بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 30
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
لِیُوَفِّیَہُمۡ اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۳۰﴾
(اس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اِس لیے کھپایا ہے) تاکہ اللہ اُن کے اجر پورے کے پورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے بے شک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے بےشک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے
تاکہ ان کے ثواب انہیں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے، بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
تاکہ وہ (اللہ) انہیں پورا پورا اجر عطا فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے اور زیادہ دے۔ بیشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا قدر دان ہے۔
تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پور ے پورے دے اور اپنے فضل سے انھیں زیادہ بھی دے، بلا شبہ وہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کتاب اللہ کی تلاوت کے فضائل ٭٭

مومن بندوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ ایمان کے ساتھ پڑھتے رہتے ہیں عمل بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نماز کے پابند زکوٰۃ خیرات کے عادی ظاہر و باطن اللہ کے بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے اعمال کے ثواب کے امیدوار اللہ سے ہوتے ہیں۔ جس کا ملنا یقینی ہے۔ جیسے کہ اس تفسیر کے شروع میں فضائل قرآن کے ذکر میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کلام اللہ شریف اپنے ساتھی سے کہے گا کہ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور تو تو سب کی سب تجارتوں کے پیچھے ہے۔ انہیں ان کے پورے ثواب ملیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ملیں گے جس کا خیال بھی نہیں۔ اللہ گناہوں کا بخشنے والا اور چھوٹے اور تھوڑے عمل کا بھی قدر دان ہے۔ مطرف رحمتہ اللہ علیہ تو اس آیت کو قاریوں کی آیت کہتے تھے۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس پر بھلائیوں کی ثناء کرتا ہے جو اس نے کی نہ ہوں اور جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسی طرح برائیوں کی۔ ۱؎ [مسند احمد:/338ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔

📖 احسن البیان

30۔ 1 یعنی یہ تجارت مندے سے اس لئے محفوظ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال صالحہ پر پورا اجر عطا فرمائے گا۔ یا فعل محذوف کے متعلق ہے کہ یہ نیک اعمال اس لئے کرتے ہیں یا اللہ نے انہیں ان کی طرف ہدایت کی تاکہ وہ انہیں اجر دے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30) ➊ { لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ:” لِيُوَفِّيَهُمْ “} میں لام عاقبت کا ہے، یعنی اہل علم کی تلاوتِ کتاب، اقامتِ صلاۃ اور خرچ کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور اپنے فضل سے مزید بھی دے گا۔ یہ لام علت اور وجہ بیان کرنے کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یعنی علم والے لوگ قرآن کی تلاوت، اقامتِ صلاۃ اور اللہ کے عطا کردہ میں سے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے دے اور اپنے فضل سے مزید بھی عطا فرمائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۷۳ ] ”پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا۔“ اپنے فضل سے مزید عطا کرنے میں ایک نیکی کو سات سو نیکیوں تک یا اس سے بھی زیادہ بڑھانا ہے، پھر چند روزہ زندگی کے عمل پر ہمیشہ کی جنت عطا کرنا ہے، پھر جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت اپنا دیدار عطا فرمانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۲۶ ] ”جن لوگوں نے نیکی کی انھی کے لیے نہایت اچھا بدلا اور کچھ زیادہ ہے۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین) ➋ { اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ:} یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے گناہوں پر بے حد پردہ ڈالنے والا اور ان کے نیک اعمال کی بے حد قدر کرنے والا ہے۔
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →