بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الفاتحة
سورۃ الفاتحة — 7 آیات
قرآن کریم Surah 1
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا
علامہ محمد حسین نجفی
(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت یا؟ ٭٭

صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی کتاب کو اسی یعنی «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سے شروع کیا۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سورۃ نمل کی ایک آیت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورت کے شروع میں خود مستقل آیت ہے؟ یا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے؟ یا ہر سورت کی آیت کا جزو ہے؟ یا صرف سورۃ فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں؟ صرف ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے؟ اور خود آیت نہیں ہے؟ علماء سلف اور خلف کا ان آرا میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔ سنن ابوداؤد میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نازل نہیں ہوتی تھی} ۱؎۔ [سنن ابوداود:788، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ۲؎ [مستدرک حاکم:231/1] ‏‏‏‏ ایک مرسل حدیث میں یہ روایت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ» کو سورۃ فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا۔} ۳؎ [ابن خزیمہ:493:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں اسی مفہوم کی ایک روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۴؎۔ [دارقطنی:312/1:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن زبیر، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم، عطا، طاؤس، سعید بن جبیر، مکحول اور زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» ہر سورت کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورۃ برات کے۔ ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ اور ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں۔ کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» الخ نہ تو سورۃ فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» الخ سورۃ فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورۃ کی نہیں۔ ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورت کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں۔ داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول میں «بِسْمِ اللَّـهِ» ایک مستقل آیت ہے سورت میں داخل نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے ۱؎ اور ابوبکر رازی رحمہ اللہ نے ابوحسن کرخی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے۔ یہ تو تھی بحث «بِسْمِ اللَّـهِ» کے سورۃ فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی۔ (‏‏‏‏صحیح مذہب یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن پاک میں یہ آیت شریفہ ہے وہاں مستقل آیت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

بسم اللہ با آواز بلند یا دبی آواز سے؟ ٭٭

اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا اسے با آواز بلند پڑھنا چاہیئے یا پست آواز سے؟ جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ کی آیت نہیں کہتے وہ تو اسے بلند آواز سے پڑھنے کے بھی قائل نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ سے الگ ایک آیت مانتے ہیں وہ بھی اس کے پست آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں۔ رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول سے ہے۔ ان میں اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا تو مذہب ہے کہ سورۃ فاتحہ اور ہر سورت سے پہلے اسے اونچی آواز سے پڑھنا چاہیئے۔ صحابہ، تابعین اور مسلمانوں کے مقدم و مؤخر امامین کی جماعتوں کا یہی مذہب ہے صحابہ میں سے اسے اونچی آواز سے پڑھنے والے سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ بیہقی رحمہ اللہ اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ۱؎ اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے بھی غریب سند سے امام خطیب بغدادی نے نقل کیا ہے۔ تابعین میں سے سعید بن جبیر، عکرمہ، ابوقلابہ، زہری، علی بن حسن ان کے لڑکے محمد، سعید بن مسیب، عطاء، طاؤس، مجاہد، سالم، محمد بن کعب قرظی، عبید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، ابووائل ابن سیرین، محمد بن منکدر، علی بن عبداللہ بن عباس ان کے صاحبزادے محمد نافع ابن عمر کے مولیٰ زید بن اسلم، عمر بن عبدالعزیز، ارزق بن قیس، حبیب بن ابی ثابت، ابوشعثا، مکحول، عبداللہ بن معقل بن مقرن اور بروایت بیہقی، عبداللہ بن صفوان، محمد بن حنفیہ اور بروایت ابن عبدالبر عمرو بن دینار رحمہم اللہ سب کے سب ان نمازوں میں جن میں قرأت اونچی آواز سے پڑھی جاتی ہے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی بلند آواز سے پڑھتے تھے۔

ایک دلیل تو اس کی یہ ہے کہ جب یہ آیت سورۃ فاتحہ میں سے ہے تو پھر پوری سورت کی طرح یہ بھی اونچی آواز سے ہی پڑھنی چاہیئے۔ علاوہ ازیں سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں مروی ہے کہ {سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور قرأت میں اونچی آواز سے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں مشابہ ہوں} ۱؎۔ [سنن نسائی:906،تخریج دارالدعوہ:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث کو دارقطنی، خطیب اور بیہقی وغیرہ نے صحیح کہا ہے ۲؎۔ ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سے شروع کیا کرتے تھے} ۳؎۔ [سنن ترمذي:245،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث ایسی زیادہ صحیح نہیں۔ مستدرک حاکم میں انہی سے روایت ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے} ۴؎۔ [مستدرک حاکم:208/1:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز قرات ٭٭

صحیح بخاری میں ہے کہ {انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کس طرح تھی۔ فرمایا کہ ہر کھڑے لفظ کو آپ لمبا کر کے پڑھتے تھے پھر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی «بِسْمِ اللَّـهِ» پر مد کیا «الرَّحْمَـٰنِ» پر مد کیا «الرَّحِيمِ» پر مد کیا} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5046] ‏‏‏‏ مسند احمد، سنن ابوداؤد، صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہر آیت پر رکتے تھے اور آپ کی قرأت الگ الگ ہوتی تھی جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پھر ٹھہر کر «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پھر ٹھہر کر «لرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پھر ٹھہر کر «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» } ۲؎۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ دارقطنی اسے صحیح بتاتے ہیں ۳؎۔ امام شافعی، امام حاکم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ {معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نماز پڑھائی اور «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ پڑھی تو جو مہاجر اصحاب رضی اللہ عنہم وہاں موجود تھے انہوں نے ٹوکا۔ چنانچہ پھر وہ جب نماز پڑھانے کو کھڑے ہوئے تو «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھی} ۴؎۔ [مسند شافعی:80/1:حسن] ‏‏‏‏ غالباً اتنی ہی احادیث و آثار اس مذہب کی حجت کے لیے کافی ہیں۔ باقی رہے اس کے خلاف آثار، روایات، ان کی سندیں، ان کی تعلیل، ان کا ضعف اور ان کی تقاریر وغیرہ ان کا دوسرے مقام پر ذکر اور ہے۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ نماز میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کو زور سے نہ پڑھنا چاہیئے۔ خلفاء اربعہ اور عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہم، تابعین اور بعد والوں کی جماعتوں سے یہ ثابت ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ثوری، امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے۔

امام مالک کا مذہب ہے کہ سرے سے «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھے ہی نہیں نہ تو آہستہ نہ بلند ۱؎۔ ان کی دلیل ایک تو صحیح مسلم والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر سے اور قرأت کو «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے ہی شروع کیا کرتے تھے} ۲؎۔ [صحیح مسلم:498] ‏‏‏‏ صحیحین میں ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں {میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی یہ سب «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے ہی شروع کرتے تھے} ۳؎۔ [صحیح بخاری:743] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ہے کہ { «بِسْمِ اللَّـهِ» نہیں پڑھتے تھے نہ تو قرأت کے شروع میں نہ اس قرأت کے آخر میں} ۴؎۔ [صحیح مسلم:399] ‏‏‏‏ سنن میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے ۵؎۔ [سنن ترمذي:244،قال الشيخ الألباني: ضعيف] ‏‏‏‏ یہ ہے دلیل ان ائمہ کے «بِسْمِ اللَّـهِ» آہستہ پڑھنے کی۔ یہ خیال رہے کہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہر ایک فریق دوسرے کی نماز کی صحت کا قائل ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» (‏‏‏‏ «بِسْمِ اللَّـهِ» کا مطلق نہ پڑھنا تو ٹھیک نہیں۔ بلند و پست پڑھنے کی احادیث میں اس طرح تطبیق ہو سکتی ہے کہ دونوں جائز ہیں۔ گو پست پڑھنے کی احادیث قدرے زور دار ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)

فصل بسم اللہ کی فضیلت کا بیان ٭٭

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ {عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بِسْمِ اللَّـهِ» کی نسبت سوال کیا آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بڑے ناموں اور اس میں اس قدر نزدیکی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی اور سفیدی میں“} ۱؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:21/1:موضوع باطل] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ اور یہ روایت بھی ابن مردویہ میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ نے معلم کے پاس بٹھایا تو اس نے کہا لکھئے «بِسْمِ اللَّـهِ» عیسیٰ علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّـهِ» کیا ہے؟ استاد نے جواب دیا میں نہیں جانتا۔ آپ نے فرمایا: «ب» سے مراد اللہ تعالیٰ کا «بہا» یعنی بلندی ہے اور «س» سے مراد اس کی «سنا» یعنی نور اور روشنی ہے اور «م» سے مراد اس کی مملکت یعنی بادشاہی ہے اور «الله» کہتے ہیں معبودوں کے معبود اور اور «رحمن» کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے کو «رحیم» کہتے ہیں۔ آخرت میں کرم و رحم کرنے والے کو“} ۲؎۔ [الکامل لابن عدی:303/1:موضوع باطل] ‏‏‏‏ ابن جریر میں بھی یہی روایت ہے ۳؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:140:موضوع باطل] ‏‏‏‏ لیکن سند کی رو سے یہ بے حد غریب ہے، ممکن ہے کسی صحابی وغیرہ سے مروی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں سے ہو۔ مرفوع حدیث نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن مردویہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو کسی اور نبی پر سوائے سلیمان علیہ السلام کے نہیں اتری۔ وہ آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» اتری بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے۔ ہوائیں ساکن ہو گئیں۔ سمندر ٹھہر گیا جانوروں نے کان لگا لیے۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے اور پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہو گی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے انیس داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھے، اس کے بھی انیس حروف ہیں، ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا۔ اسے ابن عطیہ نے بیان کیا ہے۔ اس کی تائید ایک اور حدیث سے بھی کی ہے جس میں {آپ نے فرمایا:”میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب ایک شخص نے «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» پڑھا تھا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:799] ‏‏‏‏ اس میں بھی تیس سے اوپر حروف ہیں اتنے ہی فرشتے اترے اسی طرح «بِسْمِ اللَّـهِ» میں بھی انیس حروف ہیں اور وہاں فرشتوں کی تعداد بھی انیس ہے وغیرہ وغیرہ۔

مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جو صحابی سوار تھے، ان کا بیان ہے کہ آپ کی اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا شیطان کا ستیاناس ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا۔ ہاں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل و پست ہو جاتا ہے“} ۱؎۔ [سنن ابوداود:4982،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ نسائی نے اپنی کتاب «عمل الیوم واللیلہ» میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے نقل کیا ہے اور صحابی کا نام اسامہ بن عمیر بتایا ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ { «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ کر «بِسْمِ اللَّـهِ» کی برکت سے شیطان ذلیل ہو گا} ۲؎۔ [النسائي في عمل اليوم والليه:559:صحيح بالشواهد‏‏‏‏] اسی لیے ہر کام اور ہر بات کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لینا مستحب ہے۔ خطبہ کے شروع میں بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنی چاہیئے۔ حدیث میں ہے کہ {جس کام کو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکتا ہوتا ہے} ۳؎۔ [سنن ابن ماجه:1894،قال الشيخ الألباني:ضعيف‏‏‏‏]

بیت الخلاء (‏‏‏‏پاخانہ)‏‏‏‏‏‏‏‏ میں جانے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ لے ۱؎۔ [سنن ترمذي:606،قال الشيخ الألباني: صحيح] ‏‏‏‏ حدیث میں یہ بھی ہے کہ وضو کے وقت بھی پڑھ لے۔ مسند احمد اور سنن میں ابوہریرہ، سعید بن زید اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہوتا“} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:399،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث حسن ہے بعض علماء تو وضو کے وقت آغاز میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھنا واجب بتاتے ہیں۔ بعض مطلق وجوب کے قائل ہیں۔

جانور کو ذبح کرتے وقت بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔ بعض نے یاد آنے کے وقت اور بعض نے مطلقاً اسے واجب کہا ہے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آئے گا «ان شاءاللہ تعالیٰ» ۔ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی فضیلت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔ ایک میں ہے کہ ”جب تو اپنی بیوی کے پاس جائے اور «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ لے اور اللہ کوئی اولاد بخشے تو اس کے اپنے اور اس کی اولاد کے سانسوں کی گنتی کے برابر تیرے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی۔“ لیکن یہ روایت بالکل بے اصل ہے، میں نے تو یہ کہیں کسی معتبر کتاب میں نہیں پائی۔ کھاتے وقت بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنی مستحب ہے۔ صحیح مسلم (‏‏‏‏و بخاری)‏‏‏‏‏‏‏‏ میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(‏‏‏‏جو آپ کی پرورش میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے اگلے خاوند سے تھے) کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» کہو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے نوالہ اٹھایا کرو“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5376] ‏‏‏‏ بعض علماء اس وقت بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» کا کہنا واجب بتلاتے ہیں۔

بیوی سے ملنے (‏‏‏‏جماع)‏‏‏‏‏‏‏‏ کے وقت بھی «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنی چاہیئے۔ صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ملنے کا ارادہ کرے تو یہ پڑھے «بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» یعنی اے اللہ ہمیں اور جو ہمیں تو دے اسے شیطان سے بچا۔“ فرماتے ہیں کہ اگر اس جماع سے حمل ٹھہر جائے تو اس بچہ کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا} ۱؎۔ [صحیح بخاری:141] ‏‏‏‏ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ «بِسْمِ اللَّـهِ» کی «ب» کا تعلق کس سے ہے نحویوں کے اس میں دو قول ہیں اور دونوں ہی تقریباً ہم خیال ہیں۔ بعض اسم کہتے ہیں اور بعض فعل، ہر ایک کی دلیل قرآن سے ملتی ہے جو لوگ اسم کے ساتھ متعلق بتاتے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ «بِسْمِ اللَّـهِ اِبْتِدَائِي» یعنی اللہ کے نام سے میری ابتداء ہے۔ قرآن میں ہے «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۲؎ [11-هود:41] ‏‏‏‏ اس میں اسم یعنی مصدر ظاہر کر دیا گیا ہے اور جو لوگ فعل مقدر بتاتے ہیں چاہے وہ امر ہو یا خبر۔ جیسے کہ «أَبْدَأُ بِسْمِ اللَّـهِ» اور «ابتدات بِسْمِ اللَّـهِ» ان کی دلیل آیت «قْرَأْ بِاسْمِ» ۳؎ الخ ہے۔ دراصل دونوں ہی صحیح ہیں، اس لیے کہ فعل کے لیے بھی مصدر کا ہونا ضروری ہے تو اختیار ہے کہ فعل کو مقدر مانا جائے اور اس کے مصدر کو مطابق اس فعل کے جس کا نام پہلے لیا گیا ہے۔ کھڑا ہونا ہو، بیٹھنا ہو، کھانا ہو، پینا ہو، قرآن کا پڑھنا ہو، وضو اور نماز وغیرہ ہو، ان سب کے شروع میں برکت حاصل کرنے کے لیے امداد چاہنے کے لیے اور قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا نام لینا مشروع ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں روایت ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ {جب سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آئے تو فرمایا: اے محمد! کہئے «أَسْتَعِيذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم مِنْ الشَّيْطَان الرَّجِيم» پھر کہا کہئے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» مقصود یہ تھا کہ اٹھنا، بیٹھنا، پڑھنا سب اللہ کے نام سے شروع ہو} ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:137:ضعیف منقطع] ‏‏‏‏

بے معنی بحث ٭٭

اسم یعنی نام ہی «مُسَمَّى» یعنی نام والا ہے یا کچھ اور اس میں اہل علم کے تین قول ہیں ایک تو یہ کہ اسم ہی «مُسَمَّى» ہے۔ ابوعبیدہ کا اور سیبویہ کا بھی یہی قول ہے۔ باقلانی اور ابن فورک کی رائے بھی یہی ہے۔ ابن خطیب رازی اپنی تفسیر کے مقدمات میں لکھتے ہیں۔ حشویہ اور کرامیہ اور اشعریہ تو کہتے ہیں اسم نفس «مُسَمَّى» ہے اور نفس «تَّسْمِيَة» کا «غَيْر» ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اسم «مُسَمَّى» کا «غَيْر» ہے اور نفس «تَّسْمِيَة» ہے۔ ہمارے نزدیک اسم «مُسَمَّى» کا بھی «غَيْر» ہے اور «تَّسْمِيَة» ہ کا بھی۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اسم سے مراد لفظ ہے جو آوازوں کے ٹکڑوں اور حروف کا مجموعہ ہے تو بالبداہت ثابت ہے کہ یہ «مُسَمَّى» کا «غَيْر» ہے اور اگر اسم سے مراد ذات «مُسَمَّى» ہے تو یہ وضاحت کو ظاہر کرتا ہے جو محض بیکار ہے۔ ثابت ہوا کہ اس بیکار بحث میں پڑنا ہی فضول ہے۔ اس کے بعد جو لوگ اسم اور «مُسَمَّى» کے فرق پر اپنے دلائل لائے ہیں، ان کا کہنا ہے محض اسم ہوتا ہے «مُسَمَّى» ہوتا ہی نہیں۔ جیسے «مَعْدُوم» کا لفظ۔ کبھی ایک «مُسَمَّى» کے کئی اسم ہوتے ہیں جیسے مترادف کبھی اسم ایک ہوتا ہے اور «مُسَمَّى» کئی ہوتے ہیں جیسے مشترک۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اور چیز ہے اور «مُسَمَّى» اور چیز ہے یعنی نام الگ ہے۔ اور نام والا الگ ہے۔ اور دلیل سنئیے کہتے ہیں اسم تو لفظ ہے دوسرا عرض ہے۔ «مُسَمَّى» کبھی ممکن یا واجب ذات ہوتی ہے۔ اور سنئیے اگر اسم ہی کو «مُسَمَّى» مانا جائے تو چاہیئے کہ آگ کا نام لیتے ہی حرارت محسوس ہو اور برف کا نام لیتے ہی ٹھنڈک۔ جبکہ کوئی عقلمند اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ اور دلیل سنئیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا» کہ ’اللہ کے بہت سے بہترین نام ہیں، تم ان ناموں سے اسے پکارو‘ ۱؎۔ [7-الأعراف:180] ‏‏‏‏ حدیث شریف ہے کہ ’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں‘ ۲؎ [صحیح مسلم:2677] ‏‏‏‏ تو خیال کیجئے کہ نام کس قدر بکثرت ہیں حالانکہ «مُسَمَّى» ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ «وحدہ لاشریک لہ» ہے اسی طرح «اسماء» کو اللہ کی طرف اس آیت میں مضاف کرنا۔ اور جگہ فرمانا: «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» ۳؎ [56-الواقعة:74] ‏‏‏‏ وغیرہ یہ اضافت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ اسم اور ہو اور «مُسَمَّى» اور کیونکہ اضافت کا مقتضا مغائرت کا ہے۔ اسی طرح یہ «وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا» یعنی ’اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو‘ ۴؎ [7-الأعراف:180] ‏‏‏‏ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ نام اور ہے نام والا اور۔ اب ان کے دلائل بھی سنئیے جو اسم اور «مُسَمَّى» کو ایک ہی بتاتے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’جلال و اکرام والے تیرے رب کا بابرکت نام ہے‘ ۵؎ [55-الرحمن:78] ‏‏‏‏ تو نام برکتوں والا فرمایا حالانکہ خود اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اس مقدس ذات کی وجہ سے اس کا نام بھی عظمتوں والا ہے۔ ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ زینب پر طلاق ہے تو طلاق اس کی بیوی جس کا نام زینب ہے ہو جاتی ہے۔ اگر نام اور نام والے میں فرق ہوتا تو نام پر طلاق پڑتی، نام والے پر کیسے پڑتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ اس ذات پر طلاق ہے جس کا نام زینت ہے۔ تسمیہ کا اسم سے الگ ہونا اس دلیل کی بنا پر ہے کہ تسمیہ کہتے ہیں کسی کا نام مقرر کرنے کو اور ظاہر ہے یہ اور چیز ہے اور نام والا اور چیز ہے۔ رازی کا قول یہی ہے کہ یہ سب کچھ تو لفظ «باسم» کے متعلق تھا۔ اب لفظ «الله» کے متعلق سنئے۔ اللہ خاص نام ہے رب تبارک و تعالیٰ کا۔ کہا جاتا ہے کہ اسم اعظم یہی ہے اس لیے کہ تمام عمدہ صفتوں کے ساتھ ہی موصوف ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ۶؎ [59-الحشر:22-23-24] ‏‏‏‏ یعنی ’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، جو رحم کرنے والا مہربان ہے، وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جو بادشاہ ہے پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے، محافظ ہے، غلبہ والا ہے، زبردست ہے، بڑائی والا ہے، وہ ہر شرک سے اور شرک کی چیز سے پاک ہے۔ وہی اللہ پیدا کرنے والا، مادہ کو بنانے والا، صورت بخشنے والا ہے۔ اس کے لیے بہترین پاکیزہ نام ہیں، آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔ وہ عزتوں اور حکمتوں والا ہے‘۔ ان آیتوں میں تمام نام صفاتی ہیں، اور لفظ اللہ ہی کی صفت ہیں یعنی اصلی نام «الله» ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے ہیں پاکیزہ اور عمدہ عمدہ نام۔

اللہ تعالٰی نے اپنے تمام (صفاتی) نام خود تجویز فرمائے ہیں ٭٭

پس تم اس کو ان ہی ناموں سے پکارو۔ اور فرماتا ہے «ادْعُوا اللَّـهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَـٰنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ» الخ یعنی ’اللہ کو پکارو۔ یا رحمن کو پکارو، جس نام سے پکارو، اسی کے پیارے پیارے اور اچھے اچھے نام ہیں‘ ۱؎ [17-الإسراء:110] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ ایک کم ایک سو جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے} ۲؎۔ [صحیح بخاری:7392] ‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ان ناموں کی تفصیل بھی آئی ہے ۳؎۔ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:صحيح، ضعيف بسرد الأسماء] ‏‏‏‏ اور دونوں کی روایتوں میں الفاظ کی کچھ تبدیلی کچھ کمی زیادتی بھی ہے۔ رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ ایک ہزار تو قرآن شریف اور صحیح حدیث میں ہیں اور ایک ہزار توراۃ میں اور ایک ہزار انجیل میں اور ایک ہزار زبور میں اور ایک ہزار لوح محفوظ میں۔

اللہ کے مترادف المعنی کوئی نام نہیں ٭٭

«الله» ہی وہ نام ہے
سورة الفاتحہ قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتدا کے ہیں۔ اس لئے اسے الفاتحہ یعنی فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے۔ اس کے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں مثلاً ام القرآن، السبع المثانی، القرآن العظیم، الشفاء، الرقیہ (دم) وغیرھا من الاسماء اس کا ایک اہم نام الصلوۃ بھی ہے جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قسمت الصلوة بيني وبين عبدي.» [الحديث صحيح مسلم كتاب الصلوة] میں نے «صلوة» (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ مراد سورة فاتحہ ہے جس کا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔ اس حدیث میں سورة فاتحہ کو نماز سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اس کی خوب وضاحت کردی گئی ہے فرمایا۔ «لاصلوة لمن لم يقرا بفاتحه الكتاب» [صحيح بخاري و مسلم] اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی۔ اس حدیث میں «من» کا لفظ عام ہے جو ہر نمازی کو شامل ہے منفرد ہو یا امام کے پیچھے مقتدی۔ سری نماز ہو یا جہری فرض نماز ہو یا نفل ہر نمازی کے لئے سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ اس عموم کی مزید تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نماز فجر میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم پڑھتے رہے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرات بوجھل ہوگئی، نماز ختم ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم بھی ساتھ پڑھتے رہے ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاتفعلوا الابام القرآن فانه لاصلوة لمن لم يقرابها» تم ایسا مت کرو (یعنی ساتھ ساتھ مت پڑھا کرو) البتہ سورة فاتحہ ضرور پڑھا کرو کیونکہ اس کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی [ابوداؤد، ترمذي، نسائي] اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من صلى صلوة لم يقرا فيها بام القرآن فهي خداج. ثلاثا غير تمام» جس نے بغیر فاتحہ کے نماز پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوہریرہ ؓ سے عرض کیا گیا: «انانكون وراء الامام» امام کے پیچھے بھی ہم نماز پڑھتے ہیں اس وقت کیا کریں؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: «اقرا بها فى نفسك» امام کے پیچھے تم سورة فاتحہ اپنے جی میں پڑھو۔ [صحيح مسلم] مذکورہ دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ قرآن مجید میں جو آتا ہے ﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ [7: 24] جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموش رہو، یا حدیث «واذا قرا فانصتوا» (بشرط صحت) جب امام قرات کرے تو خاموش رہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جہری نمازوں میں مقتدی سورة فاتحہ کے علاوہ باقی قرات خاموشی سے سنیں۔ امام کے ساتھ قرآن نہ پڑھیں۔ یا امام سورة فاتحہ کی فاتحۃ کی آیات وقفوں کے ساتھ پڑھے تاکہ مقتدی بھی احادیث صحیحہ کے مطابق سورة فاتحہ پڑھ سکیں یا امام سورة فاتحہ کے بعد اتنا سکتہ کرے کہ مقتدی سورة فاتحہ پڑھ لیں۔ اس طرح آیت قرآنی اور احادیث صحیحہ میں الحمد للہ کوئی تعارض نہیں رہتا۔ دونوں پر عمل ہو جاتا ہے۔ جب کہ سورة فاتحہ کی ممانعت سے یہ بات ثابت ہوتی کہ خاکم بدہن قرآن کریم اور احادیث ٹکراؤ ہے اور دونوں میں سے کسی ایک پر ہی عمل ہو سکتا ہے۔ بیک وقت دونوں پر عمل ممکن نہیں۔ «فتعوذ بالله من هذا.» دیکھئے سورة اعراف آیت 24 کا حاشیہ (اس مسئلے کی تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو کتاب تحقیق الکلام از مولانا عبدالرحمن مبارک پوری و توضیح الکلام مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ وغیرہ)۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ کے نزدیک سلف کی اکثریت کا قول یہ ہے کہ اگر مقتدی امام کی قرات سن رہا ہو تو نہ پڑھے اور اگر نہ سن رہا ہو تو پڑھے۔ [مجموع فتاوي ابن تيميه 23/265] ➊ یہ سورة مکی ہے۔ مکی یا مدنی کا مطلب یہ ہے کہ جو سورتیں ہجرت (3 1 نبوت) سے قبل نازل ہوئیں وہ مکی ہیں خواہ ان کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا ہو یا اس کے آس پاس اور مدنی وہ سورتیں ہیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں خواہ وہ مدینہ یا اس کے آس پاس میں نازل ہوئیں یا اس سے دور حتیٰ کہ مکہ اور اس کے اطراف ہی میں کیوں نہ نازل ہوئی ہوں۔ «بِسْمِ اللّٰهِ» کی بابت اختلاف کہ آیا یہ ہر سورت کی مستقل آیت ہے یا ہر سورت کی آیت کا حصہ ہے یا یہ صرف سورة فاتحہ کی ایک آیت ہے یا کسی بھی سورت کی مستقل آیت نہیں ہے اسے صرف دوسری سورت سے ممتاز کرنے کیلئے ہر سورت کے آغاز میں لکھا جاتا ہے علماء مکہ و کوفہ نے اسے سورة فاتحہ سمیت ہر سورت کی آیت قرار دیا ہے جبکہ علماء مدینہ بصرہ اور شام نے اسے کسی بھی سورت کی آیت تسلیم نہیں کیا۔ سوائے سورة نمل کی آیت نمبر 30 کے کہ اس میں بالاتفاق «بِسْمِ اللّٰهِ» اس کا جزو ہے۔ اس طرح (جہری) نمازوں میں اس کے اونچی آواز سے پڑھنے پر بھی اختلاف ہے۔ بعض اونچی آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں اور بعض سری (دھیمی) آواز سے اکثر علماء نے سری آواز سے پڑھنے کو بہتر قرار دیا ہے۔ «بِسْمِ اللّٰهِ» کو آغاز میں ہی الگ کیا گیا ہے یعنی اللہ کے نام سے پڑھتا یا شروع کرتا یا تلاوت کرتا ہوں ہر اہم کام کے شروع کرنے سے پہلے «» بسم اللہ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ چناچہ حکم دیا گیا ہے کہ کھانے، ذبح، وضو اور جماع سے پہلے «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھو۔ تاہم قرآن کریم کی تلاوت کے وقت، «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ، سے پہلے «اَعُوْذُ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ» پڑھنا بھی ضروری ہے جب تم قرآن کریم پڑھنے لگو تو اللہ کی جناب میں شیطان رجیم سے پناہ مانگو۔
صحیح احادیث میں اس کا نام {”فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، اَلصَّلَاةُ، سُوْرَةُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، سُوْرَةُ الْحَمْدِ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِيْ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِيْمُ، اُمُّ الْقُرْآنِ“} اور {”اُمُّ الْكِتَابِ“} آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل: ➊ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”ایک دفعہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا: ”یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔“ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا: ”یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔“ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا: ”آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے ہیں، آپ سے پہلے وہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے، فاتحۃ الکتاب اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ چیز آپ کو ضرور عطا کر دی جائے گی۔“ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ… ۸۰۶ ] ➋ ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھی، پھر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارے آنے میں کیا رکاوٹ بنی؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا: ”الحمد للہ رب العالمین ہی ”سبع مثانی“ ہے، (یعنی وہ سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) اور یہی القرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «ولقد آتیناک سبعا…» ‏‏‏‏: ۴۷۰۳ ] ➌ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ایک سفر میں تھے، راستے میں اترے تو ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی: ”قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے لوگ غائب ہیں تو کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟“ چنانچہ اس کے ساتھ ایک آدمی گیا جس کے متعلق ہمیں دم کرنے کا گمان نہیں تھا، اس نے اسے دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا۔ سردار نے اسے تیس بکریاں دینے کو کہا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اچھی طرح دم کر لیا کرتے تھے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، میں نے صرف ام الکتاب کے ساتھ دم کیا ہے۔“ ہم نے کہا: ”جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ پہنچیں کچھ نہ کرو۔“ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے؟ (بکریاں) تقسیم کر لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔“ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل فاتحۃ الکتاب: ۵۰۰۷ ] بخاری کی ایک روایت (۵۷۳۶) میں ہے کہ ان لوگوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا تھا، جب انھوں نے دم کی درخواست کی تو صحابہ رضی اللہ عنھم نے یہ کہہ کر کہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی تیس بکریوں کی شرط طے کی تھی۔ مسلم (۲۲۰۱) میں ہے کہ یہ دم کرنے والے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ ➍ خارجہ بن صلت کے چچا (علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اسلام لے آئے، پھر واپس گئے تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی زنجیروں میں بندھا ہوا تھا۔ اس کے گھر والے کہنے لگے: ”تمھارا یہ ساتھی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر لے کر آیا ہے تو تمھارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کرو؟“ تو میں نے اسے فاتحۃ الکتاب کے ساتھ دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا، انھوں نے مجھے ایک سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو (سارا واقعہ) بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا؟“ میں نے کہا: ”نہیں!“ آپ نے فرمایا: ”بکریاں لے لو! مجھے اپنی عمر کی قسم! جس نے باطل دم کے ساتھ کھایا (وہ جانے) تم نے تو حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔“ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقٰی: ۳۸۹۶ ] ➎ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: ”جس نے کوئی نماز پڑھی جس میں ام القرآن نہ پڑھی، وہ ناقص ہے۔“ تین دفعہ فرمایا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ”ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں۔“ تو فرمایا: ”اسے اپنے دل میں پڑھو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے ”صلاۃ“ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو نصف حصوں میں تقسیم کر لیا ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ تو جب بندہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری حمد کی“ اور جب وہ «‏‏‏‏الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ‏‏‏‏ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری ثنا کی“ اور جب وہ «‏‏‏‏مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری تمجید کی (بزرگی بیان کی)“ اور کبھی فرماتا ہے: ”میرے بندے نے (اپنا آپ) میرے سپرد کر دیا۔“ پھر جب وہ «‏‏‏‏اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» ‏‏‏‏ کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے: ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔“ پھر جب وہ «‏‏‏‏اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (5) صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» ‏‏‏‏ کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے: ”یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔“ [ مسلم، الصلاۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی …: ۳۹۵ ] چند فوائد: ➊ جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مراتب میں فرق ہے، ان میں سے بعض بعض سے افضل ہیں، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری اولاد آدم کے سردار ہیں، اسی طرح سورۂ فاتحہ تورات، انجیل اور قرآن کی ہر سورت سے بڑی سورت ہے، اگرچہ بہت سی سورتیں آیات کے اعتبار سے اس سے لمبی ہیں، مگر عظمت میں یہ سب سے بڑھ کر ہے، جیسا کہ آیات میں آیت الکرسی سب سے عظیم آیت ہے، گو اس سے لمبی آیات بہت سی ہیں۔ ➋ اس سورت کا نام ”فاتحہ“ اس لیے ہے کہ اس سے کتاب اللہ کا آغاز ہوتا ہے۔نماز میں قراء ت کا آغاز بھی اسی سے ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے: {” فَاتِحَةُ كُلِّ شَيْ ءٍ اَوَّلُهُ “} ”ہر چیز کا فاتحہ اس کے اوّل کو کہتے ہیں۔“ ➌ اس سورت کا نام {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} یا {”سُوْرَةُ الْحَمْدِ“} اس لیے ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی جامع حمد آئی ہے۔ ➍ اس کا نام {”اَلسَّبْعُ الْمَثَانِيْ“} اس لیے ہے کہ یہ سات آیات ہیں جو ہر نماز (فرض ہو یا نفل) کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں، نماز کے علاوہ بھی کثرت سے پڑھی جاتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجر (۸۷)۔ ➎ اس کے نام ”ام القرآن، ام الکتاب، القرآن العظیم“ اس لیے ہیں کہ اس میں مختصر طور پر قرآن مجید کے تمام بنیادی مضامین آگئے ہیں، باقی قرآن ان کی تفصیل ہے، چنانچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال، اس کی حمد، ثنا اور تمجید آ گئی ہیں، جیسا کہ اوپر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا اور آگے آیات کی تفسیر میں بیان ہو گا۔ {” يَوْمِ الدِّيْنِ “} میں آخرت، ثواب و عذاب اور وعدے اور وعید کا ذکر ہے۔ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} میں بندوں کو ایک اللہ سے مانگنے، اسی کے سامنے عاجزی کرنے، اپنی تمام عبادات زبانی ہوں یا بدنی یا مالی اسی کے لیے خاص کرنے اور اسے ہر شریک سے پاک قرار دینے کی تعلیم ہے۔ اسے ”توحید الوہیت“ کہتے ہیں، تمام پیغمبر اسی کی دعوت لے کر آئے۔ {” وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} میں اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے، اسی پر توکل کرنے اور عبادت اور دوسرے تمام معاملات میں اسی سے مدد مانگنے کی تعلیم ہے کہ اگر اس کی مدد نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اسے ”استعانت“ کہتے ہیں۔ {” الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ “} میں شریعت کے تمام احکام، پورا اسلام اور پورا قرآن شامل ہے۔ {” اِهْدِنَا “} میں زندگی کے ایک ایک لمحہ میں راہِ راست پر چلنے اور آخری دم تک بلکہ جنت میں پہنچنے تک اس پر قائم رہنے کی دعا کی تعلیم ہے۔ {” اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی تاریخ اور ان کے واقعات کی طرف اشارہ ہے اور ان جیسے اعمال صالحہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے، تاکہ ان کے ساتھ جنت میں جا سکیں۔ {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} میں یہود اور ان تمام اقوام کی تاریخ کا ذکر ہے جو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت پر اڑ گئے اور {” الضَّآلِّيْنَ “} میں نصاریٰ اور ان تمام لوگوں کے واقعات کی طرف اشارہ ہے جو راہِ راست سے بھٹک گئے اور ان دونوں قسم کے لوگوں کے اعمال بد سے اجتناب کی تلقین ہے، تاکہ ان کے ساتھ جہنم میں جانے سے بچے رہیں۔ (القاسمی) ان سات آیات میں قرآن مجید کے مزید مضامین کا ذکر ہر آیت کی الگ تفسیر میں بھی آئے گا۔ (ان شاء اللہ العزیز) ➏ اس سورت کا نام ”صلاۃ“ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے صلاۃ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو نصف حصوں میں تقسیم کر لیا ہے، اس کی وضاحت سورۃ الفاتحہ کے ساتھ فرمائی۔ معلوم ہوا جو ”صلاۃ“(نماز) اس ”صلاۃ“ (فاتحہ) کے بغیر ہو وہ ”صلاۃ“(نماز) ہی نہیں، جیسا کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا: [ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ] ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے۔“ [ بخاری، الأذان، باب وجوب القراء ۃ للإمام…: ۷۵۶۔ مسلم: ۳۹۴ ] ➐ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ پورے قرآن کے اسرار سورۂ فاتحہ میں، فاتحہ کے اسرار {” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} میں {” بِسْمِ اللّٰهِ “ } کے اسرار اس کی باء میں اور باء کے اسرار اس کے نقطے میں آ گئے ہیں۔ مگر سورۂ فاتحہ میں پورے قرآن کے مضامین آ جانے کا یہ مطلب درست نہیں، دراصل یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو نہ قرآن سمجھنا چاہتے ہیں نہ اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اپنے ایجاد کر دہ طریقوں کو قرآن کا نام دے کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ (المنار) ➑ سورۂ فاتحہ کا دوسری سورتوں سے تعلق: (1)کائنات کی تمام چیزوں کی تخلیق، پرورش اور حفاظت {” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} اور {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کے تحت ہیں۔ (2) توحید کے متعلق تمام قرآنی آیات {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} کے تحت ہیں۔ (3) داؤد علیہ السلام کے واقعہ میں اور دوسرے تمام مقامات میں عدل و انصاف کا ذکر {” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “} کے تحت ہے۔ (4) ابراہیم علیہ السلام کی قربانی {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کے تحت اور ان کی اور تمام انبیاء کی دعائیں {” اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ “} کے تحت ہیں۔ (5) ایوب علیہ السلام کی شفا، یونس علیہ السلام کی نجات، ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں محفوظ رہنا، زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد ملنا وغیرہ سب {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کے تحت ہیں۔ (6) ایمان دار اور متقی لوگوں کے احوال و واقعات اور ان کا نیک انجام آخری آیت کے تحت ہیں۔ اسی طرح بدکار اور سرکش لوگوں کے احوال و واقعات اور ان کا انجام بد بھی اسی آیت کے تحت ہیں۔ اسی کے مطابق دوسری تمام آیات و واقعات سمجھ لیں۔ (7) شیطان کا تکبر کے باعث دھتکارا ہوا ہونا {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} کی مثال ہے۔ (بدیع التفاسیر) ➒ یہ سورت اگرچہ اللہ کا کلام ہے مگر یہ بندوں کو سکھانے کے لیے نازل ہوئی ہے کہ وہ یوں کہیں۔ دلیل اس کی گزشتہ حدیث ہے کہ بندہ یوں کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے۔ اس میں بندے کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ پہلے اس کی حمد و ثنا اور تمجید کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ سے اس کا بندہ ہونے کے تعلق کا ذکر کیا جائے اور اپنی بندگی کا وسیلہ پیش کیا جائے، اس کے بعد اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اصل مقصد کا سوال کیا جائے جو صراط مستقیم کی ہدایت کا سوال ہے، جس سے اہم کوئی سوال نہیں۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا نام ”تعلیم المسئلہ“ بھی رکھا ہے، یعنی مانگنے کا طریقہ سکھانے والی سورت۔ ➓ بعض لوگ زندہ یا فوت شدہ لوگوں کے نام کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! فلاں کے وسیلے سے یا واسطے سے یا بحرمت فلاں میری دعا قبول فرما، یہ بدعت ہے اور قرآن و سنت سے کہیں ثابت نہیں اور اگر یہ عقیدہ رکھے کہ ان بزرگوں کا نام لیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے منوا لیتے ہیں تو یہ شرک ہے جس میں مشرکین عرب مبتلا تھے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳)۔ صحیح وسیلہ جو ثابت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے وسیلے سے دعا کرنا ہے، یا اپنے کسی صالح عمل کے وسیلے سے دعا کرنا، جیسا کہ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} میں ہے اور جیسا کہ آل عمران (۱۹۳) میں ایمان لانے کے وسیلے سے دعا کی گئی ہے اور غار والے تین اصحاب نے اپنے اپنے خالص عمل کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار: ۳۴۶۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] یا کسی زندہ آدمی سے دعا کروانا، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کروایا کرتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کی دعا کروایا کرتے تھے۔ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب ذکر العباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ: ۳۷۱۰، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ان تین صورتوں کے سوا وسیلے کی جتنی صورتیں ہیں وہ کچھ بدعت ہیں اور کچھ شرک کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے ان سے اجتناب لازم ہے۔ ⓫ یہ سورت بہترین دم ہے، سانپ کے زہر جیسی خطرناک بیماری اور دیوانگی جیسی مشکل سے درست ہونے والی بیماری کا دور ہونا اس کی بے انتہا شفائی تاثیر کی دلیل ہے۔ میری ہمشیرہ ایک ٹانگ سے معذور تھی اور بیساکھی کے سہارے سے چلتی تھی، اس کی تندرست ٹانگ بھی بے کار ہو گئی، سارے گھر والے سخت مصیبت میں پھنس گئے، میرے والد صاحب کو ایک عالم نے سورۂ فاتحہ کا دم کرنے کی تاکید کی۔ تیرھویں دن ہمشیرہ دیوار کے سہارے سے ٹانگ پر کھڑی ہو گئی اور پھر اس کی ٹانگ بالکل تندرست ہو گئی۔ تقریباً چالیس برس ہو گئے آج تک وہ بیساکھی کے ساتھ اس ٹانگ پر چلتی پھرتی ہے۔ مجھے زندگی میں دو تین دفعہ نہایت سخت بیماری پیش آئی، علاج کے ساتھ ساتھ گھر والے سورۂ فاتحہ کا دم کرتے رہے، اگرچہ کچھ مدت لگی مگر اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی۔ (الحمد للہ) ⓬ ان احادیث سے قرآن کے ساتھ دم پر اجرت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ: [ اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ ] (سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو اللہ کی کتاب ہے) [ بخاری، الطب، باب الشروط فی الرقیۃ بفاتحۃ الکتاب: ۵۷۳۷ ] اس کی دلیل ہیں۔کتاب اللہ کی کتابت، طباعت، جلد بندی، خرید و فروخت اور تعلیم وغیرہ پر اجرت نہایت پاکیزہ اجرت ہے۔ اہل کتاب کو جو اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت لینے پر ملامت کی گئی اس کی وجہ ان کا حق کو چھپانا اور دنیاوی مفاد کے لیے غلط فتوے دینا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۱، ۷۹، ۱۷۴) اور آل عمران (۱۸۷)۔ (آیت 1){ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ:} شیخ المفسرین طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ادب سکھایا کہ اپنے تمام کاموں اور اہم مواقع سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی صفات عالیہ کا ذکر کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کو طریقہ سکھایا کہ اپنی گفتگو کا آغاز اور اپنے خطوط، کتابوں اور تمام ضروری کاموں کی ابتدا اسی کے ساتھ کریں، یہاں تک کہ {” بِسْمِ اللّٰهِ “} (اللہ کے نام کے ساتھ) کہتے ہوئے یہ بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ اللہ کے نام کے ساتھ کیا کرنا ہے، حذف شدہ لفظ خود ہی واضح ہوتا ہے کہ میں اللہ کے نام کے ساتھ پڑھتا ہوں یا کھاتا ہوں یا فلاں کام کرتا ہوں۔ یہاں {” اسم“} (نام) {”تَسْمِيَةٌ“} (نام لینے) کے معنی میں ہے، جیسا کہ{”كَلَامٌ“ ”تَكْلِيْمٌ“} (کلام کرنے) کے معنی میں اور {”عَطَاءٌ“ ”اِعْطَاءٌ“} (دینے) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہے کہ میں اللہ کا نام لینے اور اسے یاد کرنے کے ساتھ پڑھتا ہوں (یا کوئی بھی کام کرتا ہوں) اور اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کا نام لینے کے ساتھ قراء ت (یا کسی بھی کام) کا آغاز کرتا ہوں۔“ مختصراً لفظ {” اللّٰه “} اس ہستی کا علم (ذاتی نام) ہے جو سب سے بلند و برتر اور سب کی خالق و مالک ہے۔ اس لفظ کا اصل {”اِلَاهٌ“} ہے۔ الف لام لگایا تو {”اَلْاِلَاهٌ“} بن گیا۔ کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لیے {” اِلاَهٌ “} کا ہمزہ حذف کر دیا گیا اور الف لام والے لام کو {”اِلَاهٌ“} کے لام میں مدغم کر دیا، {”اِلَاهٌ“} کے لام کے بعد والا الف بھی کثرت استعمال کی وجہ سے لکھنے میں ترک کر دیا گیا، تو لفظ {” اللّٰه “} ہو گیا۔ یہ {”فِعَالٌ“} بمعنی ”مفعول“ ہے، یعنی {”اِلَاهٌ“} بمعنی {”مَأْلُوْهٌ“} ہے، یعنی وہ ذات جس کی عبادت کی جاتی ہے۔ {”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کی تفسیر اگلی آیت میں آ رہی ہے۔ {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} سورۂ نمل میں بالاتفاق آیت کا جزو ہے۔ صحابہ کے اجماع کے ساتھ اسے فاتحہ اور دوسری سورتوں کے شروع میں لکھا گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورۂ توبہ کے سوا ہر سورت کا جزو ہے۔ ہر سورت کے ساتھ اس کا نازل ہونا صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سورت کا دوسری سے الگ ہونا اس وقت تک نہیں پہچانتے تھے جب تک آپ پر {” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} نازل نہیں ہوتی تھی۔ [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب من جھر بھا: ۷۸۸ ]
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الحمد اللہ کی تفسیر ٭٭

ساتوں قاری «الْحَمْدُ» کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کو مبتدا خبر مانتے ہیں۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور روبہ بن عجاج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «دال» پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے۔ ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ «الْحَمْدُ» کی «دال» کو اور «الله» کے پہلے «لام» دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس «لام» کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے، مگر شاذ ہے۔ حسن رحمہ اللہ اور زید بن علی رحمہ اللہ ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور «لام» کے تابع «دال» کو کرتے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں۔ پھر بےشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں۔ اس کی لازوال نعمتیں، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے لائق ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/1] ‏‏‏‏

«الْحَمْدُ لِلَّهِ» یہ ثنا کا کلمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثنا و خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں گویا یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو «الْحَمْدُ لِلَّهِ» بعض نے کہا کہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثنا کرنا ہے۔ اور «الشُّكْرُ لِلَّهِ» کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:138/1] ‏‏‏‏ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے۔ کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں۔ جعفر صادق رحمہ اللہ، ابن عطا صوفی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کو معتبر کرنے کے لیے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی «الْحَمْدُ لِلَّهِ شُكْرًا» کہے تو جائز ہے۔ دراصل علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ «حَمْدَ» کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے۔ عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں۔

ہاں اس میں اختلاف ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ عام ہے یا «شُّكْر» کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر «شُّكْر» کے معنوں میں آتا ہے۔ اس لیے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر «حَمِدْتُهُ» کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور «شُّكْر» کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے «شُّكْر» کا لفظ خاص ہے۔ شہ سواری کے حصول پر «شَكَرْتُهُ» نہیں کہہ سکتے البتہ «شَكَرْتُهُ عَلَى كَرَمِهِ وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ» کہہ سکتے ہیں۔ یہ تھا خلاصہ متاخرین کے قول کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں «حمد» مقابل ہے «ذم» کے۔ لہٰذا یوں کہتے ہیں کہ «حَمِدْتُ الرَّجُلَ أَحْمَدُهُ حَمْدًا وَمَحْمَدَةً فَهُوَ حَمِيدٌ وَمَحْمُودٌ» تحمید میں «حمد» سے زیادہ مبالغہ ہے۔ «حمد» «شکر» سے عام ہے۔ کسی محسن کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کی ثنا کرنے کو «شکر» کہتے ہیں۔ عربی زبان میں «شَكَرْتُهُ» اور «شَكَرْتُ لَهُ» دونوں طرح کہتے ہیں لیکن «لام» کے ساتھ کہنا زیادہ فصیح ہے۔ مدح کا لفظ «حمد» سے بھی زیادہ عام ہے اس لیے کہ زندہ مردہ بلکہ جمادات پر بھی مدح کا لفظ بول سکتے ہیں۔ کھانے اور مکان کی اور ایسی اور چیزوں کی بھی مدح کی جاتی ہے احسان سے پہلے، احسان کے بعد، لازم صفتوں پر، متعدی صفتوں پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو اس کا عام ہونا ثابت ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حمد کی تفسیر اقوال سلف سے ٭٭

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور بعض روایتوں میں ہے کہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کا کیا مطلب؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرما لیا ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا کہنا اللہ کو بھلا لگتا ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:15/1:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ کلمہ شکر ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میرا شکر کیا ۲؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:151] ‏‏‏‏ اس کلمہ میں شکر کے علاوہ اس کی نعمتوں، ہدایتوں اور احسان وغیرہ کا اقرار بھی ہے۔ کعب احبار رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں یہ اللہ کی چادر ہے۔ ایک حدیث میں بھی ایسا ہی ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہہ لو گے تو تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر لو گے اب اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا} ۳؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:152:ضعیف] ‏‏‏‏ {اسود بن سریع ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ میں نے ذات باری تعالیٰ کی حمد میں چند اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو سناؤں فرمایا: اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد بہت پسند ہے} ۴؎۔ [مسند احمد:435/3:حسن] ‏‏‏‏

ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ذکر «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے } ۱؎۔ [سنن ترمذي:3383،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ {جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی اور وہ اس پر «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہے تو دی ہوئی نعمت لے لی ہوئی سے افضل ہو گی} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:3805،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں اگر میری امت میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا دے دے اور وہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہے تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل ہو گا۔

قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا دے دینا اتنی بڑی نعمت نہیں جتنی «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنے کی توفیق دینا ہے اس لیے کہ دنیا تو فانی ہے اور اس کلمہ کا ثواب باقی ہی باقی ہے ۱؎۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:876،ضعیف] ‏‏‏‏ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا» ۲؎ [18-الكهف:46] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’مال اور اولاد دنیا کی زینت ہے اور نیک اعمال ہمیشہ باقی رہنے والے، ثواب والے اور نیک امید والے ہیں‘۔ ابن ماجہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے ایک مرتبہ کہا «يَا رَبِّ، لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ» تو فرشتے گھبرا گئے کہ ہم اس کا کتنا اجر لکھیں۔ آخر اللہ تعالیٰ سے انہوں نے عرض کی کہ تیرے ایک بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے اسے کس طرح لکھیں، پروردگار نے باوجود جاننے کے ان سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس نے یہ کلمہ کہا ہے، فرمایا: ”تم یونہی اسے لکھ لو میں اس اسے اپنی ملاقات کے وقت اس کا اجر دے دوں گا“} ۳؎۔ [سنن ابن ماجہ:3801،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏

قرطبی رحمہ اللہ ایک جماعت علماء سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» سے بھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» افضل ہے کیونکہ اس میں توحید اور حمد دونوں ہیں۔ اور علماء کا خیال ہے کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» افضل ہے اس لیے کہ ایمان و کفر میں یہی فرق کرتا ہے، اس کے کہلوانے کے لیے کفار سے لڑائیاں کی جاتی ہیں۔ جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1399] ‏‏‏‏ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ {جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کرام نے کہا ہے ان میں سب سے افضل «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ہے} ۲؎۔ [سنن ترمذي:3585،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ {افضل ذکر «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے} ۳؎۔ [سنن ترمذي:3383،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

الحمد میں «الف» «لام» استغراق کا ہے یعنی حمد کی تمام تر قسمیں سب کی سب صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت ہیں۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ باری تعالیٰ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور تمام ملک ہے۔ تیرے ہی ہاتھ تمام بھلائیاں ہیں اور تمام کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں ۱؎۔ [مسند احمد:346/5:ضعیف] ‏‏‏‏ «رب» کہتے ہیں «مَالِكُ» اور «مُتَصَرِّفُ» کو لغت میں اس کا اطلاق سردار اور اصلاح کے لیے تبدیلیاں کرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ان سب معانی کے اعتبار سے ذات باری تعالیٰ کے لیے یہ خوب جچتا ہے۔ «رب» کا لفظ بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ہاں اضافت کے ساتھ ہو تو اور بات ہے جیسے «رَبُّ الدَّارِ» یعنی گھر والا وغیرہ۔ بعض کا تو قول ہے کہ اسم اعظم یہی ہے۔

عالمین سے مراد ٭٭

«الْعَالَمِينَ» جمع ہے «عَالَمٍ» کی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق کو «عَالَمٍ» کہتے ہیں۔ لفظ «عَالَمٍ» بھی جمع ہے اور اس کا واحد لفظ ہے ہی نہیں۔ آسمان کی مخلوق خشکی اور تری کی مخلوقات کو بھی «عَوَالِمُ» یعنی کئی «عَالَمٍ» کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک زمانے، ایک ایک وقت کو بھی «عَالَمٍ» کہا جاتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد کل مخلوق ہے خواہ آسمانوں کی ہو یا زمینوں کی یا ان کے درمیان کی، خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ «علی ہذا القیاس» اس سے جنات اور انسان بھی مراد لیے گئے ہیں۔ سعید بن جیر مجاہد اور ابن جریح رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہ مروی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی غیر معتبر سند سے یہی منقول ہے اس قول کی دلیل قرآن کی آیت «لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:1] ‏‏‏‏ بھی بیان کی جاتی ہے یعنی تاکہ وہ «عَالَمِينَ» یعنی جن اور انس کے لیے ڈرانے والا ہو جائے۔ فراء اور ابوعبید کا قول ہے کہ سمجھدار کو عالم کہا جاتا ہے۔ لہٰذا انسان، جنات، فرشتے، شیاطین کو عالم کہا جائے گا۔ جانوروں کو نہیں کہا جائے گا۔ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ، ابو محیص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر روح والی چیز کو عالم کہا جاتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ ہر قسم کو ایک عالم کہتے ہیں مروان بن محمد عرف جعد جن کا لقب حمار تھا جو بنوامیہ میں سے اپنے زمانے کے خلیفہ تھے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سترہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں۔ آسمانوں والے ایک عالم، زمینوں والے سب ایک عالم اور باقی کو اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کو ان کا علم نہیں۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کل ایک عالم ہیں، سارے جنات کا ایک عالم ہے اور ان کے سوا اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار عالم اور ہیں۔ فرشتے زمین پر ہیں اور زمین کے چار کونے ہیں، ہر کونے میں ساڑھے تین ہزار عالم ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ قول بالکل غریب ہے اور ایسی باتیں جب تک کسی صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔

حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک ہزار امتیں ہیں، چھ سو تری میں اور چار سو خشکی میں۔ سعید بن مسیب سے یہ بھی مروی ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک سال ٹڈیاں نہ نظر آئیں بلکہ تلاش کرنے کے باوجود پتہ نہ چلا۔ آپ غمگین ہو گئے یمن، شام اور عراق کی طرف سوار دوڑائے کہ کہیں بھی ٹڈیاں نظر آتی ہیں یا نہیں تو یمن والے سوار تھوڑی سی ٹڈیاں لے کر آئے اور امیر المؤمنین کے سامنے پیش کیں آپ نے انہیں دیکھ کر تکبیر کہی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ان میں سے سب سے پہلے جو امت ہلاک ہو گی وہ ٹڈیاں ہوں گی بس ان کی ہلاکت کے بعد پے در پے اور سب امتیں ہلاک ہو جائیں گی جس طرح کہ تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک کے بعد ایک سب موتی جھڑ جاتے ہیں ۱؎۔ [مجمع الزوائد:322/7:باطل موضوع] ‏‏‏‏ اس حدیث کے راوی محمد بن عیسیٰ ہلالی ضعیف ہیں۔ سعید بن میب رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے۔

وہب بن منبہ فرماتے ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں، دنیا کی ساری کی ساری مخلوق ان میں سے ایک عالم ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چالیس ہزار عالم ہیں ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔ زجاج کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا آخرت میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ سب عالم ہے۔ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے اس لیے کہ یہ تمام عالمین پر مشتمل لفظ ہے۔ جیسے فرعون کے اس سوال کے جواب میں رب العالمین کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا» ۱؎ [26-الشعراء:23] ‏‏‏‏ ”آسمانوں زمینوں اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب۔‏‏‏‏“ «عالم» کا لفظ علامت سے مشتق ہے اس لیے کہ «عالم» یعنی مخلوق اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے پر نشان اور اس کی وحدانیت پر علامت ہے ۲؎۔ [تفسیر قرطبی:139/1] ‏‏‏‏ جیسے کہ ابن معتز شاعر کا قول ہے۔ «فَيَا عَجَبًا كَيْفَ يُعْصَى الْإِلَهُ ... أَمْ كَيْفَ يَجْحَدُهُ الْجَاحِدُ ... وَفِي كُلِّ شَيْءٍ لَهُ آيَةً ... تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ وَاحِدُ» یعنی تعجب ہے کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور کس طرح اس سے انکار کیا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز میں نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے «الْحَمْدُ» کے بعد اب «الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» کی تفسیر سنئے۔
«اَلْحَمْدُ» میں «ال» مخصوص کے لئے ہے یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اس کے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق اور سزاوار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے اندر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے اس لئے حمد (تعریف) کا مستحق بھی وہی ہے۔ اللہ یہ اللہ کا ذاتی نام ہے اس کا استعمال کسی اور کے لئے جائز نہیں لَ «ا اِلٰهَ افضل الذكر» اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کو افضل دعا کہا گیا ہے۔ [ترمذي، نسائي وغيره] صحیح مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے «اَلْحَمْدُ لِلّهِ» میزان کو بھر دیتا ہے اسی لئے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ ہر کھانے پر اور پینے پر بندہ اللہ کی حمد کرے۔ [صحيح مسلم] ➋ «رَبْ» اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، جس کا معنی ہر چیز کو پیدا کر کے ضروریات کو مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا۔ اس کے استعمال بغیر اضافت کے کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ «الْعَالَمِيْنَ» «عَالَمْ» (جہان) جہان کی جمع ہے۔ ویسے تو تمام خلائق کے مجموعہ کو عالم کہا جاتا ہے، اس لئے اس کی جمع نہیں لائی جاتی۔ لیکن یہاں اس کی ربوبیت کاملہ کے اظہار کے لئے عالم کی بھی جمع لائی گئی ہے، جس سے مراد مخلوق کی الگ الگ جنسیں ہیں۔ مثلاً عالم جن، عالم انس، عالم ملائکہ اور عالم وحوش و طیور وغیرہ۔ ان تمام مخلوقات کی ضرورتیں ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں لیکن «رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» سب کی ضروریات، ان کے احوال و ظروف اور طباع و اجسام کے مطابق مہیا فرماتا ہے۔
(آیت 2) ➊ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:} حمد کا معنی کسی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس سے مراد حمد کے تمام افراد ہیں، یعنی جو تعریف بھی ہے اللہ ہی کی ہے، نہ کسی دوسرے خود ساختہ معبود کی نہ کسی مخلوق کی، کیونکہ مخلوق میں اگر تعریف کے لائق کوئی خوبی ہے تو وہ اسی کی پیدا کردہ ہے۔ ➋ لفظ ”اللہ“ چونکہ ذاتی نام ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء و صفات آ جاتے ہیں، وہ ننانوے اسماء و صفات بھی جن کا ذکر حدیث میں ہے اور وہ بھی جو ان کے علاوہ ہیں، خواہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا ان کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ ذات گرامی ہے جو نبی بھی ہے رسول بھی، شاہد، مبشر اور نذیر بھی، داعی الی اللہ اور سراج منیر بھی، ماحی اور عاقب بھی، خاتم النّبیین اور سید ولد آدم بھی، غرض اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم (ذاتی نام) میں آپ کے تمام نام اور تمام صفات آ جاتی ہیں، اسی طرح لفظ ”اللہ“ علم (ذاتی نام) ہونے کی وجہ سے تمام اسماء و صفات کا جامع ہے، اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ {”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} دعویٰ بھی ہے اور دلیل بھی، یعنی سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور ہر صفت پر اس کی حمد لازم ہے۔ ➌ {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} میں کئی عموم ہیں اور ایک خصوص ہے۔ {” اَلْحَمْدُ “} میں الف لام استغراق کا ہونے کی وجہ سے کئی قسم کا عموم ہے اور {” لِلّٰهِ “} میں ایک خصوص ہے، وہ یہ کہ اس میں لام اختصاص کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حمد اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ حمد کے عموم میں فاعل کا بھی عموم ہے کہ ہر حمد کرنے والا درحقیقت اللہ ہی کی تعریف کرتا ہے، خواہ وہ خود رب العالمین ہو یا انسان یا جن یا فرشتہ یا کوئی بھی مخلوق ہو۔ ایک مقام پر فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ» [ بنی إسرائیل: ۴۴ ] ”جو بھی شے ہے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔“ اسی طرح حمد کے عموم میں مکان (جگہ) کا بھی عموم ہے، یعنی وہ کسی بھی جگہ میں ہو، زمین میں ہو یا آسمان میں، یا ان کے درمیان ہو یا عرش پر، فرمایا: «وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» [ الروم: ۱۸ ] یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہے۔ اسی طرح زمان کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد دن میں ہو یا رات میں، ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں، دنیا میں ہو یا آخرت میں، سب کی سب اللہ کے لیے خاص ہے، فرمایا: «وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ» [ القصص: ۷۰ ] ”اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے دنیا اور آخرت میں سب تعریف ہے۔“ اس طرح {” اَلْحَمْدُ “} میں خود حمد کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد کسی بھی لفظ کے ساتھ ہو یا کسی بھی زبان میں، بلند آواز سے ہو یا آہستہ، دل سے ہو یا زبان سے یا دوسرے اعضاء کے ساتھ، غرض تعریف کوئی بھی ہو صرف اکیلے اللہ کے لیے خاص ہے، کسی دوسرے میں کوئی خوبی یا قابل تعریف بات ہے تو وہ اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کر دہ ہے، اس لیے اس کی وجہ سے اس کی تعریف بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے۔ ➍ بعض اہل علم نے قرآن مجید کے چار حصے کیے ہیں، ہر حصہ {” اَلْحَمْدُ “} سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ”سورۂ فاتحہ“ سے شروع ہوتا ہے، دوسرا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ» سورۂ انعام سے، تیسرا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ» سورۂ کہف سے اور چوتھا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ» سورۂ سبا سے۔ ➎ {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} ایسا مبارک کلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا آغاز اس سے ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر خطبہ کی ابتدا اس سے کرتے تھے۔ (مسلم: ۴۵؍۸۶۸) کھانا کھانے کے بعد اور چھینک آنے پر اللہ کی حمد کرتے تھے۔ (بخاری: ۵۴۵۸، ۶۲۲۴) سوتے وقت بستر پر آ کر یہ دعا پڑھتے: [اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَ آوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں کافی ہو گیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، کیونکہ کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔“ [ مسلم، الذکر والدعاء، باب الدعاء عند النوم: ۲۷۱۵، عن أنس رضی اللہ عنہ ] صبح اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے: [ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ [ بخاری، الدعوات، باب وضع الید تحت الخد الیمنٰی: ۶۳۱۴، عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ ] قیامت کے دن لوگ قبروں سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے نکلیں گے، فرمایا: «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ» [ بنی إسرائیل: ۵۲] ”جس دن وہ تمھیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے۔“ اور جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ کی حمد کریں گے، فرمایا: «وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِهٰذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ» [ الأعراف: ۴۴] ”اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔“ اور جنت میں ان کی گفتگو کا اختتام بھی اسی پر ہوا کرے گا، فرمایا: «دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ یونس: ۱۰ ] ”ان کی دعا ان (جنتوں) میں یہ ہو گی ”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان میں سلام ہو گی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہو گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین) ➏ کلمہ {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار بھی ہے، کلمۂ شکر بھی اور بہترین مکمل دعا بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاکیزگی نصف ایمان ہے اور ”الحمد للہ“ میزان کو بھر دیتا ہے۔“ [ مسلم، الطہارۃ، باب فضل الوضوء: ۲۲۳، عن أبی مالک الأشعری رضی اللہ عنہ ] تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر عبادت کا اصل مقصود اسے پکارنا اور اس سے مانگنا ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ] ”پکارنا ہی عبادت ہے۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب منہ …: ۳۳۷۲، و صححہ الألبانی ] انسان کی ہر عبادت: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد، غرض زندگی کا ہر لمحہ اس کے حکم کے مطابق غلام بن کر گزارنا اس سے مانگنے ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ ان میں سے بہترین صورت اس کی تعریف کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے، اس پر وہ مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، فرمایا: «لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ» [ إبراہیم: ۷ ] ”بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا۔“ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ] ”سب سے بہتر ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ: ۳۳۸۳، عن جابر رضی اللہ عنہ۔ السلسلۃ الصحیحۃ: ۱۴۹۷ ] ایک عرب شاعر نے اپنے ممدوح کے متعلق کہا ہے: {اِذَا أَثْنٰي عَلَيْكَ الْمَرْأُ يَوْمًا كَفَاهُ مِنْ تَعَرُّضِهِ الثَّنَاءُ} ”جب کوئی شخص کسی دن تمھاری تعریف کرتا ہے تو اسے اس کے سوال کرنے سے تعریف ہی کافی ہو جاتی ہے۔“ جب ایک سخی شخص جو مخلوق ہے، صرف تعریف سن کر نواز دیتا ہے، صاف لفظوں میں سوال کا انتظار نہیں کرتا تو رب العالمین جو جواد بھی ہے، ماجد بھی، اپنی حمد پر کیوں نہیں نوازے گا۔ خصوصاً جب اس سے بڑھ کر اپنی تعریف سن کر خوش ہونے والا کوئی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی نہیں جسے اللہ سے زیادہ (اپنی) تعریف پسند ہو، اس لیے اس نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قول اللہ عزوجل: «قل إنما حرم ربی الفواحش…» : ۴۶۳۷، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ] ➐ {رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:رَبِّ “} کا معنی ہے سردار جس کی اطاعت ہوتی ہو اور مالک اور پرورش کرنے والا۔ یہ {” رَبَّ يَرُبُّ (ن) “} (پرورش کرنا) میں سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، یا مصدر ہے جو مبالغہ کے لیے اسم فاعل کی جگہ استعمال ہوا ہے، جیسے {”زَيْدٌ عَدْلٌ“ ”زَيْدٌ عَادِلٌ“} کی جگہ استعمال ہوتا ہے، یعنی زید اتنا عادل ہے کہ اس کا وجود ہی عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ میں یہ تینوں صفات بدرجۂ اتم موجود ہیں، اس سے بڑا سید کوئی نہیں، وہی سب کا مالک ہے اور ہر ایک کو پیدائش سے کمال تک پہنچانے والا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا بھی وہی ہے، گویا وہ ذات پاک سراپا پرورش ہے۔ ➑ {” الْعٰلَمِيْنَ”اَلْعَالَمُ“} کی جمع ہے، جہان۔ {”اَلْعَالَمُ“} جمع ہے جس کا واحد نہیں، جیسے {”قَوْمٌ، رَهْطٌ، نَاسٌ“} وغیرہ۔ معنی اس کا ہے: {” مَا يُعْلَمُ بِهِ الشَّيْءُ“} جس کے ذریعے سے کسی چیز کا علم حاصل ہو، جیسا کہ {”خَاتَمٌ“} کا معنی ہے: {”مَا يُخْتَمُ بِهِ“} جس کے ساتھ مہر لگائی جائے۔ عرب یہ وزن آلہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہان کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ کوئی بھی مخلوق ہو اس کے ذریعے سے خالق کا علم حاصل ہوتا ہے کہ اسے پیدا کرنے والا موجود ہے۔ {”الْعٰلَمِيْنَ “} کو جمع اس لیے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلو ق ایک الگ جہان ہے، مثلاً عالم انس، عالم جن، عالم نبات، عالم جماد، عالم ارض اور عالم سماء وغیرہ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی عالم ہیں، مثلاً انسانوں میں ہر جنس، ہر زبان اور ہر علاقے والوں کا الگ جہان ہے۔ غرض اتنے بے حساب جہاں ہیں جنھیں رب تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، فرمایا: «‏‏‏‏وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ» ‏‏‏‏ [ المدثر: ۳۱ ] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ ایک چیونٹی ہی کی ہزاروں قسمیں ہیں، پرندوں کے بے شمار جہان ہیں، سمندر کی مخلوقات کا شمار ہی نہیں، بے شمار کہکشائیں اور ان کے سیارے جن کے مقابلے میں سورج چاند وغیرہ ایک انگوٹھی کی طرح ہیں، ہر ایک الگ جہان ہے۔ ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے وحدہ لا شریک لہ ہونے کے علم کا ذریعہ ہے۔ رب العالمین ان میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے والا، پھر ہر لمحہ اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا اور اسے کمال تک پہنچانے والا ہے۔ غرض سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ {” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} ہے۔ ➒ {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں، پہلی صفت {” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} میں قرآن کے بنیادی مضامین میں سے توحید کے علاوہ وعدہ اور وعید دونوں موجود ہیں کہ پرورش کرنے والا خوش ہو کر نوازتا ہے تو ناراض ہو کر محروم بھی کر دیا کرتا ہے۔
الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رحمان اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
بہت مہربان رحمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو (سب پر) بڑا مہربان (اور خاص بندوں پر) نہایت رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان ٭٭

اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «رَبِّ الْعَالَمِينَ» کے وصف کے بعد آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے۔ جیسے فرمایا: «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [15-الحجر:49] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی درد ناک عذاب ہیں‘۔ اور فرمایا «إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۲؎ [6-الأنعام:165] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے‘۔ «رب» کے لفظ میں ڈراوا ہے اور «رحمن» اور «رحیم» کے لفظ میں امید ہے۔ صحیح مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا (‏‏‏‏تو اس وقت)‏‏‏‏‏‏‏‏ اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا“} ۳؎۔ [صحیح مسلم:2755] ‏‏‏‏
1 رحمن بروز فعلان اور رحیم بر وزن فعیل ہے۔ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ جن میں کثرت اور دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں رحمٰن میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے اسی لیے رحمٰن الدنیا والآخرہ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت جس میں بلا تخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا۔ یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔ اللھم اجعلنا منھم۔ آمین
(آیت 3) ➊ { الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ:} یہ دوسری اور تیسری صفت ہے۔ جب سارے جہانوں کی ربوبیت کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی اللہ کی بے حد و حساب رحمت کا ذکر ہوا، کیونکہ رحمت کے بغیر ربوبیت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں رحم میں سے مبالغے کے صیغے ہیں۔ معنی دونوں کا بہت زیادہ رحم والا ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ {” الرَّحْمٰنِ “} میں مبالغہ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے حروف {” الرَّحِيْمِ “} سے زیادہ ہیں (اور حروف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے) اور اس لیے بھی کہ لفظ ”اللہ “ کی طرح ”رحمان“ بھی صرف باری تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ ”رحیم “ بعض اوقات مخلوق پر بھی آ جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۲۸ ] ”مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہاں رحم میں مبالغے کا اظہار کرنے کے لیے دو لفظ کیوں ذکر فرمائے؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ تاکید کے لیے ہے، مگر اکثر علماء ایک مادے (رحم) سے مشتق ہونے کے باوجود ان دونوں کے درمیان فرق مانتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ {” الرَّحْمٰنِ “} کا معنی بڑی بڑی نعمتیں عطا کرنے والا اور {” الرَّحِيْمِ “} کا معنی دقیق اور باریک نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمان وہ ہے جس کی رحمت سب کے لیے عام ہے، مسلم ہوں یا کافر، جب کہ رحیم وہ ہے جو خاص طور پر مومنوں کو رحمت سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمان وہ ہے جس کی رحمت دنیا میں مسلم و کافر سب کے لیے اور آخرت میں صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور رحیم وہ جو آخرت میں خاص مسلمانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ مگر ان تینوں اقوال کی پختہ دلیل، جس پر اعتراض نہ ہو، مجھے معلوم نہیں ہو سکی۔ مفسر قاسمی نے شیخ محمد عبدہ مصری رحمہ اللہ سے ایک مدلل و مضبوط فرق نقل کیا ہے، میں اسے تھوڑی سی وضاحت اور اضافے سے نقل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ رحمان {” فَعْلَانُ“} کے وزن پر ہے جو معنی کی کثرت پر دلالت کرتا ہے، مثلاً {”عَطْشَانُ“} بہت زیادہ پیاسا، {”غَرْثَانُ“} بہت زیادہ بھوکا اور {”غَضْبَانُ“} غصے سے بھرا ہوا۔ اس وزن میں معنی کی کثرت تو ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے، بلکہ وہ ختم بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام طور سے لوٹے تو {”غَضْبَانُ“} (غصے سے بھرے ہوئے) تھے، مگر ہارون علیہ السلام کا عذر سن کر غصہ ختم ہو گیا، بلکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ گویا رحمان کا معنی وہ ذات ہے جس میں بہت ہی زیادہ رحمت ہے، جو بے حد و بے حساب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اس کتاب میں لکھ دیا جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «ویحذرکم اللہ نفسہ» ‏‏‏‏: ۷۴۰۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] {” فَعِيْلٌ“} کا وزن کسی چیز میں مفہوم کے لزوم، دوام اور ہمیشگی کے لیے آتا ہے، وہ صفت اس سے جدا نہیں ہو سکتی، مثلاً علیم، حلیم، عظیم، خبیر، بصیر، سمیع، رئوف اور رحیم۔ یعنی وہ ذات جس کی رحمت دائمی ہے، کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ دونوں صفتوں کے ملنے سے صفت رحمت کی وسعت بھی ثابت ہوئی اور اس کا دوام بھی۔ اگر اس کی رحمت میں وسعت و کثرت نہ ہو تو بعض مخلوق محروم رہ جائے اور اگر اس میں دوام نہ ہو تو کوئی چیز نہ پایۂ تکمیل تک پہنچے، نہ باقی رہ سکے۔ ➋ قرآن مجید میں ثنائے الٰہی پر مشتمل تمام آیات {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کی تفصیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان نماز کی تقسیم والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری ثنا کی۔“ [ مسلم، الصلوۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ …: ۳۹۵ ]
مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
روز جزا کا مالک ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے
احمد رضا خان بریلوی
روز جزا کا مالک،
علامہ محمد حسین نجفی
جزا و سزا کے دن کا مالک (و مختار) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بدلے کے دن کا مالک ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حقیقی وارث مالک کون ہے؟ ٭٭

بعض قاریوں نے «مَلِكِ» پڑھا ہے اور باقی سب نے «مَالِكِ» اور دونوں قراتیں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قراتوں میں سے ہیں اور «مَالِكِ» کے «لام» کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ۔ اور «مَلِيكٌ» اور «مَلَكِي» بھی پڑھا گیا ہے پہلے کی دونوں قراتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی۔ زمخشری نے «مَلِكِ» کو ترجیح دی ہے اس لیے کہ حرمین والوں کی یہ قرأت ہے۔ اور قرآن میں بھی «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ اور «قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ» ۲؎ [6-الأنعام:73] ‏‏‏‏ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی حکایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے «مَلِكِ» پڑھا اس بنا پر کہ «فِعْلٌ» اور «فَاعِلٌ» اور «مَفْعُولٌ» آتا ہے لیکن یہ شاذ اور بےحد غریب ہے۔ ابوبکر بن داؤد رحمہ اللہ نے اس بارے میں ایک غریب روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تینوں خلفاء اور معاویہ رضی اللہ عنہم اور ان کے لڑکے «مَالِكِ» پڑھتے تھے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مروان نے «مَالِكِ» پڑھا۔ میں کہتا ہوں مروان کو اپنی اس قرأت کی صحت کا علم تھا راوی راوی حدیث ابن شہاب رحمہ اللہ کو علم نہ تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن مردویہ نے کئی سندوں سے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «مَالِكِ» پڑھتے تھے۔ «مَالِكِ» کا لفظ «مَلِكِ» سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے: «إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ» ۱؎ [19-مريم:40] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے‘۔ اور فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ * مَلِكِ النَّاسِ» ۲؎ [114-الناس:1-2] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی‘۔ اور «مَلِكِ» کا لفظ «مُلْكُ» سے ماخوذ ہے، جیسے فرمایا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۳؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا‘۔

اور فرمایا: «قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ» ۱؎ [6-الأنعام:73] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے‘۔ اور فرمایا: «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۲؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ یعنی ’آج ملک رحمن ہی کا ہے اور آج کا دن کافروں پر بہت سخت ہے‘۔ اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لیے کہ پہلے اپنا وصف «رَبُّ الْعَالَمِينَ» ہونا بیان کر چکا ہے دنیا اور آخرت دونوں کو شامل ہے۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا۔ جیسے فرمایا: «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۳؎ [78-النبأ:38] ‏‏‏‏ یعنی ’جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا۔ یہاں تک کہ رحمن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا‘۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: «وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا» ۴؎ [20-طه:108] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’سب آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا‘، اور فرمایا: «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ۵؎ [11-هود:105] ‏‏‏‏ یعنی ’جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا۔ بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض سعادت مند‘۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہو گا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے۔ «يَوْمِ الدِّينِ» سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا دن ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یہ اس کا اختیاری امر ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین اور سلف صالحین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ بعض سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرنے پر قادر ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن بظاہر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد نہیں، ہر ایک قول کا قائل دوسرے کے قول کی تصدیق کرتا ہے ہاں پہلا قول مطلب پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔ جیسے کہ فرمان ہے: «لْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ الخ اور دوسرا قول اس آیت کے مشابہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا: «وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ» ۲؎ [6-الأنعام:73] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’جس دن کہے گا ”ہو جا“ بس اسی وقت ”ہو جائے گا“ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے فرمایا: «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ» ۱؎ [59-الحشر:23] ‏‏‏‏ صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدترین نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں“} ۲؎۔ [صحیح بخاری:6205] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ {اللہ تعالیٰ زمین کو قبضہ میں لے لے گا اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے} ۳؎ [صحیح بخاری:4812] ‏‏‏‏ قرآن عظیم میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» الخ یعنی ’کس کی ہے آج بادشاہی؟ فقط اللہ اکیلے غلبہ والے کی‘ اور کسی کو «مَلِكِ» کہہ دینا یہ صرف مجازاً ہے۔ جیسے کہ قرآن میں طالوت کو «مَلِكِ» کہا گیا اور «وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ» ۴؎ [18-الكهف:79] ‏‏‏‏ کا لفظ آیا۔ اور بخاری مسلم میں «مُلُوكِ» کا لفظ آیا ہے ۵؎ [صحیح مسلم:1912] ‏‏‏‏ اور قرآن کی آیت میں «إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا» ۶؎ [5-المائدة:20] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’تم میں انبیاء کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا‘، آیا ہے۔ دین کے معنی بدلے جزا اور حساب کے ہیں۔ جیسے قرآن پاک میں ہے: «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّـهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ» ۷؎ [24-النور:25] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے‘۔ اور جگہ ہے: «أَإِنَّا لَمَدِينُونَ» ۸؎ [37-الصافات:53] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’کیا ہم کو بدلہ دیا جائے گا؟‘ حدیث میں ہے {دانا وہ ہے جو اپنے نفس سے خود حساب لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے} ۹؎ [سنن ترمذي:2459،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ جیسے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تم خود اپنی جانوں سے حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا خود وزن کر لو اس سے پہلے کہ وہ ترازو میں رکھے جائیں اور اس بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ جب تم اس اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جس سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں جیسے خود رب عالم نے فرما دیا: «يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ» ۱۰؎ [69-الحاقة:18] ‏‏‏‏ یعنی ’جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کوئی چھپی ڈھکی بات چھپے گی نہیں‘۔
1 دنیا میں بھی اگرچہ کیئے کی سزا کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا یا سزا دے گا۔ اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا اللہ تعالیٰ اس روز فرمائے گا آج کس کی بادشاہی ہے؟ پھر وہی جواب دے گا صرف ایک اللہ غالب کے لیے اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا، یہ ہوگا جزا کا دن۔
(آیت 4) ➊ {مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ:الدِّيْنِ”دَانَ يَدِيْنُ“} کا مصدر ہے، بدلہ دینا، جزا دینا۔ رحمن و رحیم کے بعد جزا کے دن کا مالک ہونے کی صفت بیان فرمائی۔ ایک قراء ت «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ ہے یعنی روزِ جزا کا مالک اور دوسری {”مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “} ہے، یعنی روز جزا کا بادشاہ۔ قرآن مجید کے رسم الخط میں {” مٰلِكِ “} لکھا ہے، اسے {” مَالِكِ “} اور {”مَلِكِ“} دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے اور دونوں قراء تیں متواتر طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کے ساتھ قیامت کے دن کے مالک اور بادشاہ ہونے کی مناسبت یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی بہت رحم کرنے والا ہوتا ہے مگر اس کی ملکیت میں کچھ نہیں ہوتا، اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی رحم نہیں کر سکتا، پھر کوئی شخص بہت سی ملکیت کا مالک ہوتا ہے مگر اس کا بادشاہ کوئی اور ہوتا ہے، وہ مالک ہوتے ہوئے بھی پورا اختیار نہیں رکھتا۔ {”يَوْمِ الدِّيْنِ “} کے معنی یوم جزا کے ہیں۔ اس دنیا میں بھی مکافات یعنی اعمال کی جزا کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر اس جزا کا مکمل ظہور چونکہ قیامت کے دن ہو گا اس لیے قیامت کے دن کو خاص طور پر {”يَوْمِ الدِّيْنِ “} (بدلے کا دن) کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس دن کے {”مَالِك“} اور {”مَلِك“} (بادشاہ) ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس روز ظاہری طور پر بھی مالکیت اور ملوکیت کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا، فرمایا: «يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ» ‏‏‏‏ [ الانفطار: ۱۹ ] ”جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کی مالک نہیں ہو گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہو گا۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [ المؤمن: ۱۶ ] ”آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، دبدبے والا ہے۔“ اس دن مالک بھی اللہ تعالیٰ ہو گا، بادشاہ بھی وہی ہو گا، اور حکم بھی صرف اسی کا چلے گا۔ صفت رحمت اور بدلے کے دن کی ملکیت میں مناسبت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں، جن میں سے اس نے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانویں رحمتیں مؤخر کر رکھی ہیں، جن کے ساتھ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی…: 2752/19۔ بخاری: ۶۰۰۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➋ تقسیم صلاۃ والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(1): [ مَجَّدَنِيْ عَبْدِيْ ] ”میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی بیان) کی۔“ (2)ایک روایت کے مطابق فرماتا ہے: [ فَوَّضَ اِلَيَّ عَبْدِيْ ] ”میرے بندے نے اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا۔“ [ مسلم، الصلوۃ، باب وجوب قراءۃ الفاتحۃ …: ۳۹۵ ] قرآن مجید میں تمجید الٰہی اور تفویض و توکل پر مشتمل تمام آیات {” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “} کی تفصیل ہیں۔
اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبادت کا مفہوم ٭٭

ساتوں قاریوں اور جمہور نے اسے «إِيَّاكَ» پڑھا ہے۔ عمرو بن فائد نے «اِیَاکَ» پڑھا ہے۔ لیکن یہ قراۃ شاذ اور مردود ہے۔ اس لیے کہ «اِیاَ» کے معنی سورج کی روشنی کے ہیں اور بعض نے «أَيَّاكَ» پڑھا ہے اور بعض نے «هَيَّاكَ» پڑھا ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں بھی «َھیَّاکَ» ہے۔ «نَسْتَعِينُ» کی یہی قرأت تمام کی ہے۔ سوائے یحییٰ بن وثاب اور اعمش کے۔ یہ دونوں پہلے نون کو زیر سے پڑھتے ہیں۔ قبیلہ بنو اسد، ربیعہ بنت تمیم کی لغت اسی طرح پر ہے۔ لغت میں عبادت کہتے ہیں ذلت اور پستی کو طریق معبد اس راستے کو کہتے ہیں جو ذلیل ہو۔ اسی طرح «بَعِيرٌ مُعَبَّدٌ» اس اونٹ کو کہتے ہیں جو بہت دبا اور جھکا ہوا ہو اور شریعت میں عبادت نام ہے محبت، خشوع، خضوع اور خوف کے مجموعے کا۔ لفظ «اِیَّاکَ» کو جو مفعول ہے پہلے لائے اور پھر اسی کو دہرایا تاکہ اس کی اہمیت ہو جائے اور عبادت اور طلب مدد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہو جائے تو اس جملہ کے معنی یہ ہوئے کہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور تیرے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کریں گے۔ کامل اطاعت اور پورے دین کا حاصل صرف یہی دو چیزیں ہیں۔

بعض سلف کا فرمان ہے کہ سارے قرآن کا راز سورۃ فاتحہ میں ہے اور پوری سورت کا راز اس آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» میں ہے۔ آیت کے پہلے حصہ میں شرک سے بیزاری کا اعلان ہے اور دوسرے جملہ میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کے کمال کا انکار ہے اور اللہ عزوجل کی طرف اپنے تمام کاموں کی سپردگی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔ جیسے فرمایا: «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [11-هود:123] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں‘۔ فرمایا: «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۲؎ [67-الملك:29] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’کہہ دے کہ وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اسی پر ہم نے توکل کیا‘۔ فرمایا: «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۳؎ [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’مشرق مغرب کا رب وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ‘۔ یہی مضمون اس آیۃ کریمہ میں ہے اس سے پہلے کی آیات میں تو خطاب نہ تھا لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا گیا ہے جو نہایت لطافت اور مناسبت رکھتا ہے اس لیے کہ جب بندے نے اللہ تعالیٰ کی صفت و ثنا بیان کی تو قرب الہٰی میں حاضر ہو گیا اللہ جل جلالہ کے حضور میں پہنچ گیا، اب اس مالک کو خطاب کر کے اپنی ذلت اور مسکینی کا اظہار کرنے لگا اور کہنے لگا کہ ”الہٰ“ ہم تو تیرے ذلیل غلام ہیں اور اپنے تمام کاموں میں تیرے ہی محتاج ہیں۔ اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اس سے پہلے کے تمام جملوں میں خبر تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین صفات پر اپنی ثناء آپ کی تھی اور بندوں کو اپنی ”ثناء“ انہی الفاظ کے ساتھ بیان کرنے کا ارشاد فرمایا تھا اسی لیے اس شخص کی نماز صحیح نہیں جو اس سورت کو پڑھنا جانتا ہو اور پھر نہ پڑھے۔ جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:756] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان (‏‏‏‏نصف نصف)‏‏‏‏‏‏‏‏ بانٹ لیا ہے اس کا آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ جب بندہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے «حَمِدَنِي عَبْدِي» میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ جب کہتا ہے «الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» ، اللہ فرماتا ہے «أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي» میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب وہ کہتا ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ، اللہ فرماتا ہے «مَجَّدَنِي عَبْدِي» میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب وہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔ پھر وہ آخر سورت تک پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرا بندہ جو مجھ سے مانگے اس کے لیے ہے“} ۲؎۔ [صحیح مسلم:395] ‏‏‏‏

عبادت اور طلب مدد ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کے معنی یہ ہیں کہ اے ہمارے رب ہم خاص تیری ہی توحید مانتے ہیں اور تجھ سے ڈرتے ہیں اور تیری اسی ذات سے امید رکھتے ہیں تیرے سوا کسی اور کی نہ ہم عبادت کریں، نہ ڈریں، نہ امید رکھیں۔ اور «إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» سے یہ مراد ہے کہ ہم تیری تمام اطاعت اور اپنے تمام کاموں میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:19/1] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم ہے کہ تم سب اسی کی خالص عبادت کرو اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو ۲؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:20/1] ‏‏‏‏ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کو پہلے لانا اس لیے ہے کہ اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی ہے اور مدد کرنا یہ عبادت کا وسیلہ اور اہتمام اور اس پر پختگی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زیادہ اہمیت والی چیز کو مقدم کیا جاتا ہے اور اس سے کمتر کو اس کے بعد لایا جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اگر یہ کہا جائے کہ یہاں جمع کے صیغہ کو لانے کی یعنی ہم کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر یہ جمع کے لیے ہے تو کہنے والا تو ایک ہے اور اگر تعظیم کے لیے ہے تو اس مقام پر نہایت نامناسب ہے کیونکہ یہاں تو مسکینی اور عاجزی ظاہر کرنا مقصود ہے اس کا جواب یہ ہے کہ گویا ایک بندہ تمام بندوں کی طرف سے خبر دے رہا ہے۔ بالخصوص جبکہ وہ جماعت میں کھڑا ہو یا امام بنا ہوا ہو۔ پس گویا وہ اپنی اور اپنے سب مومن بھائیوں کی طرف سے اقرار کر رہا ہے کہ وہ سب اس کے بندے ہیں اور اسی کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور یہ ان کی طرف سے بھلائی کے لیے آگے بڑھا ہوا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ تعظیم کے لیے ہے گویا کہ بندہ جب عبادت میں داخل ہوتا ہے تو اسی کو کہا جاتا ہے کہ تو شریف ہے اور تیری عزت ہمارے دربار میں بہت زیادہ ہے تو اب «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کہا یعنی اپنے تئیں عزت سے یاد کر۔ ہاں اگر عبادت سے الگ ہو تو اس وقت ہم نہ کہے چاہے ہزاروں لاکھوں میں ہو کیونکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے محتاج اور اس کے دربار کے فقیر ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» میں جو تواضع اور عاجزی ہے وہ «إِيَّاكَ عَبَدنَا» میں نہیں اس لیے کہ اس میں اپنے نفس کی بڑائی اور اپنی عبادت کی اہلیت پائی جاتی ہے حالانکہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی پوری عبادت اور جیسی چاہے ویسی ثنا و صفت بیان کرنے پر قدرت ہی نہیں رکھتا۔ کسی شاعر کا قول ہے (‏‏‏‏ترجمہ)‏‏‏‏‏‏‏‏ کہ مجھے اس کا غلام کہہ کر ہی پکارو کیونکہ میرا سب سے اچھا نام یہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کا نام عبد یعنی غلام ان ہی جگہوں پر لیا جہاں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کیا جیسے قرآن نازل کرنا، نماز میں کھڑے ہونا، معراج کرانا وغیرہ، فرمایا: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ» ۱؎ [18-الكهف:1] ‏‏‏‏ الخ، فرمایا: «وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّـهِ يَدْعُوهُ» ۲؎ [72-الجن:19] ‏‏‏‏ الخ، فرمایا: «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا» ۳؎ [17-الإسراء:1] ‏‏‏‏ الخ، ساتھ ہی قرآن پاک نے یہ تعلیم دی کہ اے نبی جس وقت تمہارا دل مخالفین کے جھٹلانے کی وجہ سے تنگ ہو تو تم میری عبادت میں مشغول ہو جاؤ۔ فرمان ہے: «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۴؎ [15-الحجر:97-98-99] ‏‏‏‏ یعنی ’ہم جانتے ہیں کہ مخالفین کی باتیں تیرا دل دکھاتی ہیں تو ایسے وقت اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کر اور سجدہ کر اور موت کے وقت تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ‘۔ رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے نقل کیا ہے کہ عبودیت کا مقام رسالت کے مقام سے افضل ہے کیونکہ عبادت کا تعلق مخلوق سے خالق کی طرف ہوتا اور رسالت کا تعلق حق سے خلق کی طرف ہوتا ہے اور اس دلیل سے بھی کہ عبد کی کل اصلاح کے کاموں کا متولی خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہوتا ہے اور رسول اپنی امت کی مصلحتوں کا والی ہوتا ہے۔ لیکن یہ قول غلط ہے اور اس کی یہ دونوں دلیلیں بھی بودی اور لاحاصل ہیں۔ افسوس رازی نے نہ تو اس کو ضعیف کہا نہ اسے رد کیا۔ بعض صوفیوں کا قول ہے کہ عبادت یا تو ثواب حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے یا عذاب دفع کرنے کے لیے، وہ کہتے ہیں یہ کوئی فائدے کی بات نہیں اس لیے کہ اس وقت مقصود خود اپنی مراد کا حاصل کرنا ٹھہرا۔ اس کی تکالیف کے لیے آمادگی کرنا یہ بھی ضعیف ہے۔ اعلیٰ مرتبہ عبادت یہ ہے کہ انسان اس مقدس ذات کی جو تمام کامل صفتوں سے موصوف ہے محض اس کی ذات کے لیے عبادت کرے اور مقصود کچھ نہ ہو۔ اسی لیے نمازی کی نیت نہ نماز پڑھنے کی ہوتی ہے اگر وہ ثواب پانے اور عذاب سے بچنے کے لیے ہو تو باطل ہے۔ دوسرا گروہ ان کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ عبادت کا اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا کچھ اس کے خلاف نہیں کہ ثواب کی طلب اور عذاب کا بچاؤ مطلوب نہ ہو اس کی دلیل یہ ہے کہ {ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں نہ تو آپ جیسا پڑھنا جانتا ہوں نہ معاذ جیسا، میں تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے نجات چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کے قریب قریب ہم بھی پڑھتے ہیں“} ۵؎۔ [سنن ابوداود:792،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏
1 عبادت کے معنی ہیں کسی کی رضا کے لیے انتہائی عاجزی اور کمال خشوع کا اظہار اور بقول ابن کثیر شریعت میں کمال محبت خضوع اور خوف کے مجموعے کا نام ہے، یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو اس کی ما فوق الاسباب ذرائع سے اس کی گرفت کا خوف بھی ہو۔ سیدھی عبارت ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوجاتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرتے ہیں بیوی سے مدد چاہتے ہیں ڈرائیور اور دیگر انسانوں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں اس طرح وہ یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے سوا اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ اسباب کے ما تحت ایک دوسرے سے مدد چاہنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جس میں سارے کام ظاہر اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں حتی کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا (من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین کیلئے کون میرا مددگار ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فرمایا (ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى) 5:2 نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو ظاہر بات ہے کہ یہ تعاون ممنوع ہے نہ شرک بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ اسکا اصطلاحی شرک سے کیا تعلق؟ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کرسکتا ہو جیسے کسی فوت شدہ شحص کو مدد کے لیے پکارنا اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا اسکو نافع وضار باور کرنا اور دور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے کی صلاحیت سے بہرہ ور تسلیم کرنا۔ اسکا نام ہے ما فوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا اور اسے خدائی صفات سے متصف ماننا اسی کا نام شرک ہے جو بدقسمتی سے محبت اولیاء کے نام پر مسلمان ملکوں میں عام ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ توحید کی تین قسمیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں بھی مختصرا بیان کردی جائیں۔ یہ قسمیں ہیں۔ توحید ربوبیت۔ توحید الوہیت۔ اور توحید صفات۔ 1۔ توحید ربوبیت کا مطلب کہ اس کائنات کا مالک رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اس توحید کو تمام لوگ مانتے ہیں، حتیٰ کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں، جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکین مکہ کا اعتراف نقل کیا۔ مثلا فرمایا۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین میں رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار اور جاندار سے بےجان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ (اللہ) (یعنی سب کام کرنے والا اللہ ہے) (قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) 10:31 دوسرے مقام پر فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ زمین اور زمین میں جو کچھ ہے یہ سب کس کا مال ہے؟ ساتواں آسمان اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ ہر چیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ دینے والا نہیں ان سب کے جواب میں یہ یہی کہیں گے کہ اللہ یعنی یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں۔ (قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 84؀ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 85؀ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ 86؀ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ 87؀ قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 88؀ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ 89؀) 23:84, 89 وغیرھا من الآیات۔ 2۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کیلئے یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے اس لئے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ صرف یہی عبادات نہیں ہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا والتجاء کرنا، اسکے نام کی نذر نیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں۔ توحید الوہیت یہ کہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔ 3۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں انکو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں۔ مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے، یا دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، یا اس قسم کی اور صفات الہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ کے سوا کسی نبی ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہوگا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ توحید کی تین قسمیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں مختصرا بیان کردی جائیں۔ یہ قسمیں ہیں۔ توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید صفات 1۔ توحید ربوبیت کا مطلب ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک، رازق، اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس توحید کو ملاحدہ و زنادقہ کے علاوہ تمام لوگ مانتے ہیں حتی کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکیں مکہ اعتراف نقل کا ہے۔ مثلا فرمایا اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ تم آسمان و زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار اور جاندار سے بےجان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کے اللہ (یعنی یہ سب کام کرنے والا اللہ ہے) (قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ 31) 10:31۔ دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) 39۔ الزمر:38) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے؟ تو یقینا یہی کہیں گے کہ اللہ۔ ایک اور مقام پر فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ زمین اور زمین میں جو کچھ ہے یہ سب کس کا مال ہے؟ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ ہر چیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ دینے والا نہیں۔ ان سب کے جواب میں یہ یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ یعنی یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں۔ وغیرھا من الایات۔ 2۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کے لئے، یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے، اس لئے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ صرف یہی عبادات نہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا والتجاء کرنا۔ اس کے نام کی نذر ونیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں۔ توحید الوہیت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔ 3۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں، مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے یا دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے یہ یا اس قسم کی اور صفات الٰہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نبی، ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہوگا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
(آیت5) ➊ { اِيَّاكَ نَعْبُدُ:} سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد غائب کے صیغے کے ساتھ کی گئی ہے، {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} اور اس کے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر لیا گیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اسے اس کا قرب اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہو جاتا ہے، اب وہ براہِ راست خطاب کے صیغے سے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔ ➋ عربی زبان میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے فعل، پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے۔ اگر بعد والے لفظ کو پہلے لایا جائے تو اس سے کلام میں تخصیص یا حصر پیدا ہو جاتا ہے۔ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} اصل میں {”نَعْبُدُكَ“} (ہم تیری عبادت کرتے ہیں) تھا۔ مفعول ”کاف ضمیر“ کو {” نَعْبُدُ “} سے پہلے لایا گیا تو {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} ہو گیا، جس سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی ہم تیری عبادت کرتے ہیں، کسی اور کی نہیں کرتے۔ اس مفہوم کو ”ہم صرف تیری عبادت“ یا ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں“ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ بعینہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کا مفہوم ہے، یعنی عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہی ہے، دوسرا کوئی نہیں۔ ➌ عبادت کا معنی کسی کو غیبی طاقتوں کا مالک سمجھ کر اس سے انتہائی درجے کی محبت کے ساتھ اس کے سامنے انتہائی درجے کی عاجزی، ذلت اور خوف ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اسلام نے بندوں کو ایسی ہر غلامی سے آزادی دلا کر صرف ایک ذات پاک کا بندہ اور عبد بنا دیا جو انھیں پیدا کرنے والی اور ان کی پرورش کرنے والی ہے۔ عبادت صرف اس کی ہے، اس کے ساتھ کسی کو نہ شریک کرنا جائز ہے نہ اس کی محبت جیسی محبت یا اس کے خوف جیسا خوف کسی سے جائز ہے۔افسوس کہ بعض مسلمان اللہ کے گھر میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت اتنے خوف زدہ اور لرزہ براندام نہیں ہوتے جتنے وہ کسی قبر پر یا کسی پیر کے پاس جاتے یا واپس آتے وقت ہوتے ہیں۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کے عہد و اقرار کے بعد کسی دوسرے کی بندگی اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑی غداری ہے، جسے وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۶) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین جگہ فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر اس طرح نہیں کی جیسے اس کی قدر کا حق ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۱)، حج (۷۴) اور زمر (۶۷)۔ ➍ {وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ:نَسْتَعِيْنُ”عَوْنٌ“} میں سے باب استفعال فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے، جو اصل میں {”نَسْتَعْوِنُ“} تھا۔ اس میں بھی {” اِيَّاكَ “} پہلے آنے کی وجہ سے حصر ہے، یعنی ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، کسی دوسرے سے نہیں۔ یہاں سے بندے کی درخواست شروع ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قبول ہو چکی۔ ➎ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کو پہلے اور {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} کو بعد میں ذکر کرکے دعا کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ درخواست سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا اور تمجید، پھر اپنی بندگی اور اپنے تعلق کا حوالہ پیش کرو، یعنی اپنے عمل کے وسیلے سے درخواست کرو۔ یہ وسیلہ حق ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ» [ آل عمران: ۱۹۳ ] ”اے ہمارے رب! بے شک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آئو تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔“ صحیح بخاری (۳۴۶۵) میں غار میں پھنسنے والے تین آدمیوں کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کیے ہوئے اعمال کے وسیلے سے دعا قبول ہوتی ہے۔ البتہ کسی شخص کا نام لے کر اس کی ذات یا اس کی حرمت وغیرہ کے وسیلے سے دعا کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں، مثلاً یہ کہنا کہ یا اللہ! فلاں کے وسیلے یا طفیل یا واسطے سے یا بحرمت فلاں میری دعا قبول کر۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۷) «‏‏‏‏فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ» کی تفسیر۔ ➏ { ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کے بعد {” وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} لانے میں یہ سبق بھی ہے کہ آدمی یقین رکھے کہ وہ کوئی بھی نیکی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتا اور مکمل طور پر اللہ کے سامنے بے بس اور بے اختیار ہونے کا عقیدہ رکھے اور اس کا اظہار و اقرار بھی کرے۔ یعنی ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری عبادت میں اور اپنے تمام کاموں میں تیری ہی مدد مانگتے ہیں، تیری مدد کے بغیر نہ ہم تیری عبادت کر سکتے ہیں نہ کچھ اور۔ اس لفظ میں اللہ پر توکل اور اپنے تمام کام اس کے سپرد کرنے کی اعلیٰ ترین تعلیم دی گئی ہے۔ بعض سلف نے فرمایا، فاتحہ قرآن کا خلاصہ ہے اور «‏‏‏‏اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» فاتحہ کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کہنے سے انسان شرک سے بری ہو جاتا ہے اور {” وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} کہنے سے وہ اپنی قوت و طاقت اور اختیار سے خالی ہو کر صرف اللہ پر توکل و اعتماد کا اقرار و اظہار کرتا ہے۔ ➐ اس استعانت سے مراد ان کاموں میں مدد طلب کرنا ہے جن کا اختیار اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پاس رکھا ہے، کسی مخلوق کو ان کا اختیار نہیں دیا، مثلاً معالج دوا دے سکتا ہے مگر شفا صرف اللہ کے پاس ہے۔ کوئی صاحب خیر کچھ روپے پیسے دے سکتا ہے مگر غنی یا فقیر کر دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ طبیب علاج کر سکتا ہے مگر اولاد سے نوازنا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فوج، آدمیوں اور اسلحے سے ایک دوسرے کی مدد ہو سکتی ہے مگر فتح و شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ غرض دنیا کے ظاہری اسباب و وسائل جو انسانوں کو عطا کیے گئے ہیں ان میں ایک دوسرے سے مدد مانگنا بھی جائز ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۲ ] ”نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔“ افسوس کہ بعض لوگ ان ہستیوں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں جو سنتی ہی نہیں، نہ پاس موجود ہوتی ہیں اور ایسی چیزوں کی مدد مانگتے ہیں جو اگر وہ زندہ ہوں یا سن رہی ہوں تب بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ کتنا ظلم ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} (صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں) کا اقرار کرتے ہیں، پھر غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں، مثلاً {”يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَغِثْنِيْ“} (اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے) اے مولا علی، اے شیر خدا! میری کشتی پار لگا دینا، المدد یا غوث اعظم، مدد کن یا معین الدین چشتی۔ غرض صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے عہد و اقرار کے بعد غیروں کو رب تعالیٰ کا شریک بنا کر انھیں رب کے اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں اور ان سے استغاثہ و استعانت کرتے ہیں۔ ➑ یہاں ایک سوال ہے کہ{” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} سے آخر فاتحہ تک دعا کرنے والا جمع کے صیغے سے دعا کرتا ہے، جب کہ دعا کرنے والا ایک ہے، اس لیے واحد کا صیغہ ہونا چاہیے تھا، اگر جمع کا لفظ تعظیم کے لیے مانا جائے تو یہ دعا کے مناسب نہیں ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ بندہ اپنی انتہائی تواضع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عالی بارگاہ میں اپنی درخواست اکیلا پیش کرنے کی جرأت نہیں کرتا، بلکہ تمام عبادت کرنے والے جن و انس اور فرشتوں کے ساتھ مل کر پیش کرتا ہے کہ ہم سب (جن میں تیرا یہ عاجز بندہ بھی ہے) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ بعض اہل علم نے یہ حکمت بیان فرمائی کہ جمع کے صیغے میں ایک لطیف تواضع پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ واحد کے صیغے میں اپنی کچھ بڑائی کا اظہار ہوتا ہے جو جمع کے صیغے میں نہیں ہے۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی کہ ہر مومن دوسرے مومنوں کے ساتھ ایک جسم کی مانند ہے اور ہر مومن تمام مومنوں کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے وہ اکیلا ہی تمام مسلمانوں کی طرف سے عرض کرتا ہے کہ ہم سب صرف تیری تعریف کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَكَافَأُ دِمَاءُ هُمْ وَ يَسْعٰی بِذِمَّتِهِمْ اَدْنَاهُمْ وَ هُمْ يَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاهُمْ ] ”ایمان والے لوگ، ان کے خون آپس میں برابر ہوتے ہیں، ان کا سب سے معمولی آدمی بھی ان کے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے سوا سب کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوتے ہیں۔“ [ أبوداوٗد، الدیات، باب أیقاد المسلم من الکافر؟: ۴۵۳۰، وقال الألبانی حسن صحیح ] ➒ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ عبادت و استعانت کی بہترین صورت اجتماعی عبادت و استعانت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی جامع صورت نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا: «‏‏‏‏وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ» [ البقرۃ: ۴۳ ] ”اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ ➓ {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کام کے لیے مدد مانگتے ہیں، تاکہ وہ عام رہے، مقصد یہ ہے کہ ہر کام میں تیری مدد مانگتے ہیں۔
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہمیں سیدھا راستہ دکھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا
احمد رضا خان بریلوی
ہم کو سیدھا راستہ چلا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہمیں سیدھے راستے کی (اور اس پر چلنے کی) ہدایت کرتا رہ۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حصول مقصد کا بہترین طریقہ ٭٭

جمہور نے «صِّرَاطَ» پڑھا ہے۔ بعض نے «ِسرَاطَ» کہا ہے اور «زے» کی بھی ایک قراۃ ہے۔ فراء کہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قراۃ یہی ہے چونکہ پہلے ثنا و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے۔ جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پا لینے کے لیے تیر بہدف ہے، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی ہدایت کی۔ کبھی سوال اس طرح ہوتا ہے کہ سائل اپنی حالت اور حاجت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: «رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ» ۱؎ [28-القصص:24] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’پروردگار جو بھلائیاں تو میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں‘۔ یونس علیہ السلام نے بھی اپنی دعا میں کہا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ۲؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ظالموں میں سے ہوں‘۔ کبھی سوال اس طرح بھی ہوتا ہے کہ سائل صرف تعریف اور بزرگی بیان کر کے چپ ہو جاتا ہے جیسے کسی شاعر کا قول ہے «أَأَذْكُرُ حَاجَتِي أَمْ قَدْ كَفَانِي ... حَيَاؤُكَ إِنَّ شِيمَتَكَ الْحَيَاءُ ... إِذَا أَثْنَى عَلَيْكَ الْمَرْءُ يَوْمًا ... كَفَاهُ مِنْ تَعَرُّضِهِ الثَّنَاءُ» کہ مجھے اپنی حاجت کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تیری مہربانیوں بھری بخشش مجھے کافی ہے میں جانتا ہوں کہ داد و دہش تیری پاک عادتوں میں داخل ہے لیکن تیری پاکیزگی بیان کر دینا، تیری حمد و ثنا کرنا ہی مجھے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہدایت کے معنی یہاں پر ارشاد اور توفیق کے ہیں۔ کبھی تو ہدایت بنفسہ متعدی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے تو معنی «أَلْهِمْنَا، وَفِّقْنَا، ارْزُقْنَا» اور «اعْطِنَا» یعنی ہمیں عطا فرمائے ہوں گے اور جگہ ہے: «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» ۳؎ [90-البلد:10] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے‘ بھلائی اور برائی دونوں کے۔ اور کبھی ہدایت «الیٰ» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے، جیسے فرمایا: «اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» ۴؎ [16-النحل:121] ‏‏‏‏ اور فرمایا: «فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۵؎ [37-الصافات:23] ‏‏‏‏ یہاں ہدایت ارشاد اور دلالت کے معنی میں ہے۔ اسی طرح فرمان ہے: «وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۶؎ [42-الشورى:52] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’تو البتہ سیدھی راہ دکھاتا ہے‘، اور کبھی ہدایت «لام» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے جنتیوں کا قول قرآن کریم میں ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا» ۷؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی یعنی توفیق دی اور ہدایت والا بنایا‘۔ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے معنی سنئے۔ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے واضح اور صاف راستہ ہے جو کہیں سے ٹیڑھا نہ ہو۔ عرب کی لغت میں اور شاعروں کے شعر میں یہ معنی صاف طور پر پائے جاتے ہیں اور اس پر بےشمار شواہد موجود ہیں۔ «صِّرَاطَ» کا استعمال بطور استعارہ کے قول اور فعل پر بھی آتا ہے اور پھر اس کا وصف استقامت اور ٹیڑھ پن کے ساتھ بھی آتا ہے۔ سلف اور متاخرین مفسرین سے اس کی بہت سی تفسیریں منقول ہیں اور ان سب کا خلاصہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری ہے۔

صراط مستقیم کیا ہے؟ ٭٭

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ {صراط مستقیم کتاب اللہ ہے} ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:174:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بھی روایت کی ہے۔ فضائل قرآن کے بارے میں پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ {اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی، حکمتوں والا ذکر اور سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم یہی اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے} ۲؎۔ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور مرفوع حدیث کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ مشابہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» کہئے یعنی ہمیں ہدایت والے راستہ کا الہام کر اور اس دین قیم کی سمجھ دے جس میں کوئی کجی نہیں۔ آپ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے۔ سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» سے مراد اسلام ہے جو ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے زیادہ وسعت والا ہے۔ ابن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کے سوا اور دین مقبول نہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» اسلام ہے۔

مسند احمد کی ایک حدیث میں بھی مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی کہ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں کئی ایک کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے دروازے پر ایک پکارنے والا مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے لوگو! تم سب کے سب اسی سیدھی راہ پر چلے جاؤ، ٹیڑھی ترچھی ادھر ادھر کی راہوں کو نہ دیکھو نہ ان پر جاؤ۔ اور اس راستے سے گزرنے والا کوئی شخص جب ان دروازوں میں سے کسی ایک کو کھولنا چاہتا ہے تو ایک پکارنے والا کہتا ہے خبردار اسے نہ کھولنا۔ اگر کھولا تو اس راہ لگ جاؤ گے اور «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» سے ہٹ جاؤ گے۔ پس «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» تو اسلام ہے اور دیواریں اللہ کی حدیں ہیں اور کھلے ہوئے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور دروازے پر پکارنے والا قرآن کریم ہے، اور راستے کے اوپر سے پکارنے والا زندہ ضمیر ہے جو ہر ایماندار کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور واعظ کے ہوتا ہے} ۱؎۔ [سنن ترمذي:2859،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم، ابن جریر، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور اس کی اسناد حسن صحیح ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد حق ہے۔ ان کا قول سب سے زیادہ مقبول ہے اور مذکورہ اقوال کا کوئی مخالف نہیں۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے آپ کے دونوں خلیفہ ہیں۔ حسن رحمہ اللہ اس قول کی تصدیق اور تحسین کرتے ہیں۔ دراصل یہ سب اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں خلفاء صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کا تابعدار حق کا تابع ہے اور حق کا تابع اسلام کا تابع ہے اور اسلام کا تابع قرآن کا مطیع ہے اور قرآن اللہ کی کتاب اس کی طرف سے مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے۔ لہٰذا «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کی تفسیر میں یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» وہ ہے جس پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا۔ امام ابوجعفر بن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ میرے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں سب سے اولیٰ یہ ہے کہ ہم کو توفیق دی جائے اس کی جو اللہ کی مرضی کی ہو اور جس پر چلنے کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں سے راضی ہوا ہو اور ان پر انعام کیا ہو، «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» یہی ہے۔ اس لیے کہ جس شخص کو اس کی توفیق مل جائے، جس کی توفیق اللہ کے نیک بندوں کو تھی جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا تھا جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ تھے انہوں نے اسلام کی اور رسولوں کی تصدیق کی، کتاب اللہ کو مضبوط تھام رکھا، اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے۔ اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چاروں خلیفوں رضی اللہ عنہم اور تمام نیک بندوں کی راہ کی توفیق مل جائے گی تو یہی «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ مومن کو تو اللہ کی طرف سے ہدایت حاصل ہو چکی ہے پھر نماز اور غیر نماز میں ہدایت مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مراد اس سے ہدایت پر ثابت قدمی اور رسوخ اور بینائی اور ہمیشہ کی طلب ہے اس لیے کہ بندہ ہر ساعت اور ہر حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا محتاج ہے وہ خود اپنی جان کے نفع نقصان کا مالک نہیں بلکہ دن رات اپنے اللہ کا محتاج ہے اسی لیے اسے سکھایا کہ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا رہے اور ثابت قدمی اور توفیق چاہتا رہے۔ بھلا اور نیک بخت انسان وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے در کا بھکاری بنا لے وہ اللہ ہر پکارنے والے کی پکار کے قبول کرنے کا کفیل ہے۔ بالخصوص بےقرار محتاج اور اس کے سامنے اپنی حاجت دن رات پیش کرنے والے کی ہر پکار کو قبول کرنے کا ضامن ہے۔ اور جگہ قرآن کریم میں ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ» ۱؎ [4-النساء:136] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اے ایمان والو! اللہ پر، اس کے رسولوں پر، اس کی اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول کی طرف نازل فرمائی اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئیں، سب پر ایمان لاؤ۔

اس آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا اور ہدایت والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا ایسا ہی ہے جیسے یہاں ہدایت والوں کو ہدایت کی طلب کرنے کا حکم دینا۔ مراد دونوں جگہ ثابت قدمی اور اور استمرار ہے اور ایسے اعمال پر ہمیشگی کرنا جو اس مقصد کے حاصل کرنے میں مدد پہنچائیں۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہو بھی نہیں سکتا کہ یہ حاصل شدہ چیز کا حاصل کرنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور دیکھئیے اللہ رب العزت نے اپنے ایماندار بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کہیں: «رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» ۱؎ [3-آل عمران:8] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما تو بہت بڑا دینے والا اور عطا کرنے والا ہے‘۔ یہ بھی وارد ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز مغرب کی تیسری رکعت سورۃ فاتحہ کے بعد اس آیت کو پوشیدگی سے پڑھا کرتے تھے پس «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» کے معنی یہ ہوئے کہ الہٰ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ اور اس سے ہمیں نہ ہٹا۔
1 ہدایت کے کئی مفہوم ہیں، راستے کی طرف رہنمائی کرنا، راستے پر چلا دینا، منزل مقصود تک پہنچا دینا۔ اسے عربی میں ارشاد توفیق، الہام اور دلالت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ہماری صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما، اس پر چلنے کی توفیق اور اس پر استقامت نصیب فرما، تاکہ ہمیں تیری رضا (منزل مقصود) حاصل ہوجائے۔ یہ صراط مستقیم محض عقل اور ذہانت سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ صراط مستقیم وہی ‏‏، الاسلام، ہے، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔
(آیت 6) ➊ { اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ:} ہدایت کا ایک معنی نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [ الشوری: ۵۲ ] ”اور بے شک تو یقینًا سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔“ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور دوسرے لوگ سبھی کر سکتے ہیں۔ہدایت کا دوسرا معنی راستے پر چلنے کی توفیق دینا ہے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا: «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ» [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ {”الصِّرَاطَ “} اس کا اصل {”سِرَاطٌ“} ہے، جو {”سَرَطَ يَسْرُطُ سَرَطًا، سَرَطَانًا (ن، ع) “} سے مشتق ہے، سین کو صاد سے بدل دیا گیا، اس کا معنی نگلنا ہے۔ {”سِرَاطٌ“} کا معنی واضح راستہ ہے، کیونکہ اس پر چلنے والا اس طرح غائب ہو جاتا ہے جیسے نگلا ہوا کھانا غائب ہو جاتا ہے۔ {” الْمُسْتَقِيْمَ”قَامَ يَقُوْمُ“} میں سے باب استفعال سے اسم فاعل ہے، جو اصل میں {”مُسْتَقْوِمٌ“} ہے، معنی اس کا وہی ہے جو {”قَامَ يَقُوْمُ“} کا ہے۔ حروف کی زیادتی سے معنی میں تاکید پیدا ہو گئی، بالکل سیدھا راستہ۔ ➋ پچھلی آیت میں {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا مدد چاہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے جواب یہ سکھایا کہ کہو پروردگارا! ہمیں زندگی کے ہر لمحے میں اور اپنے ہر کام میں تیری ہدایت کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر تو نہ بتائے تو ہم ظلوم و جہول کسی چیز کے متعلق جان ہی نہیں سکتے کہ اس میں صحیح راستہ کیا ہے۔ اگر جان بھی لیں تو اپنے نفس کی کمزوریوں، شہوت، غضب، حسد، طمع، بخل اور کبر وغیرہ کی وجہ سے اور شیطان اور دوسرے دشمنوں کی وجہ سے اس صحیح راستے پر چلنا اور قائم رہنا تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ہر کام اور ہر لمحے میں ہمیں سیدھے راستے کو جاننے کی اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ➌ بعض لوگ یہاں ایک سوال ذکر کرتے ہیں کہ جب ہم پہلے ہی ہدایت پر ہیں تو پھر ہدایت کی درخواست کا کیا مطلب؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ۔ یہ مطلب بھی درست ہے، مگر آپ خود سوچ لیں کہ انسان کو ہر لمحے کسی نہ کسی کام کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مجھے اس میں کیا کرنا ہے، تھوڑی سی لغزش اسے بہت دور پہنچا سکتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ ہم ہر وقت اور ہر کام میں ہدایت پر ہیں، بہت بڑی دلیری کی بات ہے۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ہم کسی بھی قدم پر گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں، ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے رہنا لازم ہے۔ ➍ {” الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ “} سے مراد دین اسلام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک اور جنت تک پہنچانے والا یہی واضح، صاف اور سیدھا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی صراحت فرمائی: «‏‏‏‏قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (161) قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (162) لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۶۱ تا ۱۶۳ ] ”کہہ دے بے شک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کر دی ہے جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمین (حکم ماننے والوں) میں سب سے پہلا ہوں۔“ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم (سیدھے راستے) کی مثال بیان فرمائی۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اور اس راستے کے دروازے پر ایک بلانے والا ہے جو کہتا ہے: ”اے لوگو! تم سب اس راستے میں داخل ہو جاؤ اور ٹیڑھے مت ہونا۔“ اور ایک بلانے والا اس راستے کے اوپر کنارے سے آواز دے رہا ہے۔ جب کوئی انسان ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے: ”افسوس تجھ پر! اسے مت کھول، کیونکہ اگر تو اسے کھولے گا تو اس میں داخل ہو جائے گا۔“ سو {” الصِّرَاطَ “} (وہ راستہ) اسلام ہے اور دونوں دیواریں اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور کھلے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور راستے کے شروع میں بلانے والی چیز اللہ کی کتاب ہے اور راستے کے اوپر کنارے والا اللہ تعالیٰ کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔“ [ مسند أحمد: 182/4، ۱۸۳، ح: ۱۷۶۵۲۔ ترمذی: ۲۸۵۹، قال ابن کثیر حسن صحیح و صححہ الألبانی والسیوطی ] معلوم ہوا صراط مستقیم اسلام ہے جو ہمارے پاس کتاب و سنت کی صورت میں موجود ہے، اس لیے جب کوئی کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی شخصیت یا گروہ کے پیچھے لگتا ہے تو وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے، پھر اس کے لیے منزل مقصود جنت تک پہنچنا کسی صورت ممکن نہیں، جب تک ان تمام ٹیڑھی راہوں سے ہٹ کر کتاب و سنت کی واضح، کشادہ، روشن اور سیدھی راہ پر نہیں آتا۔ ➎ {” الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ “} میں پورا اسلام اور اس کے احکام آ گئے، باقی قرآن و سنت اس کی تفصیل ہے۔
صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)
احمد رضا خان بریلوی
راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا، نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا
علامہ محمد حسین نجفی
راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام و احسان کیا نہ ان کا (راستہ) جن پر تیرا قہر و غضب نازل ہوا۔ اور نہ ان کا جو گمراہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انعام یافتہ کون؟ ٭٭

اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آ چکا ہے فرمان ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا» * «ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّـهِ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:69-70] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے‘۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [4-النساء:69] ‏‏‏‏ کی طرح ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مومن ہیں۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان مراد ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

جمہور کی قرأت میں «غَيْرِ» «رے» کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے۔ زمحشری کہتے ہیں «رے» کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔ «عَلَيْهِمْ» میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور «أَنْعَمْتَ» عامل ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔

مغضوب کون؟ ٭٭

ان کی راہ سے بچا، جن پر غضب و غصہ کیا گیا، جن کے ارادے فاسد ہو گئے، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ گئے اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جاتے «لَا» کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لیے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غَيْرَ» کا لفظ یہاں پر استثناء کے لیے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ» سے مراد «غَيْرِ صِرَاطِ الْمَغْضُوبِ» ہے۔ مضاف «إِلَيْهِ» کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لیے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آ چکا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَلَا الضَّالِّينَ» میں «لَا» زائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَالضَّالِّينَ» اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَغَيْرِ الضَّالِّينَ» پڑھنا صحیح سند سے مروی ہے اور اسی طرح سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور یہ محمول ہے اس پر کہ ان بزرگوں سے یہ بطور تفسیر صادر ہوا۔ تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ «لَا» نفی کی تاکید کے لیے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہم ہی نہ ہو کہ یہ «أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» پر عطف ہے اور اس لیے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے۔ اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو۔ یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں عمل نہیں اسی لیے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی۔ اس لیے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد تو کرتے ہیں مگر اس کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لیے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے: «مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ» ۱؎ [5-المائدة:60] ‏‏‏‏ الخ اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے: «قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» ۲؎ [5-المائدة:77] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’یہ پہلے ہی سے گمراہ ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں‘۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

مسند احمد میں ہے۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے میری پھوپھی اور چند اور لوگوں کو گرفتار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو میری پھوپھی نے کہا میری خبرگیری کرنے والا غائب ہے اور میں عمر رسیدہ بڑھیا ہوں جو کسی خدمت کے لائق نہیں آپ مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے رہائی دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی احسان کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تیری خیر خبر لینے والا کون ہے؟ اس نے کہا عدی بن حاتم آپ نے فرمایا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگتا پھرتا ہے؟ پھر آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ جب لوٹ کر آپ آئے تو آپ کے ساتھ ایک شخص تھے اور غالباً وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا: لو ان سے سواری مانگ لو۔ میری پھوپھی نے ان سے درخواست کی جو منظور ہوئی اور سواری مل گئی۔ وہ یہاں سے آزاد ہو کر میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نے تیرے باپ حاتم کی سخاوت کو بھی ماند کر دیا۔ آپ کے پاس جو آتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔ یہ سن کر میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ چھوٹے بچے اور بڑھیا عورتیں بھی آپ کی خدمت میں آتی جاتی ہیں اور آپ ان سے بھی بےتکلفی کے ساتھ بولتے چالتے ہیں۔ اس بات نے مجھے یقین دلایا دیا کہ آپ قیصر و کسریٰ کی طرح بادشاہت اور وجاہت کے طلب کرنے والے نہیں۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”عدی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنے سے کیوں بھاگتے ہو؟ کیا اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق ہے؟ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنے سے کیوں منہ موڑتے ہو؟ کیا اللہ عزوجل سے بھی بڑا کوئی ہے؟“ مجھ پر ان کلمات نے آپ کی سادگی اور بےتکلفی نے ایسا اثر کیا کہ میں فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» سے مراد یہود ہیں اور «الضَّالِّينَ» سے مراد نصاریٰ ہیں} ۱؎۔ [سنن ترمذي:2954،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی ۲؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:209،195:حسن] ‏‏‏‏ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا ۳؎۔ [مسند احمد:5/32:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن مردویہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بھی یہ تفسیر منقول ہے۔ ربیع بن انس، عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں بلکہ ابن ابی حاتم تو فرماتے ہیں مفسرین میں اس بارے میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ ان ائمہ کی اس تفسیر کی دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو پہلے گزری۔ دوسری سورۃ البقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے: «بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّـهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّـهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ» ۱؎ [2-البقرة:90] ‏‏‏‏ اس آیت میں ہے کہ ان پر غضب پر غضب نازل ہوا۔ اور سورۃ المائدہ کی آیت «قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّـهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» ۲؎ [5-المائدة:60] ‏‏‏‏ میں بھی ہے کہ ان پر غضب الہٰی نازل ہوا اور جگہ فرمان الہٰی ہے: «لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ * كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ» ۳؎ [5-المائدة:79] ‏‏‏‏ یعنی ’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے‘۔ اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جو کہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الہٰی کا ایک حصہ نہ پا لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لیے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں؟ پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے۔ بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس لیے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا۔ انہی میں ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الہٰی نے ان کی رہبری کی اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ)‏‏‏‏‏‏‏‏۔

مسئلہ ٭٭

«ضَّادِ» اور «ظَّاءِ» کی قرأت میں بہت باریک فرق ہے اور ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس لیے علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہے کہ یہ فرق معاف ہے، «ضَّادِ» کا صحیح مخرج تو یہ ہے کہ زبان کا اول کنارہ اور اس کے پاس کی داڑھیں اور «ظَّاءِ» کا مخرج زبان کا ایک طرف اور سامنے والے اوپر کے دو دانت کے کنارے۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں حرف «مَجْهُورَةِ» اور «رِّخْوَةِ» اور «مُطْبَقَةِ» ہیں پس اس شخص کو جسے ان دونوں میں تمیز کرنی مشکل معلوم ہو، اسے معاف ہے کہ «ضَّادِ» کو «ظَّاءِ» کی طرح پڑھ لے۔ ایک حدیث میں ہے کہ {میں «ضَّادِ» کو سب سے زیادہ صحیح پڑھنے والا ہوں} ۱؎ [کشف الخفاء:200/1:لااصل لہ] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث بالکل بے اصل اور لاپتہ ہے۔

الحمد کا تعارف و مفہوم ٭٭

یہ مبارک سورت نہایت کار آمد مضامین کا مجموعہ ہے ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی بزرگی، اس کی ثنا و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے ساتھ ہی قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ اس مالک سے سوال کریں اس کی طرف تضرع و زاری کریں اپنی مسکینی اور بےکسی اور بےبسی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور اس کی توحید الوہیت کا اقرار کریں۔ اسے شریک، نظیر اور مثل سے پاک اور برتر جانیں۔ صراط مستقیم اور اس پر ثابت قدمی اس سے طلب کریں تاکہ یہی ہدایت انہیں قیامت والے دن پل صراط سے بھی پار اتارے اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں کے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ دلائے۔ ساتھ ہی اس سورت میں نیک اعمال کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن نیکوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے ڈراوا پیدا ہو تاکہ قیامت کے دن بھی یہ باطل پرست یہود و نصاریٰ کی جماعت سے دور ہی رہیں۔

اس باریک نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ انعام کی اسناد تو اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی اور «أَنْعَمْتَ» کہا گیا لیکن غضب کی اسناد اللہ کی طرف نہیں کی گئی یہاں فاعل حذف کر دیا اور «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» کہا گیا اس میں پروردگار عالم کی جناب میں ادب کیا گیا ہے۔ دراصل حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے اور جگہ ہے: «غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [58-المجادلة:14] ‏‏‏‏ اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں۔ حالانکہ اور جگہ ہے: «وَمَنْ يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ» ۲؎ [17-الإسراء:97] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں‘۔ اور جگہ فرمایا: «مَنْ يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ» [7-الأعراف:186] ‏‏‏‏ ۳؎ الخ یعنی ’جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ تو اپنی سرکشی میں بہکے رہتے ہیں‘۔ اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔

قدریہ فرقہ جو ادھر ادھر کی متشابہ آیتوں کو دلیل بنا کر کہتا ہے کہ بندے خود مختار ہیں وہ خود جو پسند کرتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے، صریح اور صاف صاف آیتیں ان کے رد میں موجود ہیں لیکن باطل پرست فرقوں کا یہی قاعدہ ہے کہ صراحت کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو ۱؎۔ [صحیح بخاری:4547] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے «فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ» ۲؎ [3-آل عمران:7] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لیے‘۔ پس «الْحَمْدُ لِلَّـه» بدعتیوں کے لیے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لیے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے۔

آمین اور سورہ فاتحہ ٭٭

سورۃ فاتحہ کو ختم کر کے آمین کہنا مستحب ہے۔ آمین مثل «یاسین» کے ہے اور آمین بھی کہا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ”اے اللہ تو قبول فرما۔‏‏‏‏“ آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں {میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر «آمِينَ» کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے} ۱؎۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے {آواز بلند کرتے تھے} ۲؎۔ [سنن ابوداود:392،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔ سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے} ۳؎۔ [سنن ابوداود:934،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے۔ ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ {آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی} ۴؎۔ [سنن ابن ماجہ:853،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے ۵؎۔ [دارقطنی:335/1:حسن] ‏‏‏‏ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ {سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے} ۶؎۔ [سنن ابوداود:937،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ حسن بصری اور جعفر صادق رحمہ اللہ علیہم سے آمین کہنا مروی ہے۔ جیسے کہ «آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ» ۷؎ [5-المائدة:2] ‏‏‏‏ قرآن میں ہے۔

ہمارے اصحاب وغیرہ کہتے ہیں جو نماز میں نہ ہو اسے بھی آمین کہنا چاہیئے۔ ہاں جو نماز میں ہو اس پر تاکید زیادہ ہے۔ نمازی خود اکیلا ہو، خواہ مقتدی ہو، خواہ امام ہو، ہر حالت میں آمین کہے۔ صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:786] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۲؎۔ [صحیح مسلم:410] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا} ۳؎۔ [صحیح مسلم:404] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آمین کے کیا معنی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو کر“} ۱؎۔ [تفسیر کشاف:18/1:ضعیف] ‏‏‏‏ جوہری کہتے ہیں اس کے معنی ”اسی طرح ہو“ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ”ہماری امیدوں کو نہ توڑ۔‏‏‏‏“ اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی ”اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما“ کے ہیں۔ مجاہد، جعفر صادق، ہلال بن سیاف رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں ۲؎۔ [عبدالرزاق:2651] ‏‏‏‏ امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو} ۳؎۔ [صحیح بخاری:796] ‏‏‏‏ اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو“} ۴؎۔ [صحیح مسلم:404] ‏‏‏‏ لیکن بخاری و مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ {جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو} ۵؎۔ [صحیح بخاری:786] ‏‏‏‏ اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھ کر آمین کہتے تھے} ۶؎۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

آمین باآواز بلند ٭٭

جہری نمازوں میں مقتدی اونچی آواز سے آمین کہے یا نہ کہے، اس میں ہمارے ساتھیوں کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر امام آمین کہنی بھول گیا ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین کہیں۔ اگر امام نے خود اونچی آواز سے آمین کہی ہو تو نیا قول یہ ہے کہ مقتدی باآواز بلند نہ کہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔ اور ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے اس لیے کہ نماز کے اور اذکار کی طرح یہ بھی ایک ذکر ہے تو نہ وہ صرف بلند آواز سے پڑھے جاتے ہیں نہ یہ بلند آواز سے پڑھا جائے۔ لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔ ہمارے یہاں پر ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لیے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہیئے۔ خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو، خواہ منفرد، مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏

مسند احمد میں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری تین چیزوں پر یہودیوں کو اتنا بڑا حسد ہے کہ کسی اور چیز پر نہیں۔ ایک تو جمعہ پر کہ اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت کی اور یہ بہک گئے دوسرے قبلہ، تیسرے ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنا} ۱؎۔ [سلسلة احادیث صحيحہ البانی:691،صحيح بالشواھد] ‏‏‏‏ ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے کہ {یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:856،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو} ۳؎۔ [سنن ابن ماجہ:857،قال الشيخ الألباني:ضعيف جدا] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں۔ ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {آپ نے فرمایا آمین اللہ تعالیٰ کی مہر ہے اپنے مومن بندوں پر} ۴؎۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1487،ضعيف] ‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ {نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔ ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔ تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا} ۵؎۔ [ابن خزیمہ:1586:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا: «رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۶؎ [10-يونس:88] ‏‏‏‏ ہے الخ یعنی ’الہٰی تو نے فرعون اور فرعونیوں کو دنیا کی زینت اور مال دنیا زندگانی میں عطا فرمایا ہے جس سے وہ تیری راہ سے دوسروں کو بہکا رہے ہیں۔ اللہ ان کے مال برباد کر اور ان کے دل سخت کر، جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں یہ ایمان نہ لائیں‘۔ موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے: «قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» ۷؎ [10-يونس:89] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’تم دونوں کی دعا قبول کی گئی، تم مضبوط رہو اور بےعلموں کی راہ نہ جاؤ‘۔ دعا صرف موسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔

اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص کسی دعا پر آمین کہے وہ گویا خود وہ دعا کر رہا ہے۔ اب اس استدلال کو سامنے رکھ کر وہ قیاس کرتے ہیں کہ مقتدی قرأت نہ کرے، اس لیے کہ اس کا سورۃ
1 یہ صراط مستقیم یہ وہ اسلام ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔ 2 صراط مستقیم کی وضاحت ہے کہ یہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا۔ (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا) 4:69 اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں۔ اس آیت میں یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ انعام یافتہ لوگوں کا یہ راستہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا راستہ ہے نہ کہ کوئی اور راستہ۔ بعض روایات سے ثابت ہے کہ مَغْضُوْبُ عَلَیْھِمْ (جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا) سے مراد یہودی اور (وَلا الضَّآلِیْن) گمراہوں سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان اسمیں کوئی اختلاف نہیں مستقیم پر چلنے والوں کی خواہش رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ دونوں کے گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔ یہود کی بڑی گمراہی تھی وہ جانتے بوجھتے صحیح راستے پر نہیں چلتے تھے آیات الٰہی میں تحریف اور حیلہ کرنے میں گریز نہیں کرتے تھے حضرت عزیر ؑ کو ابن اللہ کہتے اپنے احبارو رھبان کو حرام و حلال کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصاریٰ کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ابن اللہ کہا حرام و حلال کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصارٰی کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں غلو کیا اور انہیں (اللہ کا بیٹا) اور تین خدا میں سے ایک قرار دیا۔ افسوس ہے کہ امت محمدیہ میں بھی یہ گمراہیاں عام ہیں اور اسی وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں اللہ تعالیٰ اسے ضلالت کے گڑھے سے نکالے۔ تاکہ ادبار و نکبت کے برھتے ہوئے سائے سے وہ محفوظ رہ سکے۔ سورة کے آخر میں آمِیْن کہنے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی اسلیے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنی چاہئے۔ اے اللہ ہماری دعا قبول فرما۔
(آیت 7) ➊ { صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ:} یعنی جن لوگوں پر تو نے دوسرے بے شمار انعامات کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق کاخاص انعام کیا، ان سے مراد چار قسم کے لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۶۹ ] ”اور جو کوئی اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے۔“ قرآن مجید میں مذکور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے تمام واقعات اس مختصر جملے کی تفصیل ہیں۔ ➋ { غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ:} قرآن مجید میں {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} یہود کو کہا گیا ہے، چنانچہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: «‏‏‏‏وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ» [ البقرۃ: ۶۱ ] ”اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کی طرف سے بھاری غضب لے کر لوٹے۔“ اور فرمایا: «فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۹۰ ] ”پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔“ اور فرمایا: «قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۶۰ ] ”کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ غصے ہوا اور جن میں سے اس نے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں سب سے برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“ اور {” الضَّآلِّيْنَ “} نصاریٰ کو کہا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» [ المائدۃ: ۷۷ ] ”اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔“ اس آیت سے پہلے مسلسل نصاریٰ کا ذکر آ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} اور {” الضَّآلِّيْنَ “} کی یہی تفسیر فرمائی۔ چنانچہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْيَهُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ وَ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ ] ”یہود {” مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ “} ہیں اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ فاتحۃ الکتاب: ۲۹۵۴، و صححہ الألبانی ] ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر سے ثابت ہو گیا کہ {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} یہود ہیں اور {” الضَّآلِّيْنَ “} نصاریٰ، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن میں وہ عادات و خصائل پائے جاتے ہیں جو یہود کے {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} بننے کا باعث ٹھہرے، یا جن کی وجہ سے نصاریٰ {” الضَّآلِّيْنَ “} (گمراہ) ٹھہرے۔ مثلاً یہود پر غضب نازل ہونے کے اسباب جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائے ہیں اختصار کے ساتھ یہ ہیں، اللہ کی کتاب میں تحریف، اللہ کی آیات کو چھپانا، اللہ کی حدود مثلاً رجم اور ہاتھ کاٹنے کو معطل کرنا، اللہ پر جھوٹ باندھنا، اپنے پاس سے مسائل بیان کرکے انھیں اللہ کا حکم قرار دینا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حسد کی وجہ سے ایمان نہ لانا اور باہمی ضد کی وجہ سے بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ جانا۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: {” وَ بِالْجُمْلَةِ فَاِنْ شِئْتَ أَنْ تَرَي نَمُوْذَجَ الْيَهُوْدِ فَانْظُرْ اِلٰي عُلَمَاءِ السُّوْءِ مِنَ الَّذِيْنَ يَطْلُبُوْنَ الدُّنْيَا وَ قَدِ اعْتَادُوْا تَقْلِيْدَ السَّلَفِ وَ اَعْرَضُوْا عَنْ نُّصُوْصِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَ تَمَسَّكُوْا بِتَعَمُّقِ عَالِمٍ وَ تَشَدُّدِهِ وَ اسْتِحْسَانِهِ فَاَعْرَضُوْا عَنْ كَلَامِ الشَّارِعِ الْمَعْصُوْمِ وَ تَمَسَّكُوْا بِأَحَادِيْثَ مَوْضُوْعَةٍ وَ تَأْوِيْلَاتٍ فَاسِدَةٍ كَانَتْ سَبَبَ هَلَاكِهِمْ “} ”قصہ مختصر اگر تم چاہو کہ یہود کا نمونہ دیکھو تو ان علمائے سوء کو دیکھ لو جو دنیا طلب کر رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی تقلید کے عادی ہو چکے ہیں، جنھوں نے کتاب و سنت کی صریح آیات و احادیث سے منہ موڑ لیا اور کسی عالم کے تکلف، اس کے تشدد اور اس کے استحسان کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے معصوم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے منہ موڑ لیا اور من گھڑت احادیث اور فاسد تاویلات سے چمٹ گئے، جو ان کی ہلاکت کا باعث بن گئیں۔“ (الفوز الکبیر) اور نصاریٰ کی گمراہی کے اسباب یہ تھے، مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو، ان کو عین خدا یا تین میں سے ایک خدا کہنا، مریم علیھا السلام کو تین میں سے ایک خدا کہنا، مسیح علیہ السلام، مریم علیھا السلام اور صلیب کی پوجا کرنا، قبروں کو مسجدیں بنانا، احبار و رہبان کو رب بنانا وغیرہ۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: {”وَاِنْ شِئْتَ أَنْ تَرَي نَمُوْذَجًا لِهٰذَا الْفَرِيْقِ فَانْظُرِ الْيَوْمَ اِلٰي أَوْلَادِ الْمَشَائِخِ الْأَوْلِيَاءِ مَاذَا يَظُنُّوْنَ بِآبَائِهِمْ؟ فَتَجِدُهُمْ قَدْ أَفْرَطُوْا فِيْ اِجْلَالِهِمْ كُلَّ الْاِفْرَاطِ وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ “} ”اگر چاہو کہ اس گروہ کا نمونہ دیکھو تو بزرگ اولیاء کی آج کل کی اولاد کو دیکھ لو کہ وہ اپنے باپ دادا کے متعلق کیا گمان رکھتے ہیں، چنانچہ تم انھیں پاؤ گے کہ وہ ان کی بزرگی بیان کرتے ہیں، جتنا مبالغہ ہو سکے کرتے ہیں اور عنقریب وہ لوگ جان لیں گے جنھوں نے ظلم کیا کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔“ (الفوز الکبیر) ➍ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کا ترجمہ عام طور پر کیا جاتا ہے: ”نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا“ مگر حقیقت یہ ہے کہ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} میں لفظ {” غَيْرِ “} پچھلی آیت میں {” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} سے بدل یا اس کی صفت ہے، یعنی {” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} اور {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} دونوں ایک ہی لوگ ہیں، اس لیے ترجمہ یہ ہو گا: ”ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔“ ➎ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا {” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} کافی نہ تھا، پھر اس کے بعد {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انعام تو اس کی ہر مخلوق پر بے شمار ہے، کم از کم اسے پیدا کرنا اور اس کی زندگی کی ہر ضرورت پوری کرنا ہی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے یہ تعلیم دی کہ ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا کرو جن پر اللہ نے انعام کیا، مگر وہ غضب کا نشانہ نہیں بنے، نہ ہی وہ گمراہ ہیں، ایسے لوگ وہ چار گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ ➏ {” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے، جب کہ غضب اور ضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے ادب کی تعلیم ہے کہ اگرچہ خیر و شر دونوں کا خالق وہ ہے مگر شر کی نسبت اس کی طرف نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کا ہر فعل خیر ہی خیر ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنھما «‏‏‏‏عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» ‏‏‏‏ کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب سب لوگ ایک میدان میں کھڑے ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے: [ لَبَّيْكَ وَ سَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ ] [ مستدرک حاکم، تفسیر سورۃ بنی إسرائیل: 363/2، ح: ۳۳۸۴ ] ”بار بار حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہوں، خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے۔“ اسے حاکم نے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ سورۂ کہف میں خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو کشتی توڑنے اور دوسرے دو واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے اس ادب کا خاص خیال رکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں سورۂ کہف (۷۹ تا ۸۲) کی تفسیر۔ ➐ سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد ”آمین“ کہنی چاہیے، اس کا معنی اے اللہ! قبول فرما، یا ایسے ہی کر دے ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید کا حصہ نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اسے قرآن مجید کے ساتھ نہیں لکھا گیا۔ امام کے {” وَ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کہنے پر امام اور مقتدی دونوں کو آمین کہنی چاہیے۔ مقتدی کو امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنی چاہیے۔ اس کے متعلق چند احادیث درج کی جاتی ہیں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا ”آمین“ کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [ بخاری، الأذان، باب جھر المأموم بالتأمین: ۷۸۲ ] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [ بخاری، الأذان، باب جھر الإمام بالتأمین: ۷۸۰۔ مسلم: ۴۱۰ ] ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام {” وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری دعا قبول کر لے گا۔“ [ مسلم، الصلاۃ، باب التشھد فی الصلاۃ: ۴۰۴ ] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے بلند آواز سے آمین کہی اور دائیں اور بائیں سلام پھیرا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لی۔ [ أبوداوٗد، الصلٰوۃ، باب التأمین وراء الإمام: ۹۳۴، وقال الألبانی حسن صحیح ] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب {” وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} پڑھتے تو ”آمین“ کہتے اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [ أبوداوٗد، باب التأمین وراء الإمام: ۹۳۳، وقال الألبانی صحیح ] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «‏‏‏‏غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» پڑھا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کیا۔ [ ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی التأمین: ۲۴۸، وقال الألبانی صحیح ] عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں نے تم پرکسی چیز میں وہ حسد نہیں کیا جو انھوں نے آمین کہنے اور سلام میں تم پر حسد کیا ہے۔“ [ ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب الجھر بآمین: ۸۵۶۔ مسند أحمد: 134/6، ۱۳۵، ح: ۲۵۰۸۲، و قال الألبانی صحیح ]