بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 5
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۪ وَ ہَمَّتۡ کُلُّ اُمَّۃٍۭ بِرَسُوۡلِہِمۡ لِیَاۡخُذُوۡہُ وَ جٰدَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۵﴾
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا ہے ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اُسے گرفتار کرے اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی
قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی
ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب
ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم نے (نوح(ع) کو) جھٹلایا اور ان کے بعد اور بہت سے گروہوں نے (اپنے رسولوں(ع) کو) جھٹلایا اور ہر امت نے ارادہ کیا کہ اپنے رسول(ع) کو گرفتار کرے (اور پھر شہید کر دے) اور ناحق طریقہ پر جھگڑا کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو شکست دے۔ سو (انجامِ کار) میں نے ان کو پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا (سخت) تھا۔
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد بھی کئی جماعتوں نے اور ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے گرفتار کر لیں اور انھوں نے باطل کے ساتھ جھگڑا کیا، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پھسلا دیں، تو میں نے انھیں پکڑ لیا، پھر میری سزا کیسی تھی؟

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏‏‏‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [ 31-لقمان: 24 ] ‏‏‏‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔

طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

5۔ 1 تاکہ اسے قید یا قتل کردیں یا سزا دیں۔ 5۔ 2 یعنی اپنے رسولوں سے انہوں نے جھگڑا کیا، جس سے مقصود حق بات میں کیڑے نکالنا اور اسے کمزور کرنا تھا۔ 5۔ 3 چناچہ میں نے ان حامیان باطل کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس تم دیکھ لو ان کے حق میں میرا عذاب کس طرح آیا اور کیسے انہیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا یا انہیں نشان عبرت بنادیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊ {كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ …:” الْاَحْزَابُ”حِزْبٌ“} کی جمع ہے، وہ جماعت جو اپنے عقیدے، عمل اور عادت میں ایک جیسی ہو۔ پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو رد کرنے کے لیے جو لوگ بھی جھگڑ رہے ہیں انھیں پہلی قوموں کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ ان سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے اور ان کے بعد عقیدہ، عمل اور عادات میں ان کے ساتھ شامل بہت سی قوموں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ مثلاً عاد، ثمود، اصحاب الایکہ، قوم لوط اور آلِ فرعون وغیرہ۔ یہ تمام اقوام اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے، آخرت کا انکار کرنے اور اپنے نبی کو جھٹلانے میں ایک جیسی تھیں۔ ➋ {وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِيَاْخُذُوْهُ:} یعنی ہر امت نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انھوں نے پکا ارادہ کر لیا کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کر کے اسے جلا وطن کر دیں، یا قتل کر دیں، یا قید رکھیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا: «لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ» [ الشعراء: ۱۱۶ ] ”اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہو جائے گا۔“ اور صالح علیہ السلام کی قوم ثمود نے کہا: «‏‏‏‏تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ» [ النمل: ۴۹ ] ”آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ یقینا ہم سچے ہیں۔“ اور لوط علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا: «لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ» [ الشعراء:۱۶۷] ”اے لوط! بے شک اگر تو باز نہ آیا تو یقینا تو ضرور نکالے ہوئے لوگوں سے ہو جائے گا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی کفار نے ایسی ہی سازش کی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ» [ الأنفال:۳۰ ] ”اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تا کہ تجھے قید کر دیں، یا تجھے قتل کر دیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیرکر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔“ ➌ { وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ: ”أَدْحَضَ يُدْحِضُ“} (افعال) کا معنی پھسلانا ہے، یہاں مراد حق کو باطل ثابت کرنا ہے، یعنی ان لوگوں نے باطل کے ڈھکوسلوں کے ذریعے سے اپنے رسولوں کے ساتھ ناحق جھگڑا اور کج بحثی کی، تاکہ وہ حق کو غلط ثابت کر سکیں۔ چنانچہ کبھی انھوں نے یہ کہا کہ تم کھاتے پیتے ہو اور بشر ہو، پھر کس طرح رسول بن گئے؟ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۴) کبھی نبوت کے ثبوت کے لیے بہت سے نا مناسب مطالبات پیش کر دیتے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۸۹، ۹۳) کبھی مسلمانوں کے فقر اور اپنی دولت کو اپنے حق پر ہونے کی دلیل قرار دیتے۔ دیکھیے سورۂ سبا (۳۵) اور سورۂ انعام (۵۳) ➍ { فَاَخَذْتُهُمْ:} یعنی جب ان اقوام نے اپنے اپنے پیغمبر کو گرفتار کرنے اور اسے قید یا قتل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تو میں نے انھیں پکڑ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے ارادے کرنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ناکام و نامراد کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفاظت مدینہ پہنچا دیا، پھر بدر اور بعد کی جنگوں میں کفر پر ڈٹے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا۔ ➎ { فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ:” عِقَابِ “} اصل میں {”عِقَابِيْ“} ہے، ”یاء“ کو آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے حذف کر دیا اور ”باء“ پر کسرہ باقی رکھا، تاکہ وہ ”یاء“ کے حذف ہونے پر دلالت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو پہلی اقوام کے انجام سے ڈرایا کہ ان کی تباہ شدہ بستیوں کے آثار کو دیکھو کہ میں نے انھیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا رہا؟
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →