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 56) ➊ {اِنِّيْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيْ وَ رَبِّكُمْ:} یہ جرأت ہود علیہ السلام میں کیسے پیدا ہوئی؟ وہ خود فرماتے ہیں کہ میرا بھروسا اللہ پر ہے، جو میرا رب ہے اور تمھارا رب ہے۔ ➋ {مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا:نَاصِيَةٌ “} پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں، اگر کسی کو یہاں سے اچھی طرح پکڑ لیا جائے تو وہ ہل نہیں سکتا، بلکہ پوری طرح پکڑنے والے کی گرفت میں ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ }» [ العلق: ۱۵ ] ”تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔“ مجرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنی علامت کے ساتھ پہچانے جائیں گے: «{ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِ }» [ الرحمٰن: ۴۱ ] ”پھر (ان کو) پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔“ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرعی عقیدے اور شرعی احکام میں تمھیں اختیار دیا ہے کہ مانو گے تو انعام پاؤ گے، نہ مانو گے تو مارے جاؤ گے۔ اس پر تم اکڑ گئے اور اپنے آپ کو ہر طرح مرضی کا مالک سمجھ لیا۔ سب سے پہلے تو شرعی احکام پر عمل میں اختیار دینے والے مالک کی غداری کرکے اس کی مخلوق کو اس کے شریک بنا بیٹھے، پھر اس کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، اس کے رسول کو جھٹلایا، یہ نہ سوچا کہ تھوڑا سا اختیار رکھنے کے باوجود صرف تم ہی نہیں بلکہ پوری مخلوق مکمل طور پر اس کی گرفت میں ہے اور اس کی پیشانی کے بال اس نے پکڑ رکھے ہیں، وہ اس کی مرضی کے بغیر ہل بھی نہیں سکتے۔ اب تم جس طرح شرعی احکام میں اپنا اختیار غلط استعمال کرتے ہوئے اکڑ کر کہتے ہو، ہم اللہ کو نہیں مانتے، ہمارا داتا فلاں اور دستگیر فلاں ہے، ہم رسول کو نہیں مانتے، ہمارا سائیں مرشد فلاں ہے، اگر واقعی تم ایسے ہی آزاد ہو تو ان احکام پر بھی اکڑ کر دکھاؤ جن میں وہ {”كُنْ“} کہتا ہے تو وہ فوراً واقع ہو جاتے ہیں۔ جب بیمار ہوتے ہو تو یہ کہہ کر دکھاؤ کہ کوئی ہمیں بیمار نہیں کر سکتا، کوئی ہمیں بوڑھا نہیں کر سکتا، کوئی ہمارے بال سفید نہیں کر سکتا۔ اگر تم اور تمھارے خدا ایسے ہی زبردست ہیں تو اللہ کے حکم سے دل کی حرکت رکنے پر اسے چالو کر کے دکھاؤ۔ اسی طرح موت کے وقت بھی اکڑ جاؤ کہ جاؤ ہم نہیں مرتے۔ یا تمھارے شریک کہیں ہم اپنے بندے کو مرنے نہیں دیں گے۔ معلوم ہوا کہ تم اس تھوڑے سے اختیار کے باوجود مکمل طور پر میرے رب کے مکمل قبضے میں ہو، پھر جب خود اس نے مجھے بھیجا ہے اور وہ میرا پشت پناہ ہے اور اسی پر میرا بھروسا ہے، تو مجھے تمھارا کیا ڈر ہے، جاؤ جو مرضی کر لو۔ ➌ {اِنَّ رَبِّيْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ ”جو سیدھی راہ پر چلے وہ اس سے ملے۔“ (موضح) سورۂ نحل میں فرمایا: «{ وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَ مِنْهَا جَآىِٕرٌ }» [ النحل: ۹ ] ”اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا ہے) اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔“ دوسرا یہ کہ اگرچہ ہر جاندار پر اس کا قبضہ ہے اور وہ اس کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کر سکتا ہے، مگر وہ صراط مستقیم پر ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →