بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البلد — Surah Balad
آیت نمبر 17
کل آیات: 20
قرآن کریم البلد آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ البلد islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾
پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی
پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں
پھر ہو ان سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں
پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی ہوتا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے اور رحم کرنے کی وصیت کی۔
پھر (یہ کہ) ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»

📖 احسن البیان

17۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہونگے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔ 17۔ 2 اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 17) {ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} جنت کی بلندیوں پر پہنچنے کے لیے یہی کافی نہیں کہ گردنیں آزاد کرے یا یتیم اور مسکین کو کھانا کھلائے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ایمان بھی ضروری ہے، اگر ایمان نہیں تو کوئی عمل قبول نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۱۴۴۔ نحل: ۹۷۔ بنی اسرائیل: ۱۹) پھر ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت اور تاکید بھی ضروری ہے۔ سورۂ عصر میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ {” ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل گھاٹی کی چڑھائی کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں پہلے گردن چھڑانا اور یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا ہے، پھر اس کے بعد ایمان لانا اور حق و مرحمت کی وصیت کرنا ہے، مگر اہلِ علم فرماتے ہیں کہ{” ثُمَّ “} ہمیشہ ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا، بعض اوقات ترتیب ذکری کے لیے بھی ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے بعد کی ایک چیز پہلے ذکر کر دی جاتی ہے۔ یہاں مال داروں کے لیے خرچ کرنا چونکہ بہت مشکل کام ہے اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر ایمان اور تواصی بالحق والمرحمہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ایمان کے بغیر گردن چھڑانا، کھانا کھلانا یا نیکی کا کوئی بھی کام بے سود ہے۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →