بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 58
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 58
آیت نمبر: 58 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہو جائے اور ایماندار و صالح اور بد کار برابر ٹھیریں مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو
اندھا اور بینا برابر نہیں نہ وه لوگ جو ایمان ﻻئے اور بھلے کام کیے بدکاروں کے (برابر ہیں)، تم (بہت) کم نصیحت حاصل کر رہے ہو
اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں اور نہ وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بدکار کتنا کم دھیان کرتے ہو،
اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں ہو سکتے اور اسی طرح ایماندار اور نیکوکار اور بدکار بھی یکساں نہیں ہو سکتے مگر تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
اور نہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتا ہے اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوںنے نیک اعمال کیے اور نہ وہ جو برائی کرنے والا ہے، بہت کم تم نصیحت حاصل کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل ٭٭

اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [ 46-الأحقاف: 33 ] ‏‏‏‏ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کر دیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقیناً نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ سمجھ سکے؟ تعجب ہے کہ بڑی بڑی چیز تو تسلیم کی جائے اور اس سے بہت چھوٹی چیز کو محال محض مانا جائے، اندھے اور دیکھنے والے کا فرق ظاہر ہے ٹھیک اسی طرح مسلم و مجرم کا فرق ہے۔ اکثر لوگ کس قدر کم نصیحت قبول کرتے ہیں، یقین مانو کہ قیامت کا آنا حتمی ہے پھر بھی اس کی تکذیب کرنے اور اسے باور نہ کرنے سے بیشتر لوگ باز نہیں آتے۔ ایک یمنی شیخ اپنی سنی ہوئی روایت بیان کرتے ہیں قریب قیامت کے وقت لوگوں پر بلائیں برس پڑیں گی اور سورج کی حرارت سخت تیز ہو جائے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

58۔ 1 مطلب ہے جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں، اسی طرح مومن و کافر اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں بلکہ قیامت کے دن ان کے درمیان جو عظیم فرق ہوگا، وہ بالکل واضح ہو کر سامنے آئے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 58) ➊ { وَ مَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ …:} یہ بھی قیامت کی دلیل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اندھا اور بینا برابر نہیں، اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے صالح عمل کیے اور جنھوں نے کفر کیا اور برے عمل کیے، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تو اگر قیامت کا انکار کیا جائے اور اس دن پر ایمان نہ رکھا جائے جس میں سب لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے اور ہر نیک و بد کو اس کی جزا یا سزا ملے گی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بینا و نابینا ایک ہیں اور نیک و بد برابر ہیں۔ بلکہ ایک حساب سے برے اعمال کرنے والا زیادہ فائدے میں ہے کہ وہ ساری عمر من مانی بھی کرتا رہا، دل میں آنے والی ہر بری خواہش بھی پوری کرتا رہا، اس کے باوجود کسی نے نہ اسے پوچھا نہ پوچھے گا کہ تم نے یہ ظلم و تعدی کیوں اختیار کیے رکھی۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہو سکتا، عقل سلیم اس کا انکار کرتی ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ قیامت قائم ہو اور بینا و نابینا برابر نہ ہوں اور نہ ہی نیک و بد یکساں ہوں۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {” وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ “} جمع ہے، جب کہ اس کا مقابل {” وَ لَا الْمُسِيْٓءُ “} واحد ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کے بیان کا حسن ہے کہ ایک لمبی بات کو مختصر الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ایک جانب کے الفاظ ذکر کیے گئے ہیں اور ان کے مقابل حذف کر دیے گئے ہیں۔ اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔ گویا پوری عبارت یہ تھی: {”وَمَا يَسْتَوِي الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ عَمِلُوا الْقَبَائِحَ وَلَا الْمُسِيْءُ وَالْمُحْسِنُ“} یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے صالح عمل کیے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور قبیح عمل کیے، وہ برابر نہیں اور نہ ہی برائی کرنے والا اور نیکی کرنے والا برابر ہیں۔ (مہائمی، کچھ تفصیل کے ساتھ) ➌ { قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ:} منکرین قیامت کو فرمایا، تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو، حالانکہ قیامت کے دلائل بالکل واضح ہیں۔
← پچھلی آیت (57) پوری سورۃ اگلی آیت (59) →