بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 77
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۷۷﴾
پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ برحق ہے اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن کو اُن برے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرا رہے ہیں، یا (اُس سے پہلے) تمہیں دنیا سے اٹھا لیں، پلٹ کر آنا تو اِنہیں ہماری ہی طرف ہے
پس آپ صبر کریں اللہ کا وعده قطعاً سچا ہے، انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم آپ کو دکھائیں یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے
تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھادیں کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا
آپ(ص) صبر کیجئے یقیناً اللہ کا وعدہ برحق ہے پھر جس (عذاب) کی ہم انہیں دھمکی دیتے رہے ہیں خواہ اس کا کچھ حصہ آپ کو (آنکھوں سے) دکھا دیں یا اس سے پہلے آپ کو دنیا سے اٹھا لیں۔ بہرحال ان سب کی بازگشت تو ہماری طرف ہی ہے (وہ اس سے بچ نہیں سکتے)۔
پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، پھر اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا تجھے اٹھا ہی لیں تو یہ لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہو گیا۔ اور آپ کے دشمن آپ کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہوئے اور آپ کی آنکھیں رب نے ٹھنڈی نہ کر دیں، یا اگر ہم تجھے فوت ہی کر لیں تو بھی ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے ہم انہیں آخرت کے درد ناک سخت عذاب میں مبتلا کریں گے، پھر مزید تسلی کے طور پر فرما رہا ہے کہ تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تیرے سامنے بیان کر دیئے ہیں۔ اور بعض کے قصے ہم نے بیان بھی نہیں کئے جیسے سورۃ نساء میں بھی فرمایا گیا ہے۔ پس جن کے قصے مذکور ہیں دیکھ لو کہ قوم سے ان کی کیسی کچھ نمٹی۔ اور بعض کے واقعات ہم نے بیان نہیں کئے وہ بہ نسبت ان کے بہت زیادہ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے سورۃ نساء کی تفسیر کے موقعہ پر بیان کر دیا ہے۔ واللہ الحمد و المنہ۔

پھر فرمایا یہ ناممکن ہے کہ کوئی رسول اپنی مرضی سے معجزات اور خوارق عادات دکھائے , ہاں اللہ عزوجل کے حکم کے بعد کیونکہ رسول علیہ السلام کے قبضے میں کوئی چیز نہیں۔ ہاں جب اللہ کا عذاب آ جاتا ہے پھر تکذیب و تردید کرنے والے کفار بچ نہیں سکتے۔ مومن نجات پا لیتے ہیں اور باطل پرست باطل کار تباہ ہو جاتے ہیں۔

📖 احسن البیان

77۔ 1 کہ ہم کافروں سے انتقام لیں گے۔ یہ وعدہ جلدی بھی پورا ہوسکتا ہے یعنی دنیا میں ہی ہم ان کی گرفت کرلیں گے یا حسب مشیت الٰہی تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی قیامت والے دن ہم انہیں سزا دیں۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ یہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔ 77۔ 2 یعنی آپ کی زندگی میں ان کو مبتلائے عذاب کردیں چناچہ ایسا ہی ہوا اللہ نے کافروں سے انتقام لے کر مسلمانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی پورا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیر نگیں آگیا۔ 77۔ 3 یعنی اگر کافر دنیاوی مواخذہ و عذاب سے بچ بھی گئے تو آخر میرے پاس ہی آئیں گے جہاں ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 77) ➊ { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} یعنی یہ لوگ جو آپ کو نیچا دکھانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، آپ ان کی ایذا پر صبر کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ یقینا سچا ہے (کہ ہم دنیا اور آخرت میں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد فرماتے ہیں)۔ ہاں، اس میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے اور اس تاخیر میں بھی ہماری کئی حکمتیں ہیں۔ ہمارا یہ وعدہ دو طرح سے پورا ہو سکتا ہے۔ ➋ { فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ …:} ایک یہ کہ ہم آپ کو اس عذاب کا کچھ حصہ دکھا ہی دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر آپ دنیا ہی میں ہماری مدد کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کا عبرتناک انجام دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی، جیسا کہ بدر اور فتح مکہ میں ہوا۔ {” فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ “} کا یہ جواب یہاں مقدر ہے اور سیاق سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم تجھے دنیا میں ان کا انجام دکھانے سے پہلے اٹھا لیں، تب بھی یہ لوگ کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے، بلکہ انھیں ہمارے پاس ہی واپس لایا جائے گا اور وہاں ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہو گا جو آپ کی اور اہلِ ایمان کی نصرت کا ایک اظہار ہو گا۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →