بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 231
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 231
آیت نمبر: 231 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمۡسِکُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ ۪ وَ لَا تُمۡسِکُوۡہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا ۫ وَّ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ وَ الۡحِکۡمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۳۱﴾٪
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ در حقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ، یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ﻇلم وزیادتی کے لئے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ﻇلم کیا۔ تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی میعاد (عدت کے خاتمہ) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنے پاس) رکھو۔ یا اچھے طریقے سے انہیں رخصت کر دو اور انہیں ضرر و زیاں پہنچانے اور زیادتی کرنے کیلئے نہ روکو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے نفس پر ظلم کرے گا۔ اور خدا کے آیات و احکام کا ہنسی مذاق نہ بناؤ اور خدا کے اس انعام و احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے اور جو اس نے کتاب و حکمت تم پر نازل کی ہے۔ اس کے ذریعہ سے تمہیں نصیحت کرتا ہے اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور خوب جان لو کہ خدا ہر شی کا جاننے والا ہے۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو، یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انھیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو، تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے سو بلاشبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنائو اور اپنے آپ پر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کو بھی جو اس نے کتاب و حکمت میں سے تم پر نازل کیا ہے، وہ تمھیں اس کے ساتھ نصیحت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آئین طلاق کی وضاحت ٭٭

مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں جن حالتوں میں لوٹا لینے کا حق انہیں حاصل ہے اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے یا عمدگی کے ساتھ لوٹائے یعنی رجعت پر گواہ مقرر کرے اور اچھائی سے بسانے کی نیت رکھے یا اسے عمدگی سے چھوڑ دے اور عدت ختم ہونے کے بعد اپنے ہاں بغیر اختلاف جھگڑے دشمنی اور بد زبانی کے نکال دے، جاہلیت کے اس دستور کو اسلام نے ختم کر دیا کہ طلاق دے دی، عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کر لیا، پھر طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا، یونہی اس دُکھیا عورت کی عمر برباد کر دیتے تھے کہ نہ وہ سہاگن ہی رہے نہ بیوہ، تو اس سے اللہ نے روکا اور فرمایا کہ ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی نہ بناؤ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعری قبیلہ پر ناراض ہوئے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حاضرِ خدمت ہو کر [ ان اصلاحات طلاق کے بارے میں ] ‏‏‏‏ سبب دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانوں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کی عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4928:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حکم کا یہ بھی مطلب لیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو بلاوجہ طلاق دیتا ہے اور عورت کو ضرر پہنچانے کیلئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کیلئے رجوع ہی کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے تو ہنسی ہنسی میں یہ کیا۔ ایسی صورتوں میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واضح ہو جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طلاق ہو گئی۔ [دارالمنثور:509/1] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے، آزاد کر دیتے، نکاح کر لیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے بطور دِل لگی کے یہ کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو طلاق یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرا دے خواہ پختگی کے ساتھ خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4926] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں، دِل لگی سے ہوں تو تینوں پر اطلاق ہو جائے گا۔ نکاح، طلاق اور رجعت [سنن ابوداود:3434، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں، کتاب اور سنت سکھائی حکم بھی کئے، منع بھی کئے وغیرہ وغیرہ۔ جو کام کرو اور جو کام نہ کرو ہر ایک میں اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔

📖 احسن البیان

231۔ 1 (الطلاق مرتن) میں بتلایا گیا تھا کہ دو طلاق تک رجوع کرنے کا اختیار ہے اس آیت میں کہا جا رہا ہے کہ رجوع عدت کے اندر اندر ہوسکتا ہے عدت گزرنے کے بعد نہیں اس لئے یہ تکرار نہیں ہے جس طرح کے بظاہر ہے۔ 132۔ 2 بعض لوگ مذاق میں طلاق دے دیتے یا نکاح کرلیتے یا آزاد کردیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں میں نے تو مذاق کیا تھا اللہ نے اسے آیات الٰہی سے استہزاء قرار دیا جس سے مقصود اس سے روکنا ہے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مذاق سے بھی اگر کوئی مذکورہ کام کرے گا تو وہ حقیقت ہی سمجھا جائے گا اور مذاق کی طلاق یا نکاح یا آزادی نافذ ہوجائے گی (تفسیر ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 231) ➊ { فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ:} اس کا مطلب عدت ختم ہونا نہیں بلکہ عدت ختم ہونے کے قریب ہونا ہے۔ اس کی دلیل پیچھے گزرا ہوا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ» [ البقرۃ: ۲۲۸ ] ”اور ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔“ ➋ یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق رجعی دو تو ان کی عدت پوری ہونے سے پہلے پہلے تمھیں رجوع کا حق پہنچتا ہے، مگر یہ رجوع محض انھیں ستانے اورنقصان پہنچانے کی غرض سے نہ ہو، کیونکہ ایسا کرنا ظلم و زیادتی اور احکامِ الٰہی سے مذاق کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جنھیں کوئی سنجیدگی سے کہے تو وہ سنجیدہ ہیں اور ہنسی مذاق میں کہے تب بھی وہ سنجیدہ ہیں، نکاح، طلاق اور رجوع۔“ [ أبو داوٗد، الطلاق، باب فی الطلاق علی الھزل: ۲۱۹۴۔ ابن ماجہ: ۲۰۳۹۔ ترمذی، ابن حجر، سیوطی اور البانی رحمھم اللہ نے اسے حسن کہا ہے ] ➌ {مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ:} یہاں {”الْحِكْمَةِ“} سے مراد سنت ہے، یعنی کتاب و سنت کی جو نعمت تم پر نازل کی ہے اسے مت بھولو۔ یہ دونوں وحی الٰہی ہیں اور دلیل ہونے میں دونوں برابر ہیں۔ لہٰذا منکرِ حدیث کا بھی وہی حکم ہے جو منکرِ قرآن کا ہے، مطلب یہ کہ ان آیات میں بیان کردہ گھریلو مسائل کو حدیث پاک کی روشنی میں زیر عمل لانا ضروری ہے۔
← پچھلی آیت (230) پوری سورۃ اگلی آیت (232) →