بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 232
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 232
آیت نمبر: 232 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحۡنَ اَزۡوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَیۡنَہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکُمۡ اَزۡکٰی لَکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۲﴾
جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وه آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو، اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور جب وہ اپنی (عدّت کی) مدت پوری کر لیں تو انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ جب کہ وہ مناسب طریقے پر (شریعت کے مطابق) ایک دوسرے (نئے یا پرانے) سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائیں۔ اس (حکم) کے ذریعہ سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے (اور وہی اسے قبول کرے گا) جو خدا اور جزاء پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ (ان احکام پر عمل کرنا)۔ تمہارے لئے زیادہ تزکیہ و طہارت کا باعث ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں، جب وہ آ پس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔ یہ بات ہے جس کی نصیحت تم میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمھارے لیے زیادہ ستھرا اور زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت ٭٭

اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضا مندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/5] ‏‏‏‏ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہو سکتا چنانچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کر سکتی نہ عورت اپنا نکاح آپ کر سکتی ہے۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کر لیں۔ [سنن ابن ماجه:1882، قال الشيخ الألباني:صحیح بدون الجملة] ‏‏‏‏ دوسری حدیث میں ہے نکاح بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں، [دار قطنی:225/3] ‏‏‏‏ گو اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن اس کے بیان کی جگہ تفسیر نہیں۔ ہم اس کا بیان کتاب الاحکام میں کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ یہ آیت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری بہن کا منگیتر میرے پاس آتا تھا۔ میں نے نکاح کر دیا۔ اس نے کچھ دِنوں بعد طلاق دے دی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کی درخواست کی، میں نے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4529] ‏‏‏‏ جسے سن کر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے باوجود یہ کہ قسم کھا رکھی تھی کہ میں تیرے نکاح میں نہ دوں گا، نکاح پر آمادہ ہو گئے اور کہنے لگے میں نے اللہ کا فرمان سنا اور میں نے مان لیا اور اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کر دیا۔ [سنن ابوداود:2087، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ ان کا نام جمیل بنت یسار رضی اللہ عنہا تھا۔ ان کے خاوند کا نام ابوالبداح رضی اللہ عنہ تھا۔ بعض نے ان کا نام فاطمہ بن یسار رضی اللہ عنہا بتایا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا کی بیٹی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔ پھر یہ فرمایا یہ نصیحت و وعظ کیلئے ہے جنہیں شریعت پر ایمان ہو، اللہ کا ڈر ہو، قیامت کا خوف ہو، انہیں چاہیئے کہ اپنی ولایت میں جو عورتیں ہوں انہیں ایسی حالت میں نکاح سے نہ روکیں، شریعت کی اتباع کر کے ایسی عورتوں کو ان کے خاوندوں کے نکاح میں دے دینا اور اپنی حمیت و غیرت کو جو خلاف شرع ہو، شریعت کے ماتحت کر دینا ہی تمہارے لیے بہتری اور پاکیزگی کا باعث ہے۔ ان مصلحتوں کا علم جناب باری تعالیٰ کو ہی ہے، تمہیں معلوم نہیں کہ کس کام کے کرنے میں بھلائی ہے اور کس کے چھوڑنے میں۔ یہ علم حقیقت میں اللہ رب العزت ہی کو ہے۔

📖 احسن البیان

232۔ 1 اس میں مطلقہ عورت کی بابت ایک تیسرا حکم دیا جا رہا ہے وہ یہ کہ عدت گزرنے کے بعد (پہلی یا دوسری طلاق کے بعد) اگر سابقہ خاوند بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ان کو مت روکو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا واقعہ ہوا تو عورت کے بھائی نے انکار کردیا جس پر یہ آیت اتری، اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ عورت اپنا نکاح نہیں کرسکتی، بلکہ اس کے نکاح کے لئے ولی کی اجازت اور رضامندی ضروری ہے۔ تب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ولیوں کو اپنا حق ولایت غلط طریقے سے استعمال کرنے سے روکا ہے۔ اس کی مزید تائید حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتی ہے، جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا، پس اس کا نکاح باطل ہے، اسکا نکاح باطل ہے، اسکا نکاح باطل ہے۔ (حوالہ مذکور) ان احادیث کو علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی دیگر محدثین کی طرح صحیح اور احسن تسلیم کیا ہے۔ فیض الباری ج 4 کتاب النکاح) دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عورت کے ولیوں کو بھی عورت پر جبر کرنے کی اجازت نہیں بلکہ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت کی رضامندی کو بھی ملحوظ رکھیں اگر ولی عورت کی رضامندی کو نظر انداز کر کے زبردستی نکاح کر دے تو شریعت نے عورت کو بذریعہ عدالت نکاح فسخ کرانے کا اختیار دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ نکاح میں دونوں کی رضامندی حاصل کی جائے کوئی ایک فریق بھی من مانی نہ کرے گا اور لڑکی کے مفادات کے مقابلے میں اپنے مفادات کو ترجیح دے گا تو عدالت ایسے ولی کو حق ولایت سے محروم کر کے ولی ابعد کے ذریعے سے یا خود ولی بن کر اس عورت کے نکاح کا فریضہ انجام دے گی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت232) ➊ { اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ:} معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک شخص سے کیا، اس نے اسے طلاق دے دی، جب عدت گزر گئی تو وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا، میں نے تمھارا نکاح کیا، اسے تمھاری بیوی بنایا اور تمھاری عزت افزائی کی، مگر تم نے اسے طلاق دے دی، اب تم پھر اس سے نکاح کا پیغام لے کر آ گئے ہو، اللہ کی قسم! وہ تمھارے پاس کبھی نہیں آ سکتی۔ اس شخص میں کوئی برائی نہیں تھی اور میری بہن بھی اس کے پاس جانا چاہتی تھی(لیکن میں مانع تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی: «فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ» ‏‏‏‏ ”تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کر لیں۔“ تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! اب میں نکاح کر دوں گا۔ الغرض! انھوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔ [ بخاری، النکاح، باب من قال لا نکاح إلا بولی …: ۵۱۳۰ ] ➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت خود بخود اپنا نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ ولی کی اجازت ضروری ہے۔ امام بخاری نے بھی اس آیت سے یہ استدلال فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے اور نہ کوئی عورت اپنا نکاح خود کرے، کیونکہ وہ عورت زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے۔“ [ ابن ماجہ، النکاح، باب لا نکاح إلا بولی: ۱۸۸۲، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، و صححہ الألبانی ] اگر عورت خود اپنا نکاح کر سکتی ہوتی تو عورت کے اولیاء کو قرآن مخاطب نہ کرتا کہ ”تم ان کو مت روکو۔“ ➌ { اَزْوَاجَهُنَّ:} اس لفظ سے جس طرح وہ خاوند مراد ہیں جن سے پہلے نکاح ہوا تھا، اسی طرح عدت گزرنے کے بعد اگر وہ کسی اور شخص سے نکاح کرنا چاہیں تو اس ہونے والے خاوند سے نکاح کرنے سے روکنا بھی منع ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ حکم ہے عورتوں کے ولیوں کو کہ اس کے نکاح میں اس کی خوشی (کا خیال) رکھیں، جہاں وہ راضی ہوں وہاں کر دیں، اگرچہ اپنی نظر میں اور جگہ بہتر معلوم ہو۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (231) پوری سورۃ اگلی آیت (233) →