بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 40
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
مَنۡ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا ۚ وَ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۴۰﴾
جو برائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہو گی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا
جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے
جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے گنتی رزق پائیں گے
کوئی برائی کرتا ہے تو اسے بدلہ بھی اس کے برابر ملے گا اور جو کوئی نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو تو یہ بہشت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔
جس نے کوئی برائی کی تو اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت ٭٭

فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بے رعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہو جانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت ابدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا بدلہ تو اس کے برابر ہی دیا جاتا ہے ہاں نیکی کا بدلہ بے حساب دیا جاتا ہے۔ نیکی کرنے والا چاہے مرد ہو۔ چاہے عورت ہو۔ ہاں یہ شرط ہے کہ ہو باایمان۔ اسے اس نیکی کا ثواب اس قدر دیا جائے گا جو بے حد و بے حساب ہو گا۔

📖 احسن البیان

40۔ 1 یعنی برائی کی مثل ہی جزا ہوگی زیادہ نہیں اور اس کے مطابق ہی عذاب ہوگا جو عدل وانصاف کا آئینہ دار ہوگا۔ 40۔ 2 یعنی وہ جو ایمان دار بھی ہوں گے اور اعمال صالحہ کے پابند بھی اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اعمال صالحہ کے بغیر محض ایمان یا ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کی حثییت اللہ کے ہاں کچھ نہیں ہوگی عند اللہ کامیابی کے لیے ایمان کے ساتھ عمل صالح اور عمل صالح کے ساتھ ایمان ضروری ہے۔ 40۔ 3 یعنی بغیر اندازے اور حساب کے نعمتیں ملیں گی اور ان کے ختم ہونے کا بھی اندیشہ نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 40) {مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا …:} یہ دنیا دار الامتحان ہے، اس کے باوجود رحمان و رحیم رب تعالیٰ نے اتنی زبردست رعایت رکھی ہے کہ جو شخص کوئی برائی کرے، اسے صرف اس ایک برائی ہی کا بدلا دیا جائے گا، مگر جو شخص ایمان لا کر کوئی صالح عمل کرے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اس میں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا، انھیں نیکیوں کی جزا بھی دس گنا سے سات سو گنا بلکہ حساب و شمار سے بھی زیادہ دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ برائی کی جزا اتنی ہی دی جائے گی جتنی کسی نے برائی کی ہے اور یہ کہ کافر کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اگر اس نے اپنے خیال میں کوئی نیکی کی بھی ہے تو اس کا اعتبار ایمان کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ عمل صالح کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے اور عمل صالح وہ ہے جس میں نیت درست ہو، یعنی وہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور طریقہ درست ہو، یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →