بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 35
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 35
آیت نمبر: 35 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
الَّذِیۡۤ اَحَلَّنَا دَارَ الۡمُقَامَۃِ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا لُغُوۡبٌ ﴿۳۵﴾
جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھیرا دیا، اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے
جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں ﻻ اتارا جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی
وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے، ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو،
جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایسی دائمی قیامت کی جگہ پر اتارا ہے جہاں نہ کوئی زحمت ہوتی ہے اور نہ ہی تھکن محسوس ہوتی ہے۔
جس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے گھر میں اتارا، نہ ہمیں اس میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ پہنچتی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ٭٭

فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:250] ‏‏‏‏ ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔۱؎ [صحیح بخاری:5834] ‏‏‏‏

اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لیے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لیے آخرت میں ہے۔۱؎ [صحیح بخاری:5831] ‏‏‏‏اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔ ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے،۱؎ ] ‏‏‏‏ابو نعیم فی صفۃ الجنۃ: [267وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔۱؎ [ابن حبان فی المجروحین:202/1:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی۔۱؎ [مجمع الزوائد:18324] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم،لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5673] ‏‏‏‏ وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی مشقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 35) ➊ {الَّذِيْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ:دَارَ الْمُقَامَةِ “} ہمیشہ رہنے کا گھر، جس سے کبھی نکالا نہیں جائے گا۔ ➋ { مِنْ فَضْلِهٖ:} یعنی جنت میں داخلہ اور ہمیشہ اس میں رہنا محض اللہ کے فضل سے ہے، کیونکہ آدمی کے اعمال تو ان نعمتوں کے شکر کے لیے بھی کافی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اسے عطا کی ہیں، پھر اگر کوئی نیکی کی ہے تو محدود وقت میں کی ہے، اس پر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت محض اللہ کا فضل ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ] ”کسی شخص کا عمل بھی اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ صحابہ نے کہا: ”تو کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسول!؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا، وَ لَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳ ] ”نہیں، مجھے بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے فضل و رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“ ➌ { لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا نَصَبٌ وَّ لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا لُغُوْبٌ:} یعنی ہماری تمام محنتوں اور تکلیفوں کا خاتمہ ہو گیا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”رہنے کا گھر اس سے پہلے کوئی نہ تھا، ہر جگہ چل چلاؤ اور روزی کا غم، دشمنوں کا ڈر اور رنج اور مشقت، وہاں پہنچ کر سب گئے۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (34) پوری سورۃ اگلی آیت (36) →