بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
البلد
سورۃ البلد — 20 آیات
قرآن کریم Surah 90
لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی
مولانا محمد جوناگڑھی
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
مجھے اس شہر کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں، میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں (1)
(آیت 1تا4) {لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ …:} قسم سے پہلے {” لَا “} (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا، یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لیے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کے لیے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدا، اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریخ، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بے سروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے درپے ہوجانا، یہ سب چیزیں اس بات کی شاہد ہیں کہ انسان یقینا مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جننے والے ماں باپ اور ان کے جنم دیے ہوئے بچے کی قسم ہے۔ ماں باپ کو اولاد کے حصول کی جستجو سے لے کر ان کی پرورش تک جن مصائب سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کے جنم دیے ہوئے بچے پر نطفہ ہونے سے لے کر ولادت تک پھر ولادت سے بچپن، جوانی اور بڑھاپے تک جو کچھ گزرتا ہے، وہ سب کچھ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ شروع سے آخر تک سختیاں اور مصیبتیں ہی جھیلتا رہتا ہے، کبھی بیماری میں گرفتار ہے، کبھی رنج میں، کبھی فقر و فاقہ میں، کبھی کسی اور فکر میں۔ اگر کبھی کسی خوشی یا راحت کا کوئی لمحہ آتا بھی ہے تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور ہوتی ہے، کوئی اور نہ ہو تو اس کے زوال کی فکر ہی اسے مکدر کرنے کے لیے کافی ہے۔
وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو
علامہ محمد حسین نجفی
درآنحالیکہ آپ(ص) اس شہر میں قیام پذیر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو اس شہر میں رہنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
2۔ 1 یہ اشارہ ہے اس وقت کی طرف جب مکہ فتح ہوا، اس وقت اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس شہر حرام میں قتال کو حلال فرما دیا تھا جب کہ اس میں لڑائی کی اجازت نہیں ہے چناچہ حدیث میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شہر کو اللہ نے اس وقت سے حرمت والا بنایا ہے، جب سے اس نے آسمان و زمین پیدا کئے۔ پس یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمت سے قیامت تک حرام ہے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کے کانٹے اکھیڑے جائیں، میرے لئے اسے صرف دن کی ایک ساعت کے لئے حلال کیا گیا تھا اور آج اس کی حرمت پھر اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ اگر کوئی یہاں قتال کے لئے دلیل میری لڑائی کو پیش کرے تو اس سے کہو کہ اللہ کے رسول کو تو اس کی اجازت اللہ نے دی تھی جب کہ تمہیں یہ اجازت اس نے نہیں دی (صحیح بخاری)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اوﻻد کی
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور قَسم کھاتا ہوں باپ (آدم(ع)) کی اوراس کی اولاد کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جننے والے کی قسم! اور اس کی جو اس نے جنا!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
3۔ 1 بعض نے اس سے مراد حضرت آدم ؑ اور ان کی اولاد لی ہے اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے، ہر باپ اور اس کی اولاد اس میں شامل ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ہم نے انسان کو محنت و مشقت کیلئے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
4۔ 1 یعنی اس کی زندگی محنت و مشقت اور شدائد سے معمور ہے۔ امام طبری نے اس مفہوم کو اختیار کیا ہے، یہ جواب قسم ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ یَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ اَحَدٌ ۘ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کسی کے بس میں ہی نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پاسکے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کبھی کوئی قادر نہیں ہوگا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
5۔ 1 یعنی کوئی اس کی گرفت کرنے پر قادر نہیں۔
(آیت 5){ اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌ:} جن سختیوں اور مصیبتوں میں آدمی زندگی بسر کرتا ہے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانتا اور اس میں عاجزی اور انکسار کا جذبہ پیدا ہوتا، لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اکڑفوں دکھاتا ہے اور سمجھتا ہے مجھ پر کون قابو پا سکتا ہے؟ (اشرف الحواشی)
یَقُوۡلُ اَہۡلَکۡتُ مَالًا لُّبَدًا ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے تو بہت کچھ مال خرچ کر ڈاﻻ
احمد رضا خان بریلوی
کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال اڑادیا۔
عبدالسلام بن محمد
کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال برباد کر ڈالا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
6۔ 1 یعنی دنیا کے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے، پھر فخر کے طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔
(آیت 6) {يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا:} یعنی دین حق کی مخالفت یا جاہلانہ رسم و رواج میں روپیہ لٹانے کو بڑا کمال سمجھتا ہے اور اسے فخریہ بیان کرتا ہے۔ (اشرف الحواشی)
اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ یَرَہٗۤ اَحَدٌ ؕ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں دیکھا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا (ہی) نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
7۔ 1۔ اس طرح اللہ کی نافرمانی میں مال خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھنے والا نہیں؟ حالانکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جس پر وہ اسے جزا دے گا، آگے اللہ تعالیٰ اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ ایسے لوگ عبرت پکڑیں۔
(آیت 7){ اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَهٗۤ اَحَدٌ:} کیا وہ خیال کرتا ہے کہ جب وہ فخر و ریا کے لیے مال لٹا رہا تھا تو کسی نے اسے نہیں دیکھا؟ یقینا ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ عَیۡنَیۡنِ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم نے اس کیلئے دو آنکھیں نہیں بنائیں؟
عبدالسلام بن محمد
کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
8۔ 1 جن سے دیکھتا ہے۔
(آیت 8تا10){ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِ …: ” نَجْدٌ “} کا لغوی معنی ”بلند جگہ“ ہے۔ {” النَّجْدَيْنِ “} دو بلند جگہوں سے مراد ماں کی چھاتیاں ہیں۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کے مطابق ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے، انھیں منہ میں ڈال کر دودھ چوستا ہے جس پر اس کی زندگی کا دارومدار ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ رہنمائی نہ کرے تو کوئی بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ آنکھوں، زبان اور ہونٹوں کے الفاظ کے ساتھ ماں کی چھاتیوں کی مناسبت واضح ہے۔ اکثر مفسرین نے{” النَّجْدَيْنِ “} سے مراد خیر و شر کے دو واضح راستے لیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ کی بغاوت کرتے ہوئے اور بے تحاشا مال لٹاتے ہوئے یہ گمان کیسے کر لیا کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا اور نہ کوئی اس سے پوچھنے والا ہے؟ حالانکہ جن آنکھوں سے وہ دیکھ رہا ہے وہ ہم نے بنائی ہیں، زبان اور ہونٹ جن سے ڈینگیں مار رہا ہے وہ بھی ہم نے پیدا کیے ہیں، پھر ہم نے اسے خیر و شر کے راستے کا شعور بھی عطا فرمایا ہے۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسے آنکھیں عطا کرنے والا خود ہی دیکھ نہ رہا ہو، اسے زبان اور ہونٹ دینے والا اسے پوچھ بھی نہ سکتا ہو اور خیر وشر کا شعور عطا فرمانے والا اس سے اس شعور کے استعمال کے متعلق باز پرس ہی نہ کرے؟
وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیۡنِ ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے)
احمد رضا خان بریلوی
اور زبان اور دو ہونٹ
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟
عبدالسلام بن محمد
اور ایک زبان اور دو ہونٹ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
9۔ 1 زبان سے وہ بولتا ہے اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے ہونٹوں سے وہ بولنے اور کھانے کے لیے مدد حاصل کرتا ہے علاوہ ازیں وہ اس کے چہرے اور منہ کے لیے خوب صورتی کا بھی باعث ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دونوں نمایاں راستے اُسے (نہیں) دکھا دیے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔ ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832] ‏‏‏‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7] ‏‏‏‏، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔

ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
10۔ 1 یعنی خیر کی بھی شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور بدبختی کی بھی، جیسے فرمایا، بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے، ہم نے انسان کی (ماں کے) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کردی یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے خوراک حاصل کرے لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَۃَ ﴿۫ۖ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی
مولانا محمد جوناگڑھی
سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ (نیکی کی) دشوار گزار گھاٹی سے نہیں گزرا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر (بھی) وہ مشکل گھاٹی میں نہ گھسا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
11۔ 1 عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے یعنی (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ 11۝ڮ) 90۔ البلد:11) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے (فتح القدیر)
(آیت 11) {فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مال کی نعمت عطا فرمائی ہے اس کا تقاضا یہ نہ تھا کہ اسے ناحق اڑاتا، بلکہ یہ تھا کہ وہ بلندیاں جو سخت جدو جہد سے حاصل ہوتی ہیں انھیں سر کرنے کے لیے مشکل گھاٹی میں بے دریغ گھس جاتا، مگر اس نے اس مشکل گھاٹی میں گھسنے کی جرأت ہی نہیں کی۔ مشکل گھاٹی اس لیے فرمایا کہ نفس کو ان کاموں کا سرانجام دینا دشوار ہوتا ہے۔ {” الْعَقَبَةَ “} کے معنی ہیں گھاٹی، پہاڑ پر چڑھنے کا مشکل راستہ۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ مشکل گھاٹی کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13،12) {وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ …:} مال دار کے لیے بلندیوں پر لے جانے والا مشکل راستہ کیا ہے؟ وہ گردن چھڑانا ہے، کیونکہ غلامی سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آزادی دلانے سے بڑھ کر کسی کے ساتھ کوئی حسن سلوک نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَجْزِيْ وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ يَّجِدَهُ مَمْلُوْكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ] [ مسلم، العتق، باب فضل عتق الوالد: ۱۵۱۰ ] ”کوئی اولاد اپنے والد کا بدلا نہیں دے سکتی سوائے اس کے کہ اسے غلامی کی حالت میں پائے اور خرید کر اسے آزاد کر دے۔“ گردن چھڑانے کی ایک اور فضیلت بھی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُّؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللّٰهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِّنْهُ عُضْوًا مِّنَ النَّارِ حَتّٰی يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهٖ ] [ مسلم، العتق، باب فضل العتق: ۲۳ /۱۵۰۹ ] ”جو شخص مومن مسلم گردن کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ایک عضو آگ سے آزاد کرے گا، حتیٰ کہ اس کی شرم گاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ کو آزاد کر دے گا۔“ گردن چھڑانے میں غلام آزاد کرنے کے ساتھ کسی ناحق گرفتار کو رہائی دلوانا اور کسی مقروض کی گردن قرض سے چھڑانا بھی شامل ہے۔
فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا
احمد رضا خان بریلوی
کسی بندے کی گردن چھڑانا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کسی گردن کو (غلامی یا قرض سے) چھڑانا۔
عبدالسلام بن محمد
(وہ) گردن چھڑانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِیۡ یَوۡمٍ ذِیۡ مَسۡغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا فاقے کے دن
مولانا محمد جوناگڑھی
یا بھوک والے دن کھانا کھلانا
احمد رضا خان بریلوی
یا بھوک کے دن کھانا دینا
علامہ محمد حسین نجفی
یا بھوک کے دن۔
عبدالسلام بن محمد
یا کسی بھوک والے دن میں کھانا کھلانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14تا16){ اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ …:} یوں توقحط اور بھوک کے وقت کسی بھی یتیم کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے، لیکن جو یتیم رشتہ دار بھی ہو اس کی خبرگیری کرنا مزید اجر کا باعث ہے۔ اسی معنی میں سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلصَّدَقَةُ عَلَی الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ، وَ إِنَّهَا عَلٰی ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ، صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ] [ مسند أحمد: 214/4، ح: ۱۷۸۹۱۔ ترمذي: ۶۵۸۔ ابن ماجہ: ۱۸۴۴، و صححہ الألباني ] ”مسکین پر صدقہ کرنا (صرف) صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“
یَّتِیۡمًا ذَا مَقۡرَبَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کسی قریبی یتیم
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی رشتہ دار یتیم کو
احمد رضا خان بریلوی
رشتہ دار یتیم کو،
علامہ محمد حسین نجفی
کسی یتیم رشتہ دار کو۔
عبدالسلام بن محمد
کسی قرابت والے یتیم کو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَوۡ مِسۡکِیۡنًا ذَا مَتۡرَبَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا
مولانا محمد جوناگڑھی
یا خاکسار مسکین کو
احمد رضا خان بریلوی
یا خاک نشین مسکین کو
علامہ محمد حسین نجفی
یاخاکسار مسکین کو کھانا کھلانا۔
عبدالسلام بن محمد
یا مٹی میں ملے ہوئے کسی مسکین کو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
16۔ 1 یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہو، اس کا گھر بار بھی نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کرنا، کسی بھوکے رشتے دار کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا، اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے، آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہوسکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فک رقبہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہو ان سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی ہوتا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے اور رحم کرنے کی وصیت کی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر (یہ کہ) ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
17۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہونگے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔ 17۔ 2 اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔
(آیت 17) {ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} جنت کی بلندیوں پر پہنچنے کے لیے یہی کافی نہیں کہ گردنیں آزاد کرے یا یتیم اور مسکین کو کھانا کھلائے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ایمان بھی ضروری ہے، اگر ایمان نہیں تو کوئی عمل قبول نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۱۴۴۔ نحل: ۹۷۔ بنی اسرائیل: ۱۹) پھر ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت اور تاکید بھی ضروری ہے۔ سورۂ عصر میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ {” ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل گھاٹی کی چڑھائی کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں پہلے گردن چھڑانا اور یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا ہے، پھر اس کے بعد ایمان لانا اور حق و مرحمت کی وصیت کرنا ہے، مگر اہلِ علم فرماتے ہیں کہ{” ثُمَّ “} ہمیشہ ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا، بعض اوقات ترتیب ذکری کے لیے بھی ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے بعد کی ایک چیز پہلے ذکر کر دی جاتی ہے۔ یہاں مال داروں کے لیے خرچ کرنا چونکہ بہت مشکل کام ہے اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر ایمان اور تواصی بالحق والمرحمہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ایمان کے بغیر گردن چھڑانا، کھانا کھلانا یا نیکی کا کوئی بھی کام بے سود ہے۔
اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ﴿ؕ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے)
احمد رضا خان بریلوی
یہ دہنی طرف والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہی لوگ داہنے (ہاتھ) والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ دائیں ہاتھ والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19،18) {اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ …:} دائیں ہاتھ والے سے مراد یہ ہے کہ انھیں ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا، اسی طرح بائیں ہاتھ والوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ {” اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ “} کا دوسرا معنی ہے برکت والے، خوش نصیب اور {” اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ “} کا معنی نحوست والے، بد نصیب بھی ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا ہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ﴿ؕ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں (ہاتھ والے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا وہی بائیں ہاتھ والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
عَلَیۡہِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَۃٌ ﴿٪۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی
علامہ محمد حسین نجفی
ان پر چَو طرفہ بند کی ہوئی آگ محیط ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
ان پر (ہر طرف سے) آگ بند کی ہوئی ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ’ تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ ‘ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ }۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2517] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ { جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏‏‏‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ } ۱؎ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:19] ‏‏‏‏ ’ جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے ‘۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ الخ، ’ ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے ‘۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ’ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں ‘۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7376] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے ‘۔

مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏‏‏‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏‏‏‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
20۔ 1 یعنی ان کو آگ میں ڈال کر چاروں طرف بند کردیا جائے گا تاکہ ایک تو آگ کی پوری شدت و حرارت ان کو پہنچے، دوسرے وہ بھاگ کر کہیں نہ جاسکیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔