بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 76
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 76
آیت نمبر: 76 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۶﴾
اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا"
(اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والے کی
جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا
(اب تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ پڑے رہنے کیلئے۔ پس کیا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔
جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، پس وہ تکبر کرنے والوں کی بری جگہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اَڑتے ہیں؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [ 77-المرسلات: 15 ] ‏‏‏‏ جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگِ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ» ‏‏‏‏ [ 55-الرحمن: 43، 44 ] ‏‏‏‏۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا «ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ» [ 37- الصافات: 68 ] ‏‏‏‏ کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کیطرف ہے۔

سورۃ الواقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [ 56-سورة الواقعة: 41-44 ] ‏‏‏‏ بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، «ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ» [ 56-سورة الواقعة: 51-56 ] ‏‏‏‏ اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہو گی۔ اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ» [ 44- الدخان: 43-50 ] ‏‏‏‏، یعنی یقیناً گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ، لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریم والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔

ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کر دیئے جائیں گے۔ (‏‏‏‏مجمع الزوائد: [18598] ‏‏‏‏ضعیف)‏‏‏‏‏‏‏‏ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہو گئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کر دیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» [ 6- الانعام: 23 ] ‏‏‏‏ اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بے وجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آ جاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہو جاؤ اب ہمیشہ یہیں پہ رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی ِگرو گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 اس صورت میں قیامت والے دن صرف ایک ہی گروہ ہوتا یعنی اہل ایمان اور اہل جنت کا لیکن اللہ کی حکمت و مشیت نے اس جبر کو پسند نہیں کیا بلکہ انسانوں کو آزمانے کے لئے اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، جس نے آزادی کا صحیح استعمال کیا، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگیا، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اللہ کی دی ہوئی آزادی اور اختیار کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ چناچہ ایسے ظالموں کا قیامت والے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 76) {اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا …: ” اُدْخُلُوْۤا “} کی مناسبت سے{” فَبِئْسَ مَدْخَلُ الْمُتَكَبِّرِيْنَ“} (متکبروں کے داخل ہونے کی جگہ بری) ہونا چاہیے تھا، مگر {” خٰلِدِيْنَ فِيْهَا “} کی مناسبت سے {” فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ “} فرمایا، یعنی وہ متکبرین کے رہنے کی بری جگہ ہے۔ {” مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ “} کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لیے داخل ہونے کا باعث تکبر ہے، جس نے انھیں اللہ کی آیات کو جھٹلانے پر اور ان کے بارے میں جدال پر ابھارا، جس جدال کی مذمت اس سورت کا ایک بنیادی موضوع ہے۔
← پچھلی آیت (75) پوری سورۃ اگلی آیت (77) →