بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت یا؟ ٭٭
صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی کتاب کو اسی یعنی «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سے شروع کیا۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سورۃ نمل کی ایک آیت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورت کے شروع میں خود مستقل آیت ہے؟ یا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے؟ یا ہر سورت کی آیت کا جزو ہے؟ یا صرف سورۃ فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں؟ صرف ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے؟ اور خود آیت نہیں ہے؟ علماء سلف اور خلف کا ان آرا میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔ سنن ابوداؤد میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نازل نہیں ہوتی تھی} ۱؎۔ [سنن ابوداود:788، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ۲؎ [مستدرک حاکم:231/1] ایک مرسل حدیث میں یہ روایت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ» کو سورۃ فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا۔} ۳؎ [ابن خزیمہ:493:ضعیف] لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں اسی مفہوم کی ایک روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۴؎۔ [دارقطنی:312/1:ضعیف]
سیدنا علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن زبیر، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم، عطا، طاؤس، سعید بن جبیر، مکحول اور زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» ہر سورت کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورۃ برات کے۔ ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ اور ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں۔ کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» الخ نہ تو سورۃ فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» الخ سورۃ فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورۃ کی نہیں۔ ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورت کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں۔ داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول میں «بِسْمِ اللَّـهِ» ایک مستقل آیت ہے سورت میں داخل نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے ۱؎ اور ابوبکر رازی رحمہ اللہ نے ابوحسن کرخی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے۔ یہ تو تھی بحث «بِسْمِ اللَّـهِ» کے سورۃ فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی۔ (صحیح مذہب یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن پاک میں یہ آیت شریفہ ہے وہاں مستقل آیت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)
بسم اللہ با آواز بلند یا دبی آواز سے؟ ٭٭
اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا اسے با آواز بلند پڑھنا چاہیئے یا پست آواز سے؟ جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ کی آیت نہیں کہتے وہ تو اسے بلند آواز سے پڑھنے کے بھی قائل نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ سے الگ ایک آیت مانتے ہیں وہ بھی اس کے پست آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں۔ رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول سے ہے۔ ان میں اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا تو مذہب ہے کہ سورۃ فاتحہ اور ہر سورت سے پہلے اسے اونچی آواز سے پڑھنا چاہیئے۔ صحابہ، تابعین اور مسلمانوں کے مقدم و مؤخر امامین کی جماعتوں کا یہی مذہب ہے صحابہ میں سے اسے اونچی آواز سے پڑھنے والے سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ بیہقی رحمہ اللہ اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ۱؎ اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے بھی غریب سند سے امام خطیب بغدادی نے نقل کیا ہے۔ تابعین میں سے سعید بن جبیر، عکرمہ، ابوقلابہ، زہری، علی بن حسن ان کے لڑکے محمد، سعید بن مسیب، عطاء، طاؤس، مجاہد، سالم، محمد بن کعب قرظی، عبید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، ابووائل ابن سیرین، محمد بن منکدر، علی بن عبداللہ بن عباس ان کے صاحبزادے محمد نافع ابن عمر کے مولیٰ زید بن اسلم، عمر بن عبدالعزیز، ارزق بن قیس، حبیب بن ابی ثابت، ابوشعثا، مکحول، عبداللہ بن معقل بن مقرن اور بروایت بیہقی، عبداللہ بن صفوان، محمد بن حنفیہ اور بروایت ابن عبدالبر عمرو بن دینار رحمہم اللہ سب کے سب ان نمازوں میں جن میں قرأت اونچی آواز سے پڑھی جاتی ہے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی بلند آواز سے پڑھتے تھے۔
ایک دلیل تو اس کی یہ ہے کہ جب یہ آیت سورۃ فاتحہ میں سے ہے تو پھر پوری سورت کی طرح یہ بھی اونچی آواز سے ہی پڑھنی چاہیئے۔ علاوہ ازیں سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں مروی ہے کہ {سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور قرأت میں اونچی آواز سے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں مشابہ ہوں} ۱؎۔ [سنن نسائی:906،تخریج دارالدعوہ:صحیح] اس حدیث کو دارقطنی، خطیب اور بیہقی وغیرہ نے صحیح کہا ہے ۲؎۔ ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سے شروع کیا کرتے تھے} ۳؎۔ [سنن ترمذي:245،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث ایسی زیادہ صحیح نہیں۔ مستدرک حاکم میں انہی سے روایت ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے} ۴؎۔ [مستدرک حاکم:208/1:ضعیف جدا] امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز قرات ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ {انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کس طرح تھی۔ فرمایا کہ ہر کھڑے لفظ کو آپ لمبا کر کے پڑھتے تھے پھر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی «بِسْمِ اللَّـهِ» پر مد کیا «الرَّحْمَـٰنِ» پر مد کیا «الرَّحِيمِ» پر مد کیا} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5046] مسند احمد، سنن ابوداؤد، صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہر آیت پر رکتے تھے اور آپ کی قرأت الگ الگ ہوتی تھی جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پھر ٹھہر کر «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پھر ٹھہر کر «لرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پھر ٹھہر کر «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» } ۲؎۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحيح] دارقطنی اسے صحیح بتاتے ہیں ۳؎۔ امام شافعی، امام حاکم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ {معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نماز پڑھائی اور «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ پڑھی تو جو مہاجر اصحاب رضی اللہ عنہم وہاں موجود تھے انہوں نے ٹوکا۔ چنانچہ پھر وہ جب نماز پڑھانے کو کھڑے ہوئے تو «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھی} ۴؎۔ [مسند شافعی:80/1:حسن] غالباً اتنی ہی احادیث و آثار اس مذہب کی حجت کے لیے کافی ہیں۔ باقی رہے اس کے خلاف آثار، روایات، ان کی سندیں، ان کی تعلیل، ان کا ضعف اور ان کی تقاریر وغیرہ ان کا دوسرے مقام پر ذکر اور ہے۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ نماز میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کو زور سے نہ پڑھنا چاہیئے۔ خلفاء اربعہ اور عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہم، تابعین اور بعد والوں کی جماعتوں سے یہ ثابت ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ثوری، امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام مالک کا مذہب ہے کہ سرے سے «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھے ہی نہیں نہ تو آہستہ نہ بلند ۱؎۔ ان کی دلیل ایک تو صحیح مسلم والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر سے اور قرأت کو «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے ہی شروع کیا کرتے تھے} ۲؎۔ [صحیح مسلم:498] صحیحین میں ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں {میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی یہ سب «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے ہی شروع کرتے تھے} ۳؎۔ [صحیح بخاری:743] صحیح مسلم میں ہے کہ { «بِسْمِ اللَّـهِ» نہیں پڑھتے تھے نہ تو قرأت کے شروع میں نہ اس قرأت کے آخر میں} ۴؎۔ [صحیح مسلم:399] سنن میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے ۵؎۔ [سنن ترمذي:244،قال الشيخ الألباني: ضعيف] یہ ہے دلیل ان ائمہ کے «بِسْمِ اللَّـهِ» آہستہ پڑھنے کی۔ یہ خیال رہے کہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہر ایک فریق دوسرے کی نماز کی صحت کا قائل ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ( «بِسْمِ اللَّـهِ» کا مطلق نہ پڑھنا تو ٹھیک نہیں۔ بلند و پست پڑھنے کی احادیث میں اس طرح تطبیق ہو سکتی ہے کہ دونوں جائز ہیں۔ گو پست پڑھنے کی احادیث قدرے زور دار ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
فصل بسم اللہ کی فضیلت کا بیان ٭٭
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ {عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بِسْمِ اللَّـهِ» کی نسبت سوال کیا آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بڑے ناموں اور اس میں اس قدر نزدیکی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی اور سفیدی میں“} ۱؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:21/1:موضوع باطل] ابن مردویہ میں بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ اور یہ روایت بھی ابن مردویہ میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ نے معلم کے پاس بٹھایا تو اس نے کہا لکھئے «بِسْمِ اللَّـهِ» عیسیٰ علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّـهِ» کیا ہے؟ استاد نے جواب دیا میں نہیں جانتا۔ آپ نے فرمایا: «ب» سے مراد اللہ تعالیٰ کا «بہا» یعنی بلندی ہے اور «س» سے مراد اس کی «سنا» یعنی نور اور روشنی ہے اور «م» سے مراد اس کی مملکت یعنی بادشاہی ہے اور «الله» کہتے ہیں معبودوں کے معبود اور اور «رحمن» کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے کو «رحیم» کہتے ہیں۔ آخرت میں کرم و رحم کرنے والے کو“} ۲؎۔ [الکامل لابن عدی:303/1:موضوع باطل] ابن جریر میں بھی یہی روایت ہے ۳؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:140:موضوع باطل] لیکن سند کی رو سے یہ بے حد غریب ہے، ممکن ہے کسی صحابی وغیرہ سے مروی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں سے ہو۔ مرفوع حدیث نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن مردویہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو کسی اور نبی پر سوائے سلیمان علیہ السلام کے نہیں اتری۔ وہ آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» اتری بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے۔ ہوائیں ساکن ہو گئیں۔ سمندر ٹھہر گیا جانوروں نے کان لگا لیے۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے اور پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہو گی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے انیس داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھے، اس کے بھی انیس حروف ہیں، ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا۔ اسے ابن عطیہ نے بیان کیا ہے۔ اس کی تائید ایک اور حدیث سے بھی کی ہے جس میں {آپ نے فرمایا:”میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب ایک شخص نے «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» پڑھا تھا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:799] اس میں بھی تیس سے اوپر حروف ہیں اتنے ہی فرشتے اترے اسی طرح «بِسْمِ اللَّـهِ» میں بھی انیس حروف ہیں اور وہاں فرشتوں کی تعداد بھی انیس ہے وغیرہ وغیرہ۔
مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جو صحابی سوار تھے، ان کا بیان ہے کہ آپ کی اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا شیطان کا ستیاناس ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا۔ ہاں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل و پست ہو جاتا ہے“} ۱؎۔ [سنن ابوداود:4982،قال الشيخ الألباني:صحيح] نسائی نے اپنی کتاب «عمل الیوم واللیلہ» میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے نقل کیا ہے اور صحابی کا نام اسامہ بن عمیر بتایا ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ { «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ کر «بِسْمِ اللَّـهِ» کی برکت سے شیطان ذلیل ہو گا} ۲؎۔ [النسائي في عمل اليوم والليه:559:صحيح بالشواهد] اسی لیے ہر کام اور ہر بات کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لینا مستحب ہے۔ خطبہ کے شروع میں بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنی چاہیئے۔ حدیث میں ہے کہ {جس کام کو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکتا ہوتا ہے} ۳؎۔ [سنن ابن ماجه:1894،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
بیت الخلاء (پاخانہ) میں جانے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ لے ۱؎۔ [سنن ترمذي:606،قال الشيخ الألباني: صحيح] حدیث میں یہ بھی ہے کہ وضو کے وقت بھی پڑھ لے۔ مسند احمد اور سنن میں ابوہریرہ، سعید بن زید اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہوتا“} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:399،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ حدیث حسن ہے بعض علماء تو وضو کے وقت آغاز میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھنا واجب بتاتے ہیں۔ بعض مطلق وجوب کے قائل ہیں۔
جانور کو ذبح کرتے وقت بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔ بعض نے یاد آنے کے وقت اور بعض نے مطلقاً اسے واجب کہا ہے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آئے گا «ان شاءاللہ تعالیٰ» ۔ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی فضیلت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔ ایک میں ہے کہ ”جب تو اپنی بیوی کے پاس جائے اور «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ لے اور اللہ کوئی اولاد بخشے تو اس کے اپنے اور اس کی اولاد کے سانسوں کی گنتی کے برابر تیرے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی۔“ لیکن یہ روایت بالکل بے اصل ہے، میں نے تو یہ کہیں کسی معتبر کتاب میں نہیں پائی۔ کھاتے وقت بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنی مستحب ہے۔ صحیح مسلم (و بخاری) میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(جو آپ کی پرورش میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے اگلے خاوند سے تھے) کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» کہو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے نوالہ اٹھایا کرو“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5376] بعض علماء اس وقت بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» کا کہنا واجب بتلاتے ہیں۔
بیوی سے ملنے (جماع) کے وقت بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنی چاہیئے۔ صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ملنے کا ارادہ کرے تو یہ پڑھے «بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» یعنی اے اللہ ہمیں اور جو ہمیں تو دے اسے شیطان سے بچا۔“ فرماتے ہیں کہ اگر اس جماع سے حمل ٹھہر جائے تو اس بچہ کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا} ۱؎۔ [صحیح بخاری:141] یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» کی «ب» کا تعلق کس سے ہے نحویوں کے اس میں دو قول ہیں اور دونوں ہی تقریباً ہم خیال ہیں۔ بعض اسم کہتے ہیں اور بعض فعل، ہر ایک کی دلیل قرآن سے ملتی ہے جو لوگ اسم کے ساتھ متعلق بتاتے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ «بِسْمِ اللَّـهِ اِبْتِدَائِي» یعنی اللہ کے نام سے میری ابتداء ہے۔ قرآن میں ہے «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۲؎ [11-هود:41] اس میں اسم یعنی مصدر ظاہر کر دیا گیا ہے اور جو لوگ فعل مقدر بتاتے ہیں چاہے وہ امر ہو یا خبر۔ جیسے کہ «أَبْدَأُ بِسْمِ اللَّـهِ» اور «ابتدات بِسْمِ اللَّـهِ» ان کی دلیل آیت «قْرَأْ بِاسْمِ» ۳؎ الخ ہے۔ دراصل دونوں ہی صحیح ہیں، اس لیے کہ فعل کے لیے بھی مصدر کا ہونا ضروری ہے تو اختیار ہے کہ فعل کو مقدر مانا جائے اور اس کے مصدر کو مطابق اس فعل کے جس کا نام پہلے لیا گیا ہے۔ کھڑا ہونا ہو، بیٹھنا ہو، کھانا ہو، پینا ہو، قرآن کا پڑھنا ہو، وضو اور نماز وغیرہ ہو، ان سب کے شروع میں برکت حاصل کرنے کے لیے امداد چاہنے کے لیے اور قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا نام لینا مشروع ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں روایت ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ {جب سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آئے تو فرمایا: اے محمد! کہئے «أَسْتَعِيذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم مِنْ الشَّيْطَان الرَّجِيم» پھر کہا کہئے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» مقصود یہ تھا کہ اٹھنا، بیٹھنا، پڑھنا سب اللہ کے نام سے شروع ہو} ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:137:ضعیف منقطع]
بے معنی بحث ٭٭
اسم یعنی نام ہی «مُسَمَّى» یعنی نام والا ہے یا کچھ اور اس میں اہل علم کے تین قول ہیں ایک تو یہ کہ اسم ہی «مُسَمَّى» ہے۔ ابوعبیدہ کا اور سیبویہ کا بھی یہی قول ہے۔ باقلانی اور ابن فورک کی رائے بھی یہی ہے۔ ابن خطیب رازی اپنی تفسیر کے مقدمات میں لکھتے ہیں۔ حشویہ اور کرامیہ اور اشعریہ تو کہتے ہیں اسم نفس «مُسَمَّى» ہے اور نفس «تَّسْمِيَة» کا «غَيْر» ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اسم «مُسَمَّى» کا «غَيْر» ہے اور نفس «تَّسْمِيَة» ہے۔ ہمارے نزدیک اسم «مُسَمَّى» کا بھی «غَيْر» ہے اور «تَّسْمِيَة» ہ کا بھی۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اسم سے مراد لفظ ہے جو آوازوں کے ٹکڑوں اور حروف کا مجموعہ ہے تو بالبداہت ثابت ہے کہ یہ «مُسَمَّى» کا «غَيْر» ہے اور اگر اسم سے مراد ذات «مُسَمَّى» ہے تو یہ وضاحت کو ظاہر کرتا ہے جو محض بیکار ہے۔ ثابت ہوا کہ اس بیکار بحث میں پڑنا ہی فضول ہے۔ اس کے بعد جو لوگ اسم اور «مُسَمَّى» کے فرق پر اپنے دلائل لائے ہیں، ان کا کہنا ہے محض اسم ہوتا ہے «مُسَمَّى» ہوتا ہی نہیں۔ جیسے «مَعْدُوم» کا لفظ۔ کبھی ایک «مُسَمَّى» کے کئی اسم ہوتے ہیں جیسے مترادف کبھی اسم ایک ہوتا ہے اور «مُسَمَّى» کئی ہوتے ہیں جیسے مشترک۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اور چیز ہے اور «مُسَمَّى» اور چیز ہے یعنی نام الگ ہے۔ اور نام والا الگ ہے۔ اور دلیل سنئیے کہتے ہیں اسم تو لفظ ہے دوسرا عرض ہے۔ «مُسَمَّى» کبھی ممکن یا واجب ذات ہوتی ہے۔ اور سنئیے اگر اسم ہی کو «مُسَمَّى» مانا جائے تو چاہیئے کہ آگ کا نام لیتے ہی حرارت محسوس ہو اور برف کا نام لیتے ہی ٹھنڈک۔ جبکہ کوئی عقلمند اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ اور دلیل سنئیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا» کہ ’اللہ کے بہت سے بہترین نام ہیں، تم ان ناموں سے اسے پکارو‘ ۱؎۔ [7-الأعراف:180] حدیث شریف ہے کہ ’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں‘ ۲؎ [صحیح مسلم:2677] تو خیال کیجئے کہ نام کس قدر بکثرت ہیں حالانکہ «مُسَمَّى» ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ «وحدہ لاشریک لہ» ہے اسی طرح «اسماء» کو اللہ کی طرف اس آیت میں مضاف کرنا۔ اور جگہ فرمانا: «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» ۳؎ [56-الواقعة:74] وغیرہ یہ اضافت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ اسم اور ہو اور «مُسَمَّى» اور کیونکہ اضافت کا مقتضا مغائرت کا ہے۔ اسی طرح یہ «وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا» یعنی ’اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو‘ ۴؎ [7-الأعراف:180] یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ نام اور ہے نام والا اور۔ اب ان کے دلائل بھی سنئیے جو اسم اور «مُسَمَّى» کو ایک ہی بتاتے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’جلال و اکرام والے تیرے رب کا بابرکت نام ہے‘ ۵؎ [55-الرحمن:78] تو نام برکتوں والا فرمایا حالانکہ خود اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اس مقدس ذات کی وجہ سے اس کا نام بھی عظمتوں والا ہے۔ ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ زینب پر طلاق ہے تو طلاق اس کی بیوی جس کا نام زینب ہے ہو جاتی ہے۔ اگر نام اور نام والے میں فرق ہوتا تو نام پر طلاق پڑتی، نام والے پر کیسے پڑتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ اس ذات پر طلاق ہے جس کا نام زینت ہے۔ تسمیہ کا اسم سے الگ ہونا اس دلیل کی بنا پر ہے کہ تسمیہ کہتے ہیں کسی کا نام مقرر کرنے کو اور ظاہر ہے یہ اور چیز ہے اور نام والا اور چیز ہے۔ رازی کا قول یہی ہے کہ یہ سب کچھ تو لفظ «باسم» کے متعلق تھا۔ اب لفظ «الله» کے متعلق سنئے۔ اللہ خاص نام ہے رب تبارک و تعالیٰ کا۔ کہا جاتا ہے کہ اسم اعظم یہی ہے اس لیے کہ تمام عمدہ صفتوں کے ساتھ ہی موصوف ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ۶؎ [59-الحشر:22-23-24] یعنی ’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، جو رحم کرنے والا مہربان ہے، وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جو بادشاہ ہے پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے، محافظ ہے، غلبہ والا ہے، زبردست ہے، بڑائی والا ہے، وہ ہر شرک سے اور شرک کی چیز سے پاک ہے۔ وہی اللہ پیدا کرنے والا، مادہ کو بنانے والا، صورت بخشنے والا ہے۔ اس کے لیے بہترین پاکیزہ نام ہیں، آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔ وہ عزتوں اور حکمتوں والا ہے‘۔ ان آیتوں میں تمام نام صفاتی ہیں، اور لفظ اللہ ہی کی صفت ہیں یعنی اصلی نام «الله» ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے ہیں پاکیزہ اور عمدہ عمدہ نام۔
اللہ تعالٰی نے اپنے تمام (صفاتی) نام خود تجویز فرمائے ہیں ٭٭
پس تم اس کو ان ہی ناموں سے پکارو۔ اور فرماتا ہے «ادْعُوا اللَّـهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَـٰنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ» الخ یعنی ’اللہ کو پکارو۔ یا رحمن کو پکارو، جس نام سے پکارو، اسی کے پیارے پیارے اور اچھے اچھے نام ہیں‘ ۱؎ [17-الإسراء:110] بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ ایک کم ایک سو جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے} ۲؎۔ [صحیح بخاری:7392] ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ان ناموں کی تفصیل بھی آئی ہے ۳؎۔ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:صحيح، ضعيف بسرد الأسماء] اور دونوں کی روایتوں میں الفاظ کی کچھ تبدیلی کچھ کمی زیادتی بھی ہے۔ رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ ایک ہزار تو قرآن شریف اور صحیح حدیث میں ہیں اور ایک ہزار توراۃ میں اور ایک ہزار انجیل میں اور ایک ہزار زبور میں اور ایک ہزار لوح محفوظ میں۔
اللہ کے مترادف المعنی کوئی نام نہیں ٭٭
«الله» ہی وہ نام ہے