بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 34
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَذۡہَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَکُوۡرُۨ ﴿ۙ۳۴﴾
اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا، یقیناً ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے
اور کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بےشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے واﻻ بڑا قدردان ہے
اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے
اور وہ (بطور شکرانۂ نعمت کہیں گے سب تعریف اللہ) کیلئے ہے (اور اس کا شکر ہے) جس نے ہم سے رنج و غم دور کر دیا ہے بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا، بڑا قدر دان ہے۔
اور وہ کہیں گے سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا، بے شک ہمارا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت قدر دان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ٭٭

فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:250] ‏‏‏‏ ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔۱؎ [صحیح بخاری:5834] ‏‏‏‏

اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لیے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لیے آخرت میں ہے۔۱؎ [صحیح بخاری:5831] ‏‏‏‏اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔ ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے،۱؎ ] ‏‏‏‏ابو نعیم فی صفۃ الجنۃ: [267وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔۱؎ [ابن حبان فی المجروحین:202/1:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی۔۱؎ [مجمع الزوائد:18324] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم،لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5673] ‏‏‏‏ وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی مشقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34) ➊ {وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ:} حزن کسی چیز کے ہاتھ سے نکلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دل کی کیفیت کا نام ہے، یعنی غم، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ» [ الحدید: ۲۳ ] ”تاکہ تم اس پر غم نہ کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے۔“ دنیا میں انسان کو جو بھی ملا ہے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اس لیے دنیا میں جب تک کوئی نعمت انسان کے پاس رہتی ہے وہ اس خوف میں رہتا ہے کہ یہ نعمت مجھ سے چھن نہ جائے اور جب چھنتی ہے تو اسے غم ہوتا ہے۔ جنت میں داخلے اور موت کے ذبح کر دیے جانے کے بعد اہلِ جنت کو نہ کوئی نعمت چھننے کا خوف ہو گا، یعنی {” لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ “} اور نہ کسی نعمت کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم، یعنی {” وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ “} کیونکہ نہ ان کے جمال میں کمی ہو گی، نہ کھانے پینے میں، نہ ان کی قوت اور جوانی میں، نہ ان کی لذتوں میں اور نہ ہمیشہ رہائش میں تو پھر غم کس بات کا، اس لیے وہ اللہ کا شکر ادا کریں گے، جس نے ان سے ہر قسم کا غم دور کر دیا۔ دنیا کی ہر نعمت تو ختم ہونے کی وجہ سے غم کا باعث بنتی تھی، یہ جنت ہی ہے جس کی کوئی نعمت غم کا باعث نہیں بنے گی۔ ابن الرومی نے کہا ہے: {وَ مَنْ سَرَّهُ أَلَّا يَرٰي مَا يَسُوْءُهُ فَلَا يَتَّخِذْ شَيْئًا يُبَالِيْ لَهُ فَقْدًا} ”جسے پسند ہو کہ وہ غمگین کرنے والی کوئی چیز نہ دیکھے تو وہ ایسی کوئی چیز نہ پکڑے جس کے گم ہونے کی اسے فکر ہو۔“ ➋ { اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرٌ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۰)۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →