بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الغاشية
سورۃ الغاشية — 26 آیات
قرآن کریم Surah 88
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہیں (کائنات پر) چھا جانے والی (مصیبت یعنی قیامت) کی خبر پہنچی ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی کی خبر پہنچی؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے (1)۔
(آیت 2،1) {هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ …: ” الْغَاشِيَةِ “ ” غَشِيَ يَغْشٰي“} (س) سے اسم فاعل ہے، ڈھانپ لینے والی۔ مراد قیامت ہے جو ہر چیز پر چھا جائے گی۔
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ چہرے اُس روز خوف زدہ ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن کچھ چہرے ذلیل (اترے ہوئے) ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن کئی چہرے ذلیل ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
4۔ 1 یعنی کافروں کے چہرے، خاشعۃ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل، جیسے نمازی، نماز کی حالت میں عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سخت مشقت کر رہے ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
کام کریں مشقت جھیلیں،
علامہ محمد حسین نجفی
سخت محنت کرنے والے (نڈھال اور) تھکے ماندے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
محنت کرنے والے، تھک جانے والے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
3۔ 1 یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہوگا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کر کے تھکے ہوئے ہونگے یعنی بہت عمل کرتے رہے، لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق بدعات پر مبنی ہونگے، اس لئے عبادت اور سخت اعمال کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چناچہ اس مفہوم کی روح سے حضرت ابن عباس نے (عَمِلَۃ، نَّاصِیَۃ) سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحیح بخاری)
(آیت 4،3) ➊ {عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ …:} کافر دنیا میں جتنی محنت بھی کرے وہ قیامت کے دن گردو غبار کی طرح اڑا دی جائے گی۔ (دیکھیے فرقان: ۲۳) یہی حال دکھاوا کرنے والے اور سنت کو چھوڑ کر خود ساختہ عمل کرنے والے کا ہے کہ سخت محنت کے باوجود جہنم میں جائے گا۔ (دیکھیے سورۂ کہف کا آخری رکوع مع تفسیر) اسی مفہوم کے پیشِ نظر ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے {” عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ “} سے مراد نصاریٰ لیے ہیں۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب سورۃ: «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» ، بعد ح: ۴۹۴۱ ] نصرانی راہبوں کی شدید ریاضتیں مشہور ہیں، مگر وہ قیامت کے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ اسی طرح جو لوگ خود ساختہ ورد وظیفے یا عبادتیں کرتے ہیں یا اپنے بنائے ہوئے طریقوں پر عبادت کرتے ہیں، خواہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کریں یا الٹے لٹک کر یا سانس بند کرکے کریں یا مشرکین کی طرح کسی مخلوق کا تصور باندھ کر کریں یا ضربیں لگا کر، اتنی سخت مشقتوں کے باوجود وہ قیامت کے دن ذلیل ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَهْطٌ مِّنْ أَصْحَابِيْ فَيُجْلَوْنَ عَنِ الْحَوْضِ فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ! أَصْحَابِيْ، فَيَقُوْلُ إِنَّكَ لاَ عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰي أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرٰی فَأَقُوْلُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِيْ ] [ بخاري، الرقاق، باب في الحوض: ۶۵۸۵، ۶۵۸۴ ] ”قیامت کے دن میرے ساتھیوں میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی، پھر انھیں حوض سے روک دیا جائے گا تو میں کہوں گا: ”اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں شروع کر دی تھیں، بلاشبہ یہ لوگ ایڑیوں کے بل الٹے لوٹ گئے تھے۔ “ تو میں کہوں گا: ”پھر جس نے میرے بعد تبدیلی کر دی اسے مجھ سے دور لے جاؤ، اسے مجھ سے دور لے جاؤ۔“ ➋ {تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً:حَامِيَةً”حَمِيَ يَحْمٰي حَمْيًا“(س) ”اَلنَّارُ“} (آگ کا سخت گرم ہونا) سے اسم فاعل مؤنث ہے، سخت گرم۔
تَصۡلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جائیں بھڑکتی آگ میں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ دہکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے (اور جھلسیں گے)۔
عبدالسلام بن محمد
گرم آگ میں داخل ہوں گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تُسۡقٰی مِنۡ عَیۡنٍ اٰنِیَۃٍ ؕ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہیں کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی پلایا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ (فتح القدیر)
(آیت 5){ تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ:اٰنِيَةٍ”أَنٰي يَأْنِيْ إِنًي“} (ض) سے اسم فاعل مؤنث ہے۔
لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خار دار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانے کو نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے
علامہ محمد حسین نجفی
(وہاں) ان کیلئے کوئی کھانا نہ ہوگا سوائے خاردار جھاڑ کے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا مگر ضریع سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
(آیت 6){ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ:ضَرِيْعٍ “} ایک خاردار پودا ہے جو تازہ ہو تو اہل حجاز اسے {”شِبْرِقٌ“} کہتے ہیں اور خشک ہو تو {”ضَرِيْعٌ“} جو سخت زہریلا ہوتا ہے۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، سورۃ: { ہل أتاک… }، بعد ح: ۴۹۴۱ ]
لَّا یُسۡمِنُ وَ لَا یُغۡنِیۡ مِنۡ جُوۡعٍ ؕ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا
احمد رضا خان بریلوی
کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو نہ (انہیں) موٹا کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے کچھ فائدہ دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ } اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏‏‏‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ چہرے اُس روز با رونق ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بہت سے چہرے اس دن تروتازه اور (آسوده حال) ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) کچھ چہرے اس دن تر و تازہ (اور با رونق) ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لِّسَعۡیِہَا رَاضِیَۃٌ ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی کار گزاری پر خوش ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنی کوشش پر خوش ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اپنی کوشش پر راضی
علامہ محمد حسین نجفی
اپنی کاوش و کوشش پر خوش اور مطمئن ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنی کوشش پر خوش۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
عالی مقام جنت میں ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلند وباﻻ جنتوں میں ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بلند باغ میں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) عالیشان جنت میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بلند جنت میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کوئی بیہودہ بات وہاں نہ سنیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جہاں کوئی بیہوده بات نہیں سنیں گے
احمد رضا خان بریلوی
کہ اس میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جہاں وہ کوئی بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں بے ہودگی والی کوئی بات نہیں سنیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11) {لَا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ نبا کی آیت (۳۵) کی تفسیر۔
فِیۡہَا عَیۡنٌ جَارِیَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس میں چشمے رواں ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
جہاں بہتا ہوا چشمہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اس میں رواں چشمہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس میں چشمہ رواں دواں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں ایک بہنے والا چشمہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) {فِيْهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ:عَيْنٌ “} (چشمہ) یہ یا تو اسم جنس ہے اور لفظ واحد ہونے کے باوجود بے شمار بہنے والے چشمے مراد ہیں، یا واحد ہے اور تنوین تعظیم کے لیے ہے، ترجمہ اسی کے مطابق ہے۔
فِیۡہَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
(اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں بلند تخت ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس میں اونچے اونچے تخت (بچھے ہوئے) ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں اونچے اونچے تخت ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) {فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ:} جہاں سے وہ گردو پیش والی ہر چیز کا نظارہ کر رہے ہوں گے۔
وَّ اَکۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ساغر رکھے ہوئے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آبخورے رکھے ہوئے (ہوں گے)
احمد رضا خان بریلوی
اور چنے ہوئے کوزے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جام و ساغر رکھے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رکھے ہوئے آبخورے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14) {وَ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ:اَكْوَابٌ “ ” كُوْبٌ“} کی جمع ہے، وہ پیالے جن کی نہ دستی ہو نہ ٹونٹی۔
وَّ نَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَۃٌ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایک قطار میں لگے ہوئے تکیے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور برابر برابر بچھے ہوئے قالین
علامہ محمد حسین نجفی
اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوئے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور قطاروں میں لگے ہوئے گاؤ تکیے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرور ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ زَرَابِیُّ مَبۡثُوۡثَۃٌ ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہوں گی
احمد رضا خان بریلوی
اور پھیلی ہوئی چاندنیاں
علامہ محمد حسین نجفی
اور طرح طرح کے نفیس فرش و فروش بچھے ہوئے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بچھائے ہوئے مخملی قالین ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طرف سلام ہی سلام ٭٭

اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی ‘۔ جیسے فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا» ۱؎ [19-مريم:62] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے ‘۔ اور فرمایا: «لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ» ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ نہ اس میں بیہودگی ہے، نہ گناہ کی باتیں ‘۔ اور فرمایا ہے «لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا» * «إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:25-26] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ اس میں فضول گوئی سنیں گے، نہ بری باتیں، سوائے سلام ہی سلام کے اور کچھ نہ ہو گا ‘، اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی نہریں بہتی ہوں گی۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور ٹیلوں سے نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و بالا تخت ہیں جن پر بہترین فرش ہیں }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:7408:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ اللہ کے دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے، شراب کے بھرپور جام ادھر ادھر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے، اور تکیے ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادھر ادھر بہترین بستر اور فرش باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں۔

ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہبند چڑھائے جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی بے حساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و بالا محلات ہیں وہ بہتی ہوئی نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے عمدہ پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے وہ سراسر میوہ جات سبزہ راحت اور نعمت ہے وہ تروتازہ بلند و بالا جگہ ہے“، سب لوگ بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے تیاری کریں گے، فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ اونٹ کو (غور سے) نہیں دیکھتے کہ وہ کیونکر پیدا کیا گیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیے گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
17۔ 1 اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہ تھی، اس لیے اللہ نے اس کا تذکرہ کیا یعنی اونٹ کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا اور کتنی قوت و طاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لادھ دو وہ انکار نہیں کرے گا اور تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے لئے، اسکا دودھ تمہارے پینے کے لئے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔
(آیت 17تا20) ➊ { اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ …:} قیامت اور قیامت کے دن جہنمیوں اور جنتیوں کا حال ذکر کرنے کے بعد ان چیزوں کو دیکھنے کی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں اور نہ کسی نے جنت یا جہنم میں جانا ہے تو ان چار چیزوں کو دیکھ لیں۔ اتنی عظیم الشان چیزیں پیدا کرنے والا پروردگار کیا ان لوگوں کو دوبارہ نہیں بنا سکتا؟ ➋ عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اور فطرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئے گی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا لا محدود محکم آسمان، نیچے دیکھے تو صفائی سے بچھی ہوئی وسیع زمین، دائیں بائیں دیکھے تو زمین میں گڑے ہوئے بلند و بالا پہاڑ اور اپنی سواری کو دیکھے تو صحرا کے مطابق بناوٹ رکھنے والا ہفتوں بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا اونٹ، کوئی چیز بھی تو اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں۔ اتنی عظیم مخلوق کے مالک کے لیے اس حقیر انسان کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے جسے پہلے بھی اسی نے پیدا کیا ہے؟
وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بلند کیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
18۔ 1 یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے پانچ سو سال کی مسافت پر پھیر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے اس میں کوئی شگاف اور کجی نہیں نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور پہاڑوں کو، کیسے قائم کیے گئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیونکر کھڑے کئے گئے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے نصب کیے گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
19۔ 1 یعنی کس طرح اس کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑھ دیا تاکہ زمین حرکت نہ کرے، نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین کو، کیسے بچھائی گئی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
20۔ 1 یعنی کس طرح اسے ہموار کر کے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے وہ اس پر چلتا پھرتا ہے کاروبار کرتا ہے اور فلک بوس عمارتیں بناتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس(اے رسول(ص)) آپ(ص) نصیحت کیجئے (اور سمجھائیے) کہ آپ(ص) نصیحت کرنے (اور سمجھانے) والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
21۔ 1 یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔
(آیت 22،21) {فَذَكِّرْ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ …:} آپ کا کام نصیحت کرنا ہے، زبردستی مسلمان کرنا نہیں، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“
لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم کچھ ان پر کڑ وڑا (ضامن) نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) ان پر داروغہ نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰی وَ کَفَرَ ﴿ۙ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں جو منہ پھیرے اور کفر کرے
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ جو شخص رُوگردانی کرے گا اور کفر کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جس نے منہ موڑا اور انکار کیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24،23) {اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَ …:} مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو منہ موڑ کر کفر پر اصرار کرتا ہے اسے پوچھا ہی نہ جائے، بلکہ اگر وہ کافر ہی رہنا چاہتا ہے تو رہے، مگر مسلمانوں کی حکومت تسلیم کرے، اپنے ہاتھوں سے انھیں جزیہ دے اور اپنی ذلت کا اقرار کرے (یہ دنیا کا عذاب ہے) ورنہ لڑنے کے لیے تیار رہے۔ (دیکھیے توبہ: ۲۹) اور قیامت کو اس کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں غلامی سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آخرت میں آگ سے بڑا عذاب کوئی نہیں، دونوں عذاب اکبر ہیں۔
فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الۡعَذَابَ الۡاَکۡبَرَ ﴿ؕ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا عذاب دے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے اللہ بڑا عذاب دے گا
علامہ محمد حسین نجفی
تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اسے اللہ عذاب دے گا، سب سے بڑا عذاب۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
1۔ 1 یعنی جہنم کا دائمی عذاب۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہماری ہی طرف ان کا پھرنا
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ان کی بازگشت ہماری طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25){ اِنَّ اِلَيْنَاۤ اِيَابَهُمْ: ”إِيَابٌ“آبَ يَؤُوْبُ“} (ن) کا مصدر ہے، لوٹنا۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا حِسَابَہُمۡ ﴿٪۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر بیشک ان کا حساب کتاب ہمارے ذمہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک ہمارے ہی ذمے ان کا حساب ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔ اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔ پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔ غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔

سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔‏‏‏‏“ کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔‏‏‏‏“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12] ‏‏‏‏

بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔ ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
2۔ 1 مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللھم حاسبنا حسابا یسیرا۔ پڑھا جائے، یہ دعا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جو آپ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورة انشقاق میں گزرا لیکن اس کے جواب میں پڑھنا یہ آپ سے ثابت نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔