بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفجر — Surah Fajr
آیت نمبر 17
کل آیات: 30
قرآن کریم الفجر آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ الفجر islamicurdubooks.com ↗
کَلَّا بَلۡ لَّا تُکۡرِمُوۡنَ الۡیَتِیۡمَ ﴿ۙ۱۷﴾
ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے
ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے
یوں نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے
ہرگز نہیں! بلکہ تم لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے۔
ہرگز ایسا نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

📖 احسن البیان

17۔ 1 یعنی بات اس طرح نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی اور وہ اپنے اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ 17۔ 2 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں (ابو داؤد)

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →