بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 6
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
وَ کَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۘ﴿ؔ۶﴾
اِسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں
اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا کہ وه دوزخی ہیں
اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں،
اور اسی طرح آپ(ص) کے پروردگار کا یہ فیصلہ کافروں پر ثابت ہو چکا کہ وہ سب دوزخی ہیں۔
اور اس طرح ان لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی جنھوں نے کفر کیا کہ بے شک وہی آگ والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏‏‏‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [ 31-لقمان: 24 ] ‏‏‏‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔

طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

6۔ 4 مقصد اس سے اس بات کا اظہار ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں پر تیرے رب کا عذاب ثابت ہوا اور وہ تباہ کردی گئیں اگر یہ اہل مکہ بھی تیری تکذیب اور مخالفت سے باز نہ آئے اور جدل بالباطل کو ترک نہ کیا تو یہ بھی اسی طرح عذاب الہی کی گرفت میں آجائیں گے پھر کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 6){ وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ …:} اس کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ جس طرح پہلی قوموں پر تیرے رب کے عذاب آنے کی بات ثابت ہو چکی اور وہ تباہ و برباد کر دی گئیں، اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان پر بھی تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ آگ میں جانے والے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان قوموں پر دنیا میں جو عذاب آیا اسی پر بس نہیں، بلکہ ان کے متعلق دنیا کے عذاب کی طرح تیرے رب کی یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ آخرت میں بھی وہ آگ میں رہنے والے ہیں۔
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →