بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الفجر
سورۃ الفجر — 30 آیات
قرآن کریم Surah 89
وَ الۡفَجۡرِ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے فجر کی
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے فجر کی!
احمد رضا خان بریلوی
اس صبح کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے صبح کی۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے فجر کی !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
قسم ہے فجر کی! (1)
(آیت 1) {وَ الْفَجْرِ:الْفَجْرِ “} سے مراد صبح ہے۔ سورۂ تکویر میں بھی یہ قسم مذکور ہے: «‏‏‏‏وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ» ‏‏‏‏ [ التکویر: ۱۸ ] ”اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے۔“ ضروری نہیں کہ اس سے کسی خاص دن کی صبح ہی مراد لی جائے، ہر صبح ہی قیامت کی دلیل ہے، جس کے ساتھ سوئی ہوئی مخلوق بیدار ہو جاتی ہے اور موت کے بعد اٹھنے کا منظر سامنے آ جاتا ہے۔
وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دس راتوں کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دس راتوں کی!
احمد رضا خان بریلوی
اور دس راتوں کی
علامہ محمد حسین نجفی
اور دس (مقدس) راتوں کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور دس راتوں کی !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
2۔ 1 اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذو الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، نبی کریم نے فرمایا عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہوجائے۔ (البخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل فی ایام التشریق)
(آیت 2) {وَ لَيَالٍ عَشْرٍ:} بہت سے مفسرین نے {” وَ لَيَالٍ عَشْرٍ “} سے ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی ہیں۔ اہل عرب حج کے ایام کی بہت تعظیم کرتے تھے، ان دنوں میں ہر طرف سے لوگوں کا مکہ میں اجتماع قیامت کے دن کے اجتماع کی یاد دلاتا ہے، مگر لفظ عام ہیں تو بہتر ہے مفہوم بھی عام ہی رکھا جائے۔ چاند کی راتوں کا ہر عشرہ نئے انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے، پہلے عشرے میں چاند بڑھتا جاتا ہے، آخری میں گھٹتا جاتا ہے اور درمیانی عشرہ عروج و زوال کا جامع ہونے کے باوجود تقریباً روشن ہوتا ہے۔یہ انقلاب قیامت قائم ہونے کی دلیل ہے۔
وَّ الشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جفت اور طاق کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جفت اور طاق کی!
احمد رضا خان بریلوی
اور جفت اور طاق کی
علامہ محمد حسین نجفی
اورجُفت اور طاق کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جفت اور طاق کی !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
3۔ 1 اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے اس لیے کہ مخلوق جفت یا طاق ہے اس کے علاوہ نہیں۔
(آیت 3){ وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ:} جفت وہ عدد ہے جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہو جائے، جیسے دو، چار، چھ وغیرہ اور طاق وہ عدد ہے جو اس طرح تقسیم نہیں ہوتا، مثلاً ایک، تین، پانچ وغیرہ۔ کائنات کی کوئی بھی چیز گنتی کے وقت ان دو حالتوں سے خالی نہیں۔ تمام چیزیں بڑھتے وقت بھی طاق سے جفت اور جفت سے طاق ہوتی چلی جاتی ہیں اور گھٹتے وقت بھی۔ مثلاً ایک سے دو، پھر تین پھر چار وعلیٰ ہذا القیاس اور دس سے نو، پھر آٹھ سے سات و علیٰ ہذاالقیاس۔
وَ الَّیۡلِ اِذَا یَسۡرِ ۚ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رات کی جب وه چلنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
اور رات کی جب چل دے
علامہ محمد حسین نجفی
اور رات کی جبکہ (جانے کیلئے) چلنے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کی جب وہ چلتی ہے !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
4۔ 1 یعنی جب آئے اور جب جائے، کیونکہ سیر (چلنا) آتے جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
(آیت 4){ وَ الَّيْلِ اِذَا يَسْرِ:يَسْرِ “} اصل میں {”يَسْرِيْ“} ہے، آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے یاء حذف کر کے راء پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے۔ {”سَرٰي يَسْرِيْ سُرًي“} (ض) رات کا چلنا۔ سورۂ مدثر میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ الَّيْلِ اِذْ اَدْبَرَ» [ المدثر: ۳۳ ] ”اور قسم ہے رات کی، جب وہ جانے لگے۔“ یعنی رخصت ہوتی ہوئی رات قیامت قائم ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
ہَلۡ فِیۡ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیۡ حِجۡرٍ ؕ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِس میں کسی صاحب عقل کے لیے کوئی قسم ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیوں اس میں عقلمند کے لیے قسم ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اس میں صاحبِ عقل کیلئے کوئی قسم ہے؟ (یعنی یقیناً ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اس میں عقل والے کے لیے بڑی قسم ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
5۔ 1 ذٰلِکَ سے مذکورہ قسمیں بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل و دانش کے واسطے کافی نہیں۔ حجر کے معنی ہیں روکنا، منع کرنا، انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اس لیے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہے ہیں جو تکذیب وعناد کی بناء پر ہلاک کی گئی تھیں، مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہوسکتا ہے جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔
(آیت 5) ➊ {هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍ:هَلْ “} کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ دہر کی پہلی آیت۔ {”حَجَرَ يَحْجُرُ“} (ن) منع کرنا، روکنا۔ عقل کو {” حِجْرٍ “} اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو ہر غلط کام سے روکتی اور منع کرتی ہے۔ ➋ قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر کسی نہ کسی بات کی شہادت اور دلیل کے لیے آتی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قسمیں کھا کر عقل والوں کو کیا باور کروایا جارہا ہے؟ جواب اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں مگر آئندہ آیات سے صاف واضح ہے، یعنی ان سب چیزوں پر غور کرو تو تمھیں یقین ہو جائے گا کہ اتنے زبردست تغیرات لانے والا پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ تمھیں دوبارہ زندہ کرکے تمھیں تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے اور اگر تم سرکشی پر اڑے رہے تو عاد و ثمود اور قوم فرعون کی طرح دنیا میں بھی تم پر عذاب کا کوڑا برسا دے۔
اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۪ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ(ص) نے نہیں دیکھا کہ آپ(ص) کے پروردگار نے قومِ عاد کے ساتھ کیا کیا؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کس طرح کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
6۔ 1 ان کی طرف حضرت ہود ؑ کو نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے جھٹلایا، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب بھیجا۔ جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور انہیں نہس تہس کر کے رکھ دیا۔
(آیت 7،6){ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ…:الْعِمَادِ “} اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر آتا ہے، ستون۔ {” اِرَمَ “} نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک آدمی کا نام ہے جس کی نسل سے عاد ارم تھے۔ عاد ارم سے مراد عاد اولیٰ ہیں جن کی طرف ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے اورعاد ثانیہ یا عاد اخریٰ ثمود کو کہتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے۔ (واللہ اعلم) البتہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان لوگوں کی باتوں کو خرافات قرار دیا ہے جنھوں نے ارم ایک ایسا شہر بیان کیا ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ {” ذَاتِ الْعِمَادِ “} کا لفظی معنی ہے ”ستونوں والے۔“ ان کا یہ لقب اس لیے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے (جس طرح کھجوروں کے تنے۔ دیکھیے حاقہ: ۷) اور اس لیے بھی کہ وہ بڑے بڑے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے اور محض شان و شوکت کے اظہار کے لیے اونچی سے اونچی یاد گاریں بناتے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۲۸)۔
اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۪ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اونچے ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ
مولانا محمد جوناگڑھی
ستونوں والے ارم کے ساتھ
احمد رضا خان بریلوی
وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی اونچے ستونوں والے ارم کے ساتھ۔
عبدالسلام بن محمد
( وہ عاد) جو ارم ( قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
7۔ 1 ارم یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے، ان کا سلسلہ نسب ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح (فتح القدیر) ذات العماد سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف، علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بری مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنا دوں پر عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں ہی مفہوم شامل ہوسکتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
الَّتِیۡ لَمۡ یُخۡلَقۡ مِثۡلُہَا فِی الۡبِلَادِ ۪ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی
احمد رضا خان بریلوی
کہ اس جیسا شہروں میں پیدا نہ ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
جن کامثل (دنیا کے) شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
8۔ 1 یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی، یہ قوم کہا کرتی تھی (من اشد منا قوۃ) ہم سے زیادہ کوئی طاقتور ہے؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ ۪ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ﺛمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور قومِ ثمود کے ساتھ (کیا کیا؟) جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں (اور عمارتیں بنائی تھیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ثمود کے ساتھ ( کس طرح کیا) جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
9۔ 1 یہ حضرت صالح کی قوم تھی اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتی کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کرلیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے (وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ 149؀ۚ) 26۔ الشعراء:149)
(آیت 9){ وَ ثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ:جَابُوْا”جَابَ يَجُوْبُ جَوْبًا“} (ن) کاٹنا۔ {” الصَّخْرَ “} اسم جنس ہے، چٹانیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنھوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ”وادی القریٰ “ کا نام ”العلاء“ ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہ مدائن صالح (جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ (دیکھیے سورۂ حجر: ۸۲) (اشرف الحواشی)
وَ فِرۡعَوۡنَ ذِی الۡاَوۡتَادِ ﴿۪ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور فرعون کہ چومیخا کرتا (سخت سزائیں دیتا)
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون میخوں والے کے ساتھ (کیا کیا؟)۔
عبدالسلام بن محمد
اور میخوں والے فرعون کے ساتھ ( کس طرح کیا)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
10۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس خیموں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔
(آیت 10){ وَ فِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ:الْاَوْتَادِ”وَتَدٌ“} کی جمع ہے، لکڑی یا لوہے وغیرہ کی میخیں۔ {” ذِي الْاَوْتَادِ “} ”میخوں والا“ یعنی بڑے لشکروں والا، جن کے خیمے گاڑنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں میخیں مہیا رہتی تھیں، یا سخت ظالم کہ جس پر ناراض ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکوا دیتا تھا۔
الَّذِیۡنَ طَغَوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۪ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا
احمد رضا خان بریلوی
جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے شہروں میں سرکشی کی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو شہروں میں حد سے بڑھ گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَکۡثَرُوۡا فِیۡہَا الۡفَسَادَ ﴿۪ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت فساد مچا رکھا تھا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان میں بہت فساد پھیلایا
علامہ محمد حسین نجفی
اوران میں بہت فساد پھیلایا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھوں نے ان میں بہت زیادہ فساد پھیلا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12){ فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ:} یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک اور اس کی مخلوق پر ظلم و ستم۔ (اشرف الحواشی)
فَصَبَّ عَلَیۡہِمۡ رَبُّکَ سَوۡطَ عَذَابٍ ﴿ۚۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا بقوت مارا،
علامہ محمد حسین نجفی
تو آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کا کَوڑا برسایا۔
عبدالسلام بن محمد
تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
13۔ 1 یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ برباد یا انہیں عبرتناک انجام سے دوچار کردیا۔
(آیت 13){ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ:} ان میں سے کسی پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی، کسی کو چیخ نے پکڑ لیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق کر دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت کی آیت (۴۰) کی تفسیر۔
اِنَّ رَبَّکَ لَبِالۡمِرۡصَادِ ﴿ؕ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تیرا رب گھات میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک آپ(ص) کا پروردگار (ایسے لوگوں کی) تاک میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تیرا رب یقینا گھات میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ { کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:203] ‏‏‏‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔ قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو ‘ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔ جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» ۱؎ [81-التكوير:17-18] ‏‏‏‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:22] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے ‘، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے ‘۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقہ:7-8] ‏‏‏‏۔

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ۱؎ [89-الفجر:7] ‏‏‏‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:69] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو ‘۔ اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے } ۱؎۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏‏‏‏ ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔ دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو - ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:149] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو ‘۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ }، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ‏‏‏‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔
14۔ 1 یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔
(آیت 14){ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ: ”رَصَدَ يَرْصُدُ رَصْدًا“} (ن) کسی کے راستے میں اس پر حملے کے انتظار میں بیٹھنا۔ {”اَلْمِرْصَادُ“} گھات، چھپ کر بیٹھنے کی جگہ جس میں بیٹھ کر دشمن پر حملے کا انتظار کیا جاتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے مقرر کردہ وقت کے انتظار میں ہے، جب مقرر وقت آتا ہے پکڑ لیتا ہے۔
فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ﴿ؕ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا
احمد رضا خان بریلوی
لیکن آدمی تو جب اسے اس کا رب آزمائے کہ اس کو جاہ اور نعمت دے، جب تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی،
علامہ محمد حسین نجفی
لیکن انسان (کا حال یہ ہے کہ) جب اس کا پروردگار اسے آزماتا ہے اور اسے عزت و نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری عزت افزائی کی۔
عبدالسلام بن محمد
پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
15۔ 1 یعنی جب کسی کو عزت و دولت کی فروانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ فروانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔
(آیت 15تا20){ فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ …:} قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لیے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہر گز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوش حالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کو یاد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حالی یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و نا شکری کرکے ناکام ہو جاتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تمھارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش حالی کی نعمت کا شکر ادا کرو اور بطور شکر مستحقین پر خرچ کرو، تم اتنا بھی نہیں کرتے کہ یتیم کے ساتھ عزت کا برتاؤ ہی کر لو، یا مسکین کو کھلاتے نہیں تو کسی دوسرے کو ترغیب ہی دے دو۔ تم تو میراث کا مال بھی جو تمھیں بغیر محنت کے مل گیا ہے، عطا فرمانے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے حصے پر قناعت کے بجائے سارا ہی لپیٹ جاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم مال عطا فرمانے والے کے بجائے مال سے محبت کرتے ہو اور حد سے بڑھ کر کرتے ہو۔
وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزۡقَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَہَانَنِ ﴿ۚ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا)
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے، تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ (خدا) اسے اس طرح آزماتا ہے کہ اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
16۔ 1 یعنی وہ تنگی میں مبتلا کر کے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّا بَلۡ لَّا تُکۡرِمُوۡنَ الۡیَتِیۡمَ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
یوں نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! بلکہ تم لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز ایسا نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
17۔ 1 یعنی بات اس طرح نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی اور وہ اپنے اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ 17۔ 2 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں (ابو داؤد)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے
احمد رضا خان بریلوی
اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو آمادہ نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ تم آپس میں مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ تَاۡکُلُوۡنَ التُّرَاثَ اَکۡلًا لَّمًّا ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وراثت کا سارا مال (حلال و حرام) سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم میراث کھا جاتے ہو، سب سمیٹ کر کھا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
19۔ 1 یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے حرام طریقے سے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ تُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿ؕ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اورتم مال و منال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور مال سے محبت کرتے ہو، بہت زیادہ محبت کرنا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔ پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏‏‏‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6005] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الۡاَرۡضُ دَکًّا دَکًّا ﴿ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! وہ وقت یاد کرو جب زمین کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) {كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا:” كَلَّاۤ “} ہر گز نہیں، یعنی تمھیں ہرگز ایسے نہیں کرنا چاہیے، بلکہ وہ وقت سامنے رکھنا چاہیے جب قیامت کے پہلے نفخہ کے ساتھ زمین ریزہ ریزہ کرکے ہموار چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔
وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے)
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہارا پروردگار (یعنی اس کا حکم) آجائے گا اور فرشتے قطار اندر قطار آئیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
22۔ 1 کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہوگی اس طرح سات صفیں ہونگیں۔ جو زمین کو گھیر لیں گی۔
(آیت 22) ➊ { وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا:} اور دوسرے نفخہ کے ساتھ تمام لوگ زندہ ہو کر اس چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر انتظار کر رہے ہوں گے، اس وقت رب تعالیٰ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے نزول فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرشتے صف در صف آئیں گے، زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور اعمال نامے پیش کیے جائیں گے۔ انبیاء اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیے جائیں گے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر(۶۹) کی تفسیر۔ ➋ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے خود صاف الفاظ میں اس دن اپنے آنے کا ذکر فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے آنے کے عجیب عجیب مطلب نکالے ہیں۔ چنانچہ کسی نے کہا رب کا حکم آئے گا، کسی نے کہا یہ صرف تمثیلی انداز ہے، مطلب صرف یہ ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا رعب اس طرح طاری ہوگا جس طرح بادشاہوں کے آنے کے وقت ہوتا ہے۔ بعض بزرگوں نے ترجمے میں تبدیلی کرکے حاشیہ لکھا ہے: ”اصل الفاظ ہیں {” وَ جَآءَ رَبُّكَ “} جن کا لفظی ترجمہ ہے ”اور تیرا رب آئے گا“ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔“ ان بزرگوں کی غلطی کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے جیسا سمجھا کہ انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے تو اس کا پہلی جگہ سے منتقل ہونا لازم ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے آسمانِ دنیا پر اترنے یا زمین پر آنے کا یہ مطلب ہے ہی نہیں کہ وہ عرش پر نہیں رہا۔ اب تو اللہ کی مخلوق میں بھی اس کے عجائبات ظاہر ہو رہے ہیں کہ بجلی اپنے مستقر میں ہونے کے باوجود ریموٹ کے ذریعے سے بغیر تار کے کہاں تک پہنچ جاتی ہے، خالق کی صفت تو مخلوق سے بہت ہی برتر ہے۔ پھر اس میں صرف یہی خرابی نہیں کہ اللہ کے آنے کی صفت کا انکار کیا، بلکہ اسے مخلوق سے بھی عاجز جانا کہ مخلوق جہاں چاہے آجا سکتی ہے، مگر خالق میدان محشر میں فیصلے کے لیے بھی نہیں آ سکتا۔ مومن کا کام یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ اس پر ایمان رکھے اور یہ بات اللہ کے سپرد کر دے کہ وہ کس طرح آئے گا۔ یقینا وہ اسی طرح آئے گا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے اور جس کی تفصیل سمجھنا عاجز مخلوق کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔
وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جہنم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اس دن جہنم لائے جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس دن جہنم (سامنے) لائی جائے گی اور اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر اب سمجھ آنے کا کیا فائدہ؟
عبدالسلام بن محمد
اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور ( اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
23۔ 1 ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہوگی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہونگے جو اسے کھینچ رہے ہونگے (صحیح مسلم) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیاء گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے اور یارب نفسی نفسی پکاریں گے۔ (فتح القدیر) 23۔ 2 یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر و معاصی پر نادم ہوگا، لیکن اس روز ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
(آیت 23) {وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ:} عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُؤْتٰی بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُوْنَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّوْنَهَا ] [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منھا: ۲۸۴۲ ] ”اس دن جہنم اس حال میں لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔“
یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ قَدَّمۡتُ لِحَیَاتِیۡ ﴿ۚ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا!
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہے گا کہ کاش! میں نے اپنی (اس) زندگی کیلئے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
کہے گا اے کاش! میں نے اپنی زندگی کے لیے آگے بھیجا ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
24۔ 1 یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَہٗۤ اَحَدٌ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس دن نہ تو خدا کی طرح کوئی عذاب دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس دن اس کے عذاب جیسا عذاب کوئی نہیں کرے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ لَا یُوۡثِقُ وَ ثَاقَہٗۤ اَحَدٌ ﴿ؕ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ اس کے باندھنے کی طرح کوئی باندھ سکے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ اس کے باندھنے جیسا کوئی باندھے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس لیے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہوں گے، دوسرے کسی کو اس کے سامنے رائے یادم زنی نہیں ہوگا حتی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہیں کرسکے گا ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چہ جائیکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو، یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بلکل مختلف ہوگا جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(دوسری طرف ارشاد ہوگا) اے نفس مطمئن!
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اطمینان والی روح
احمد رضا خان بریلوی
اے اطمینان والی جان
علامہ محمد حسین نجفی
(ارشاد ہوگا) اے نفسِ مطمئن۔
عبدالسلام بن محمد
اے اطمینان والی جان !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27){ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ:النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ “} اطمینان والی جان، جسے اللہ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔
ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،
علامہ محمد حسین نجفی
تو اس حالت میں اپنے پروردگار کی طرف چل کہ تواس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو راضی ہے، پسند کی ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
28۔ 1 یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے، حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا، اللھم انی اسالک نفسا، بک مطمئنہ، تو من بلقائک، وترضی بقضائک، وتقنع بعطائک۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا
احمد رضا خان بریلوی
پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تُو میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔
عبدالسلام بن محمد
پس میرے ( خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور داخل ہو جا میری جنت میں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میری جنت میں چلی جا
احمد رضا خان بریلوی
اور میری جنت میں آ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
عبدالسلام بن محمد
اور میری جنت میں داخل ہو جا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا ‘۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] ‏‏‏‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے ‘۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ’ تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ’ اے روح میرے بندے میں ‘ یعنی ’ اس کے جسم میں چلی جا ‘، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» ۱؎ [40-غافر:43] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ }۔ ۱؎ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» ۱؎ [89-الفجر:27-30] ‏‏‏‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏‏‏‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔