بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 38
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 38
آیت نمبر: 38 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیۡبِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۳۸﴾
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے
بےشک اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیده چیزوں کا، بےشک وہی جاننے واﻻ ہے سینوں کی باتوں کا
بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کا، بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔ یقیناً وہ دلوں کے رازوں سے خوب واقف ہے۔
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں جاننے والا ہے، بے شک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

وسیع العلم اللہ تعالٰی کا فرمان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔

📖 احسن البیان

38۔ 1 یہاں یہ بیان کرنے سے یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ تم دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو کر رہے ہو اور دعوٰی کر رہے ہو کہ اب نافرمانی کی جگہ اطاعت اور شرک کی جگہ توحید اختیار کرو گے۔ لیکن ہمیں علم ہے تم ایسا نہیں کرو گے۔ تمہیں اگر دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو جیسے دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا ' اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا '۔ 38۔ 2 یہ پچھلی بات کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آسمان اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم کیوں نہ ہو، جبکہ وہ سینوں کی باتوں اور رازوں سے بھی واقف ہے جو سب سے زیادہ پوشیدہ ہوتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 38){ اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں ہر غائب چیز کو جاننے والا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے اور تمھارے دلوں میں چھپے ہوئے کفر پر اصرار سے بھی خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اتنی مدت تک عمر دینے پر جب تم کفر پر قائم رہے تو مزید عمر دینے پر بھی تم یہی کچھ کرتے اور اسے خوب معلوم ہے کہ اگر وہ تمھاری درخواست قبول کرکے تمھیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تو تم پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۲۸ ] ”اور اگر انھیں دوبارہ بھیج دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور یقینا وہ جھوٹے ہیں۔“
← پچھلی آیت (37) پوری سورۃ اگلی آیت (39) →