بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 48
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 48
آیت نمبر: 48 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی
اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ ہی اس کی بابت کوئی سفارش قبول ہوگی اور نہ کوئی بدلہ اس کے عوض لیا جائے گا اور نہ وه مدد کئے جائیں گے
اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی اور نہ (کافر کے لئے) کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر (اس کی) جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو-
اور اس دن (قیامت) سے ڈرو جب کوئی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور نہ ہی کسی کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوگی۔ اور نہ کسی سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا۔ اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
اور اس دن سے بچو جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی اور نہ اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حشر کا منظر ٭٭

نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کوئی کسی کو کچھ فائدہ نہ دے گا جیسے فرمایا آیت «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى» [ 35۔ فاطر: 18 ] ‏‏‏‏ یعنی کسی کا بوجھ کسی پر نہ پڑے گا اور فرمایا «لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [ 80۔ عبس: 37 ] ‏‏‏‏ یعنی اس دن ہر شخص نفسا نفسی میں پڑا ہوا ہو گا اور فرمایا، اے لوگو اپنے رب کا خوف کھاؤ اور اس دن سے ڈرو جس دن باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ ارشاد ہے «وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 48 ] ‏‏‏‏ یعنی کسی کافر کی نہ کوئی سفارش کرے نہ اس کی سفارش قبول ہو اور فرمایا ان کفار کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت فائدہ نہ دے گی. [74-المدثر:48] ‏‏‏‏ دوسری جگہ اہل جہنم کا یہ مقولہ نقل کیا گیا ہے کہ افسوس آج ہمارا نہ کوئی سفارشی ہے نہ دوست۔ [26-الشعراء:101-100] ‏‏‏‏ یہ بھی ارشاد ہے فدیہ بھی نہ لیا جائے گا اور جو لوگ کفر پر مر جاتے ہیں وہ اگر زمین بھر کر سونا دیں اور ہمارے عذابوں سے چھوٹنا چاہیں تو یہ بھی نہیں ہو سکتا. [3-آل عمران:91] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے کافروں کے پاس اگر تمام زمین کی چیزیں اور اس کے مثال اور بھی ہوں اور قیامت کے دن وہ اسے فدیہ دے کر عذابوں سے بچنا چاہیں تو بھی کچھ قبول نہ ہو گا اور درد ناک عذابوں میں مبتلا رہیں گے. [5-المائدة:36] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے۔ گو وہ زبردست فدیہ دیں پھر بھی قبول نہیں۔ [6-الأنعام:70] ‏‏‏‏ دوسری جگہ ہے آج تم سے نہ بدلہ لیا جائے نہ ہی کافروں سے تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اسی کی آگ تمہاری وارث ہے۔ [57-الحديد:15] ‏‏‏‏

مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بغیر سفارش اور شفاعت کا آسرا بیکار محض ہے قرآن میں ارشاد ہے اس دن سے پہلے نیکیاں کر لو جس دن نہ خرید و فروخت ہو گی نہ دوستی [2-البقرة:254] ‏‏‏‏ اور شفاعت مزید فرمایا «يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ» [ 14۔ ابراہیم: 31 ] ‏‏‏‏ اس دن نہ بیع ہو گی نہ دوستی۔ عدل کے معنی یہاں بدلے کے ہیں اور بدلہ اور فدیہ ایک ہے علی والی حدیث میں صرف کے معنی نفل اور دل کے معنی فریضہ مروی ہیں۔ [صحیح بخاری:1870] ‏‏‏‏ لیکن یہ قول یہاں غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عدل کے کیا معنی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فدیہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:887:مرسل و منقطع] ‏‏‏‏ ان کی مدد بھی نہ کی جائے گی یعنی کوئی حمایتی نہیں ہو گا، قرابتیں کٹ جائیں گی جاہ و حشم جاتا رہے گا کسی کے دل میں ان کے لیے رحم نہ رہے گا نہ خود ان میں کوئی قدرت و قوت رہے گی اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [ 23۔ المؤمنون: 88 ] ‏‏‏‏ وہ پناہ دیتا ہے اور اس کی پکڑ سے نجات دینے والا کوئی نہیں، ایک جگہ ہے آج کے دن نہ اللہ کا سا کوئی عذاب دے سکے نہ اس کی سی قید و بند۔ ارشاد ہے آیت «‏‏‏‏مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ» [ 37-الصافات: 25، 26 ] ‏‏‏‏ تم آج کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے بلکہ وہ سب کے سب آج گردنیں جھکائے تابع فرمان بنے کھڑے ہیں۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏فَلَوْلَا نَــصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ قُرْبَانًا آلِهَةً ۖ بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ» ‏‏‏‏ [ 46۔ الاحقاف: 28 ] ‏‏‏‏ اللہ کے نزدیکی کے لیے وہ اللہ کے سوا جن کی پوجا پاٹ کرتے تھے آج وہ معبود اپنے عابدوں کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ بلکہ وہ تو غائب ہو گئے مطلب یہ ہے کہ محبتیں فنا ہو گئیں رشوتیں کٹ گئیں، شفاعتیں مٹ گئیں، آپس کی امداد و نصرت نابود ہو گئی معاملہ اس عادل حاکم جبار و قہار اللہ تعالیٰ مالک الملک سے پڑا ہے جس کے ہاں سفارشیوں اور مددگاروں کی مدد کچھ کام نہ آئے بلکہ اپنی تمام برائیوں کا بدلہ بھگتنا پڑے گا، ہاں یہ اس کی کمال بندہ پروری اور رحم و کرم انعام و اکرام ہے کہ گناہ کا بدلہ برابر دے اور نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا بڑھا کر دے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے کہ «وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ» [ 37-الصافات: 24 - 26 ] ‏‏‏‏ وقفہ لینے دو تاکہ ان سے ایک سوال کر لیا جائے گا کہ آج یہ ایک دوسرے کی مدد چھوڑ کر نفسا نفسی میں کیوں مشغول ہیں؟ بلکہ ہمارے سامنے سر جھکائے اور تابع فرمان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/1] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 48) ➊ نعمت یاد دلانے کے بعد انھیں قیامت کے عذاب سے ڈرایا۔ بنی اسرائیل میں فساد کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے انبیاء اور علماء پر ناز کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کتنے ہی گناہ کر لیں ہمارے بزرگ اور آبا و اجداد ہمیں بخشوا لیں گے، ان کے اسی باطل گمان کی تردید کی گئی ہے۔ ➋ کسی گرفتار شخص کو چھڑانے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں، کسی کی سفارش کام آ جائے، یا فدیہ دے کر چھڑا لیا جائے، یا زبردستی حملہ کر کے چھڑا لیا جائے، قیامت کے دن ان میں سے کوئی بھی ممکن نہیں۔ ➌ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کوئی سفارش قبول نہیں ہو گی، مگر دوسرے مقامات پر وضاحت فرمائی ہے کہ جس شفاعت کی نفی کی گئی ہے وہ کفار کے لیے شفاعت ہے: «{ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ }» [ المدثر: ۴۸ ] ”پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر بھی شفاعت ممکن نہیں ہو گی، فرمایا: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ ہاں! جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اس کے لیے سفارش ہو گی اور اسے نفع بھی دے گی۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۱۰۹) اور قیامت کے دن اہلِ ایمان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی احادیث متواتر ہیں۔
← پچھلی آیت (47) پوری سورۃ اگلی آیت (49) →