بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الضحى — Surah Duha
آیت نمبر 8
کل آیات: 11
قرآن کریم الضحى آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الضحى islamicurdubooks.com ↗
وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾
اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا
اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟
اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا
اور اللہ تعالیٰ نے آپ(ص) کونادار پایا سو مالدار بنا دیا۔
اور اس نے تجھے تنگدست پایا تو غنی کر دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابن ابی شیبہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔ کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔ اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔ پھر فرمایا کہ ’ راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» ۱؎ [42-الشورى:52] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا ‘، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔‏‏‏‏“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6446] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی }۔ [صحیح مسلم:1054] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ ’ سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو ‘۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا { «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے }۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے { جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے }۔ [مسند احمد:375/4:حسن] ‏‏‏‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا }۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی }۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی }۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔‏‏‏‏“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔‏‏‏‏“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔ سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 تونگر کا مطلب ہے کہ اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بےنیاز کردیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تونگری کثرت ساز و سامان کا نام نہیں اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (صحیح مسلم)

📖 القرآن الکریم

(آیت 8) {وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰى: ”عَالَ يَعِيْلُ عَيْلاً وَعَيْلَةً“} (ض) فقیر ہونا۔ {” عَآىِٕلًا “} فقیر۔ سورۂ توبہ میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۲۸ ] ”اور اگر تم کسی قسم کے فقر سے ڈرتے ہو تو اللہ جلد ہی تمھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوگئے، انھوں نے اپنی میراث میں ایک لونڈی ام ایمن کے علاوہ کوئی زیادہ مال نہیں چھوڑا۔ بچپن میں اپنے فقر کا حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمایا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ؟ فَقَالَ نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلٰی قَرَارِيْطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ] [ بخاري، الإجارۃ، باب رعی الغنم علی قراریط: ۲۲۶۲] ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے بھیڑ بکریاں نہ چرائی ہوں۔“ آپ کے صحابہ نے کہا: ”اور آپ نے بھی (چرائی ہیں)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں انھیں مکہ والوں کے لیے چند قیراطوں پر چرایا کرتا تھا۔“ ظاہر ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی یا ابو طالب کی بھیڑ بکریاں ہی ہوتیں تو آپ کو اہلِ مکہ کی بھیڑ بکریاں اجرت پر چرانے کی کیا ضرورت تھی۔ اتنے افلاس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس طرح غنی کر دیا کہ مکہ کی سب سے مال دار خاتون خدیجہ رضی اللہ عنھا نے پہلے آپ کو تجارت میں شریک کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر لیا اور اپنا تمام مال آپ کے حوالے کر دیا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ کے پاس بنو نضیر، بنو قریظہ اور خیبر، بحرین اور یمن وغیرہ کی غنیمتوں اور خراج کے ڈھیر لگ گئے۔ یہ مالی غنا تھا، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا قلبی غنا بھی عطا فرمایا تھا کہ آپ اس طرح بے دریغ خرچ کرتے تھے جیسے آپ کو فقر کا کوئی خوف ہی نہ ہو۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →