بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 54
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 54
آیت نمبر: 54 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَرٰىکَ بَعۡضُ اٰلِہَتِنَا بِسُوۡٓءٍ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اُشۡہِدُ اللّٰہَ وَ اشۡہَدُوۡۤا اَنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے" ہودؑ نے کہا "میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں
بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواه کرتا ہوں اور تم بھی گواه رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو
ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو،
ہم تو بس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی خدا نے آپ کو کچھ (دماغی) نقصان پہنچا دیا ہے۔ انہوں (ہود) نے ان لوگوں کو کہا کہ میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں۔ اور تم بھی گواہ رہو۔ کہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم نے (حقیقی خدا کو چھوڑ کر) اس کا شریک بنا رکھا ہے۔
ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم ہود کے مطالبات ٭٭

قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔ یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔‏‏‏‏“

”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

📖 احسن البیان

54۔ 1 یعنی تو جو ہمارے معبودوں کی توہین اور گستاخی کرتا ہے کہ یہ کچھ نہیں کرسکتے، معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معبودوں نے تیری اس گستاخی پر تجھے کچھ کہہ دیا ہے اور تیرا دماغ ماؤف ہوگیا ہے۔ جیسے آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی اس قسم کے توہمات کا شکار ہیں جب انھیں کہا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ اشخاص اور بزرگ کچھ نہیں کرسکتے، تو کہتے ہیں کہ ان کی شان میں گستاخی ہے اور خطرہ ہے کہ اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کا وہ بیڑا غرق کردیں۔ نعوذ باللہ من الخرافات والاکاذیب۔ 45۔ 2 یعنی ان تمام بتوں اور معبودوں سے بیزار ہوں اور تمہارا یہ عقیدہ کہ انہوں نے مجھے کچھ کردیا ہے، بالکل غلط ہے، ان کے اندر یہ قدرت ہی نہیں کہ کسی کا مافوق الا سباب طریقے سے نفع یا نقصان پہنچا سکیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 55،54) ➊ { اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ: } یہ چوتھی بات ہے جو انھوں نے ہود علیہ السلام کو جھٹلانے کے ساتھ مزید توہین اور مذاق کے لیے کہی۔ {”عَرَا يَعْرُوْ “} اور {”اِعْتَرٰي يَعْتَرِيْ“} پیش آنا، پہنچنا، باء کے ساتھ متعدی ہو کر پہنچانا کے معنی میں ہو گیا، یعنی ہمارے کسی ایک آدھ معبود نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے، جو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے، اگر سب کی مار پڑ جاتی تو معلوم نہیں تیرا کیا بنتا۔ افسوس! یہی کسی بزرگ کی مار کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے، حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔ ➋ { قَالَ اِنِّيْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ …:} یعنی میرا تمھارے ان بتوں سے اور اللہ کے سوا کسی معبود سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ میں ہر آن ان کا انکار اور ان سے اظہار براء ت کرتا ہوں۔ ➌ {فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ:} یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ تم پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑ گئی ہے تو ایک آدھ کے بجائے اگر تم اور تمھارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں، ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمھارے یہ معبود بھی غلط۔ ہود علیہ السلام کا یہ کلام ان کی قوم کی دوسری فضول باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی جواب ہے کہ تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل، یعنی معجزہ نہیں لایا۔ معجزہ اور نشانی کیا چیز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر معجزہ کی روح وہ چیلنج ہوتا ہے جو صاحب معجزہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، ابراہیم علیہ السلام کا معجزہ ان کے لیے آگ کا گلزار بن جانا، مگر یہ معجزہ بھی کیا کم ہے کہ اکیلا شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے کہ میں تم سب کو اور تمھارے خداؤں کو کچھ نہیں سمجھتا۔ تم سب مل کر میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور اس قوم کو للکار رہا ہے جو نہایت سخت گیر اور رحم سے نا آشنا تھے، جن کے بارے میں آتا ہے: «{وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ }» [ الشعراء:۱۳۰] ”اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اتنی قوت والے تھے کہ ان کے بعد ویسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا: «{ الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ }» [ الفجر: ۸] ”وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔“ جب طوفان سے ہلاک ہوئے تو: «{ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ }» [ الحاقۃ: ۷ ] ”گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے تھے۔“ صرف ایک شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے، جو اس کے خون کی پیاسی ہے، جس کے معبودوں کو اور پوری قوم کو اس نے جاہل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر لو اور پوری قوم باتیں تو بناتی ہے، مگر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکی، یہ کھلا معجزہ نہیں تو کیا ہے؟
← پچھلی آیت (53) پوری سورۃ اگلی آیت (55) →