بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 59
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 59
آیت نمبر: 59 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۹﴾
یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے
قیامت بالیقین اور بےشبہ آنے والی ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں ﻻتے
بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے
یقیناً قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔
بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل ٭٭

اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [ 46-الأحقاف: 33 ] ‏‏‏‏ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کر دیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقیناً نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ سمجھ سکے؟ تعجب ہے کہ بڑی بڑی چیز تو تسلیم کی جائے اور اس سے بہت چھوٹی چیز کو محال محض مانا جائے، اندھے اور دیکھنے والے کا فرق ظاہر ہے ٹھیک اسی طرح مسلم و مجرم کا فرق ہے۔ اکثر لوگ کس قدر کم نصیحت قبول کرتے ہیں، یقین مانو کہ قیامت کا آنا حتمی ہے پھر بھی اس کی تکذیب کرنے اور اسے باور نہ کرنے سے بیشتر لوگ باز نہیں آتے۔ ایک یمنی شیخ اپنی سنی ہوئی روایت بیان کرتے ہیں قریب قیامت کے وقت لوگوں پر بلائیں برس پڑیں گی اور سورج کی حرارت سخت تیز ہو جائے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 59) ➊ { اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا:} وہ بات جو اس سے پہلی دو آیات میں دلیلوں کے ساتھ بیان فرمائی، اب نہایت صریح الفاظ میں {” اِنَّ “} اور ”لام“ کی تاکید کے ساتھ بیان فرمائی۔ ان دونوں لفظوں کا اکٹھا آنا اہل عرب کے ہاں تاکید کی قوت میں قسم کے برابر ہے۔ پچھلی آیات میں قیامت کے حق ہونے کی دلیلیں ذکر فرمائیں، اب کائنات کے خالق و مالک نے قسم کھا کر فرمایا کہ قیامت آنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قسم کھا کر یہ بات کہنا بجائے خود دلیل ہے اور سب سے بڑی دلیل ہے۔ ➋ {وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} اور لیکن اکثر لوگ اتنی واضح اور سچی بات ماننے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ اسے ماننے کے بعد انھیں اپنی سرکش خواہشوں اور لذتوں کو ترک کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ قیامہ (۵)۔
← پچھلی آیت (58) پوری سورۃ اگلی آیت (60) →