بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 39
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ فَمَنۡ کَفَرَ فَعَلَیۡہِ کُفۡرُہٗ ؕ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ اِلَّا مَقۡتًا ۚ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴿۳۹﴾
وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے، اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں
وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے، اور کافروں کے لئے ان کا کفر خساره ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا تو جو کفر کرے اس کا کفر اسی پر پڑے اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان
وہ وہی ہے جس نے تمہیں (گزشتہ لوگوں کا) جانشین بنایا سو جو کوئی کفر کرے گا۔ تو اس کے کفر (کا وبال) اسی پر پڑے گا اور کافروں کا کفران کے پروردگار کے ہاں سوائے قہر و غضبِ الٰہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا اور کافروں کا کفر صرف ان کے خسارے اور گھاٹے میں اضافہ کرتا ہے۔
وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا، پھر جس نے کفر کیا تو اس کا کفر اسی پر ہے اور کافروں کو ان کاکفر ان کے رب کے ہاں ناراضی کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا اور کافروں کو ان کا کفر خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

وسیع العلم اللہ تعالٰی کا فرمان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔

📖 احسن البیان

39۔ 1 یعنی اللہ کے ہاں کفر کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، بلکہ اس سے اللہ کے غضب اور ناراضگی میں بھی اضافہ ہوگا اور انسان کے اپنے نفس کا خسارہ بھی زیادہ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 39) ➊ { هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ:} اس کے انعام اور اپنے کفر اور ناشکری پر غور کرو، اس کا احسان دیکھو کہ اس نے پہلی نسل کو فوت کرکے تمھیں اس کی جگہ زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ (خلیفہ کا مطلب سمجھنے کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳۰) {” اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً “} کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) اگر ہر آنے والی نسل کے ساتھ پہلی تمام نسلیں بھی موجود رہتیں تو زمین میں نہ رہنے کی گنجائش رہتی، نہ ان کی ضروریات پوری ہوتیں۔ اس احسان کا بدلا تم نے یہ دیا کہ اس کی ناشکری کی، اس کا احسان ماننے سے انکار کیا اور اس کے ساتھ شریک بنا لیے، جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا، نہ ان کا زمین کی پیدائش یا ملکیت میں کوئی حصہ ہے اور تم نے انھیں پکارنا شروع کر دیا۔ ➋ { فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ:} تو جو اس نعمت کی ناشکری کرے اور اس کا احسان ماننے اور اس کے احکام تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو اس کی ناشکری اور انکار کا وبال اسی پر پڑے گا، کسی دوسرے کو اس کا کچھ نقصان نہیں۔ ➌ { وَ لَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا …:} یعنی اگر کفار کو ان کے کفر کے باوجود زمین کی خلافت ملی ہوئی ہے اور مال و اولاد اور دوسری نعمتوں کے ساتھ لمبی عمر ملی ہوئی ہے اور ان کی رسی دراز ہے، تو یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر خوش ہے، اس لیے انھیں نعمتیں دیے جا رہا ہے اور نہ یہ سمجھیں کہ وہ اس طرح نفع کا سودا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کافروں کے کفر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے شدید غضب میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے کفر سے ان کا خسارا ہی بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے اور ان کے عذر ختم ہو رہے ہیں۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →