بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 39
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّ اِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾
اے قوم، یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے
اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے،
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی محض (چند روزہ) فائدہ ہے اور مستقل قیام گاہ تو آخرت ہی ہے۔
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت ٭٭

فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بے رعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہو جانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت ابدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا بدلہ تو اس کے برابر ہی دیا جاتا ہے ہاں نیکی کا بدلہ بے حساب دیا جاتا ہے۔ نیکی کرنے والا چاہے مرد ہو۔ چاہے عورت ہو۔ ہاں یہ شرط ہے کہ ہو باایمان۔ اسے اس نیکی کا ثواب اس قدر دیا جائے گا جو بے حد و بے حساب ہو گا۔

📖 احسن البیان

39۔ 1 جس کی زندگی چند روزہ ہے۔ اور وہ بھی آخرت کے مقابلے میں صبح یا شام کی ایک گھڑی کے برابر۔ 39۔ 2 جس کو زوال اور فنا نہیں، نہ وہاں انتقال اور کوچ ہوگا۔ کوئی جنت میں جائے یا جہنم میں، دونوں کی زندگیاں ہمیشہ کی ہوں گی۔ ایک راحت اور آرام کی زندگی۔ دوسرے عذاب کی زندگی۔ موت اہل جنت کو آئے گی نہ اہل جہنم کو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 39){ يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ …:} مرد مومن نے اپنی بات کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں تمھیں جو راستہ بتاتا ہوں حقیقت میں صحیح راستہ وہی ہے، کیونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا مطمحِ نظر اور ساری تگ و دو صرف دنیا کے لیے ہے، انھوں نے آخرت کی زندگی سے بالکل آنکھیں بند کر رکھی ہیں، حالانکہ دنیا کی زندگی معمولی سا فائدہ ہے، ({مَتَاعٌ} کی تنوین تحقیر کے لیے ہے) جو بہت تھوڑی مدت کے لیے ہے۔ عیش و آرام سے گزرے تو حاصل کچھ نہیں، کیونکہ ناپائدار ہے اور تنگی ترشی سے گزرے تب بھی گزر ہی جائے گی۔ فکر تو آخرت کی زندگی کی کرنی چاہیے جو دائمی اور لازوال ہے، جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ وہاں دنیا کا یہ حقیر سامان کسی کام نہیں آئے گا، بلکہ صالح اعمال کام آئیں گے۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →