بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الغاشية — Surah Ghashiyah
آیت نمبر 3
کل آیات: 26
قرآن کریم الغاشية آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ الغاشية islamicurdubooks.com ↗
عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾
سخت مشقت کر رہے ہونگے
(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے
کام کریں مشقت جھیلیں،
سخت محنت کرنے والے (نڈھال اور) تھکے ماندے ہوں گے۔
محنت کرنے والے، تھک جانے والے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

3۔ 1 یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہوگا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کر کے تھکے ہوئے ہونگے یعنی بہت عمل کرتے رہے، لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق بدعات پر مبنی ہونگے، اس لئے عبادت اور سخت اعمال کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چناچہ اس مفہوم کی روح سے حضرت ابن عباس نے (عَمِلَۃ، نَّاصِیَۃ) سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 4،3) ➊ {عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ …:} کافر دنیا میں جتنی محنت بھی کرے وہ قیامت کے دن گردو غبار کی طرح اڑا دی جائے گی۔ (دیکھیے فرقان: ۲۳) یہی حال دکھاوا کرنے والے اور سنت کو چھوڑ کر خود ساختہ عمل کرنے والے کا ہے کہ سخت محنت کے باوجود جہنم میں جائے گا۔ (دیکھیے سورۂ کہف کا آخری رکوع مع تفسیر) اسی مفہوم کے پیشِ نظر ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے {” عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ “} سے مراد نصاریٰ لیے ہیں۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب سورۃ: «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» ، بعد ح: ۴۹۴۱ ] نصرانی راہبوں کی شدید ریاضتیں مشہور ہیں، مگر وہ قیامت کے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ اسی طرح جو لوگ خود ساختہ ورد وظیفے یا عبادتیں کرتے ہیں یا اپنے بنائے ہوئے طریقوں پر عبادت کرتے ہیں، خواہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کریں یا الٹے لٹک کر یا سانس بند کرکے کریں یا مشرکین کی طرح کسی مخلوق کا تصور باندھ کر کریں یا ضربیں لگا کر، اتنی سخت مشقتوں کے باوجود وہ قیامت کے دن ذلیل ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَهْطٌ مِّنْ أَصْحَابِيْ فَيُجْلَوْنَ عَنِ الْحَوْضِ فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ! أَصْحَابِيْ، فَيَقُوْلُ إِنَّكَ لاَ عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰي أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرٰی فَأَقُوْلُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِيْ ] [ بخاري، الرقاق، باب في الحوض: ۶۵۸۵، ۶۵۸۴ ] ”قیامت کے دن میرے ساتھیوں میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی، پھر انھیں حوض سے روک دیا جائے گا تو میں کہوں گا: ”اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں شروع کر دی تھیں، بلاشبہ یہ لوگ ایڑیوں کے بل الٹے لوٹ گئے تھے۔ “ تو میں کہوں گا: ”پھر جس نے میرے بعد تبدیلی کر دی اسے مجھ سے دور لے جاؤ، اسے مجھ سے دور لے جاؤ۔“ ➋ {تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً:حَامِيَةً”حَمِيَ يَحْمٰي حَمْيًا“(س) ”اَلنَّارُ“} (آگ کا سخت گرم ہونا) سے اسم فاعل مؤنث ہے، سخت گرم۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →