بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 47
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 47
آیت نمبر: 47 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی
اے اوﻻد یعقوب! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی
اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی-
اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا جہاں کے لوگوں پر فضیلت دی۔
اے اسرائیل کی اولاد! میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ کہ میں نے ہی تمھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر اللہ تعالٰی کے انعامات ٭٭

بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر جو نعمت الٰہیہ انعام کی گئی تھی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے رسول ہوئے ان پر کتابیں اتریں انہیں ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر مرتبہ دیا گیا جیسے فرمایا «وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ» [ 44۔ الدخان: 32 ] ‏‏‏‏ یعنی انہیں ان کے زمانے کے [ اور لوگوں پر ] ‏‏‏‏ ہم نے علم میں فضیلت دی۔ اور فرمایا «وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [5-المائدة:20] ‏‏‏‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر انعام کی گئی ہے تم میں اس نے پیغمبر پیدا کئے تمہیں بادشاہ بنایا اور وہ دیا جو تمام زمانے کو نہیں دیا۔ تمام لوگوں پر فضیلت ملنے سے مراد ان کے زمانے کے تمام اور لوگ ہیں اس لیے کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یقیناً افضل ہے اس امت کی نسبت فرمایا گیا ہے «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [ 3۔ آل عمران: 110 ] ‏‏‏‏ تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہو تم بھلائیوں کا حکم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ مسانید اور سنن میں مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو۔ [مسند احمد:447/4:حسن] ‏‏‏‏ اس قسم کی اور بہت سی احادیث کا ذکر ان شاءاللہ «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [ 3۔ آل عمران: 110 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا اور کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں پر خاص قسم کی فضیلت مراد ہے جس سے ہر قسم کی فضیلت لازم نہیں آتی، رازی نے یہی کہا ہے مگر یہ غور طلب بات ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت اور تمام امتوں پر ہے اس لیے کہ انبیاء کرام انہی میں سے ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس میں بھی غورو خوض کی ضرورت ہے اس لیے کہ اس طرح کے اطلاق کے اجتماعی اعزاز کو اگلے لوگوں پر بھی ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں اگلے انبیاء ان میں شمار نہ تھے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو ان سب کے بعد ہوئے لیکن تمام مخلوق سے افضل تھے اور جو تمام اولاد آدم علیہ السلام کے سردار ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، «صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ» ۔

📖 احسن البیان

47۔ 1 یہاں سے دوبارہ اسرائیل کو وہ انعامات یاد کرائے جا رہے ہیں جو ان پر کئے گئے اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا جا رہا ہے جس دن نہ کوئی کسی کے کام آئے گا نہ سفارش قبول ہوگی نہ معاوضہ دے کر چھٹکارہ ہو سکے گا، اور نہ کوئی مددگار آگے آئے گا۔ ایک انعام یہ بیان فرمایا کہ ان کو تمام جہانوں پر فضیلت دی گئی یعنی امت محمدیہ سے پہلے افضل العالمین ہونے کی یہ فضیلت بنواسرائیل کو حاصل تھی جو انہوں نے معصیت الٰہی کا ارتکاب کرکے گنوالی اور امت محمدیہ کو خیرامۃ کے لقب سے نوازا گیا۔ اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ انعامات الٰہی کسی خاص نسل کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایمان اور عمل کی بنیاد پر ملتے ہیں اور ایمان وعمل سے محرومی پر سلب کرلئے جاتے ہیں، جس طرح امت محمدیہ کی اکثریت بھی اس وقت اپنی بدعملیوں اور شرک و بدعات کے ارتکاب کی وجہ سے خیرامۃ کے بجائے شرامۃ بنی ہوئی ہے۔ ھداھا اللہ تعالیٰ یہود کو یہ دھوکا بھی تھا کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ اس لئے مواخذہ آخرت سے محفوظ رہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو کوئی سہارا نہیں دے سکے گا۔ اسی فریب میں امت محمدیہ بھی مبتلا ہے اور مسئلہ شفاعت کو (جواہل سنت کے یہاں مسلمہ ہے) اپنی بدعملی کا جواز بنا رکھا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 47) ➊ اوپر آیت ۴۰ میں اختصار کے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے تھے، اب تفصیل کے ساتھ ان کا بیان شروع کرنے کے لیے دوبارہ خطاب کیا ہے اور وعظ کا یہ انداز نہایت بلیغ اور مؤثر ہوتا ہے۔(المنار) نیز ان کو توجہ دلائی ہے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دوسری بے ہودگیوں سے باز آ جاؤ۔ ➋ جہانوں پر فضیلت بخشی، اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانوں کے لوگ ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے پر یہ فضیلت «{ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ }» [ آل عمران: ۱۱۰ ] فرما کر اس امت کو عطا کر دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ] ”سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملیں گے، پھر وہ جو ان سے ملیں گے۔“ [ بخاری، الشہادات، باب لا یشہد علی شہادۃ جور إذا أشہد: ۲۶۵۲، عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ]
← پچھلی آیت (46) پوری سورۃ اگلی آیت (48) →