بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 31
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۳۱﴾
(اے نبیؐ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے
اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے واﻻ خوب دیکھنے واﻻ ہے
اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے
اور جو کتاب ہم نے بذریعۂ وحی آپ(ص) کی طرف بھیجی ہے وہ برحق ہے اور اپنے سے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے بیشک اللہ اپنے بندوں (کے حالات) سے باخبر (اور) بڑا دیکھنے والا نگران ہے۔
اور وہ جو ہم نے تیری طرف کتاب میں سے وحی کی ہے وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کی یقینا پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فضائل قرآن ٭٭

قرآن اللہ کا حق کلام ہے اور جس طرح اگلی کتابیں اس کی خبر دیتی رہی ہیں یہ بھی ان اگلی سچی کتابوں کی سچائی ثابت کر رہا ہے۔ رب خبیر و بصیر ہے۔ ہر مستحق فضیلت کو بخوبی جانتا ہے۔ انبیاء کو انسانوں پر اس نے اپنے وسیع علم سے فضیلت دی ہے۔ پھر انبیاء میں بھی آپس میں مرتبے مقرر کر دیئے ہیں اور علی الاطلاق حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ سب سے بڑا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء پر درود و سلام بھیجے۔

📖 احسن البیان

31۔ 1 یعنی جس پر تیرے اور تیری امت کے لئے عمل کرنا ضروری ہے۔ 31۔ 2 تورات اور انجیل وغیرہ کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم اس اللہ کا نازل کردہ ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں، جب ہی تو دونوں ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ 31۔ 3 یہ اس کے علم و خبری کا نتیجہ ہے کہ اس نے نئی کتاب نازل فرما دی، کیونکہ وہ جانتا ہے، پچھلی کتابیں ردو بدل کا شکار ہوگئی ہیں اور اب وہ ہدایت کے قابل نہیں رہی ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31) ➊ {وَ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ …:} اس کا عطف {” اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ “} پر ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے علماء کی فضیلت بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے، کامل حق یہی ہے۔“ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کے احکام پر مشتمل جتنی کتابیں ہیں ان میں سے جو لوگوں کی تصنیف کر دہ ہیں ان میں حق کا کچھ حصہ ہے بھی تو اکثر حصہ باطل ہے اور جو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، مثلاً تورات و انجیل تو ان کے اندر بعد میں تحریف اور کمی بیشی کی وجہ سے کچھ باطل چیزیں بھی شامل ہو گئی ہیں، ان کی جو باتیں حق ہیں یہ کتاب ان کی تصدیق کرتی ہے اور جو باطل ہیں ان کی تردید کرتی ہے، اس لیے یہ ان کے اصل اور صحیح مضامین کی محافظ ہے۔ اب کامل حق چونکہ صرف اسی کتاب میں ہے، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت کو صرف اس پر عمل کرنا چاہیے۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ضروریات کی پوری خبر رکھنے والا اور ان کے اعمال کو پوری طرح دیکھنے والا ہے۔ اس نے آپ پر یہ کتاب ان کی اور ان کے زمانے کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھ کر نازل فرمائی ہے۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →