بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الذاريات — Surah Dhariyat
آیت نمبر 56
کل آیات: 60
قرآن کریم الذاريات آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ الذاريات islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں
اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں
اور میں نے جِنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ ۱؎ [31-لقمان:25] ‏‏‏‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۱؎ [29-العنکبوت:61] ‏‏‏‏ ’ اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ‘، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» } یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

مسند احمد میں { حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ { خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

5 6 ۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب و مطلوب ہے کہ تمام انس وجن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادہ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس وجن اللہ کی عبادت و اطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت باز پرس ہوگی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 56) ➊ { وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ:} اس آیت میں بتایا کہ نصیحت کیا کرنی ہے اور کون سی بات یاد دلانی ہے۔ فرمایا انھیں یاد دلاؤ کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ ➋ عبادت کا معنی بندگی ہے۔ غلام کو عربی میں عبد اور فارسی میں بندہ کہتے ہیں۔ عبادت وہ تعلق ہے جو غلام کا اپنے مالک یا عبد کااپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے۔ ➌ کائنات کی ہر چیز رب تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، کسی کی مجال نہیں کہ ذرہ برابر سرتابی کر سکے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے {”كُنْ“} کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔ اس ارادے کو ارادۂ کونیہ اور اس حکم کو تکوینی حکم کہتے ہیں، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» ‏‏‏‏ [ یٰسٓ: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔“ ➍ اکثر معاملات میں انسان اور جن بھی اللہ تعالیٰ کے اس ارادۂ کونیہ اور تکوینی حکم کے اسی طرح پابند ہیں جس طرح دوسری تمام چیزیں، ان کی پیدائش، عمر، رزق، صحت، مرض اور ان کے اعضا کے افعال اور صلاحیتوں میں ان کی مرضی کا کچھ دخل نہیں۔ البتہ ان دونوں کو امتحان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک اختیار عطا فرمایا ہے اور زندگی گزارنے کے لیے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کچھ احکام دیے ہیں کہ میں تمھارا رب ہوں اور تم میرے بندے ہو، میں تمھارا مالک ہوں اور تم میرے غلام ہو، لہٰذا تم نے میری غلامی اور بندگی میں زندگی بسر کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو حکم شرعی اور اس ارادے کو ارادۂ شرعیہ کہتے ہیں۔ انسان اس حکم کی تعمیل اور اس ارادے کو پورا بھی کر سکتا ہے اور اسے اس حکم کی نافرمانی اور اس ارادے کو پورا نہ کرنے کا بھی اختیار ہے۔ اسی اختیار پر اس سے باز پرس ہو گی اور وہ ثواب یا عذاب کا مستحق بنے گا، فرمایا: «الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ‏‏‏‏ [ الملک: ۲ ] ”وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی یاد دہانی کے لیے پیغمبر بھیجے اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ یعنی ان دونوں کو پیدا کرنے سے میرا مقصد اور ارادۂ شرعیہ یہی ہے کہ وہ میری عبادت اور میری بندگی و غلامی کریں اور اپنی پوری زندگی میرے احکام کے مطابق گزاریں۔ ➎ بعض لوگوں نے رکوع و سجود، قیام، ذکر، نماز، روزے، زکوٰۃ اور حج وغیرہ ہی کو عبادت سمجھ رکھا ہے، بے شک یہ بھی عبادت ہیں، مگر صرف یہی عبادت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم بھی دیا ہے اس کی اطاعت کرنا عبادت ہے، کیونکہ بندگی اور عبادت کا مطلب ہی مالک کے حکم بلکہ اشارے پر چلنا ہے۔ جو مالک کا حکم نہ مانے وہ غلام کیسا اور جو اپنے رب کے حکم پر نہ چلے وہ عبد کیسا؟ جو شخص مسجد میں تو نماز پڑھتا ہے مگر گھر، بازار اور عدالت میں اپنی مرضی پر چلتا ہے وہ نہ رب کا بندہ ہے اور نہ اس کا عبد۔ ہاں اگر وہ ہر کام میں اس کے حکم پر چلتا ہے تو اس کا ہر کام عبادت ہے، حتیٰ کہ نماز ہی نہیں، اس کا کھانا پینا، سونا اور بیوی سے صحبت بھی عبادت ہے، کیونکہ رب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس نے مالک کے منع کیے ہوئے حرام سے اجتناب کیا اور اپنی خواہش پوری کی تو اپنے مالک کے حکم پر چلتے ہوئے پوری کی، یہی بندگی اور یہی عبادت ہے۔ ➏ رب تعالیٰ کا اپنے بندوں سے سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس اکیلے کو اپنا رب اور مالک مانیں، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔ اس لیے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۱): «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ» کی تفسیر فرمائی: {”أَيْ وَحِّدُوْا رَبَّكُمْ“} ”یعنی اپنے رب کو ایک مانو۔“ (طبری بسند حسن) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →