بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 69
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 69
آیت نمبر: 69 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۶۹﴾
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے
اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے
اور جو لوگ ہماری خاطر جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں اور بے شک اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔
اور وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انھیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احسان کے بدلے احسان؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آ جائے، امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال وقتال، لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن و امان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جیسے سورۃ «لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ۱؎ [106-قريش:1-4] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا۔ تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں؟ بجائے ایمان لانے کے، شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ انہیں تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ واحد کی عبادت میں سب سے بڑھے ہوئے رہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے اور سچے طرف دار رہیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک و کفر کرنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکے سے نکال دیا۔

بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہو گئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل و پست کیا۔ اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی اور حق کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفتری اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہوں گے۔

فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے۔ دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ ابواحمد عباس ہمدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں، اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے۔ ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو، گو وہ بھلی بات ہو۔ تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کرے۔ اور اللہ کی حمد کرے کہ جو اس کے جی میں آیا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ احسان اس کا نام ہے جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

69-1یعنی دین پر عمل کرنے میں جو دشواریاں، آزمائشیں پیش آتی ہیں69-2اس سے مراد دنیا اور آخرت کے وہ راستے ہیں جن پر چل کر انسان کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ 69-3احسان کا مطلب ہے اللہ کو حاضر ناظر جان کر ہر نیکی کے کام کو اخلاص کے ساتھ کرنا، سنت نبوی کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کے مفہوم میں شامل ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 69) ➊ { وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا:} کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اپنے مومن بندوں کے لیے بشارت بیان فرمائی۔ سورت کا آغاز اہل ایمان کی آزمائش اور جہاد کے ذکر سے ہوا تھا، فرمایا: «{ وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ }» [ العنکبوت: ۶ ] اب اختتام بھی اسی جہاد پر بشارت کے ساتھ ہوتا ہے۔ {” وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا “} میں جہاد سے وہی جہاد مراد ہے جو سورت کے شروع میں {” وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ “} سے مراد ہے۔ اس لیے اس پہلی آیت کا فائدہ دوبارہ نقل کیا جاتا ہے۔ {”جَهَدَ يَجْهَدُ“} کا معنی کوشش کرنا ہے اور {”جَاهَدَ “} (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم بھی ہے اور مبالغے کا بھی، یعنی کسی کے مقابلے میں پوری کوشش لگا دینا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسے اپنے نفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت اسے اپنی خواہش کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے، شیطان کا بھی جس نے اس کی دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے اور اپنے گھر سے لے کر تمام دنیا کے ان انسانوں کا بھی جو اسے راہ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس کوشش میں لڑائی بھی کرنا پڑتی ہے، جس میں وہ دشمن کو قتل کرتا ہے اور خود بھی قتل ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاد کا لفظ اکثر اسی معنی میں آیا ہے۔ سب سے اونچا درجہ اس کا وہ ہے جب وہ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر قربان ہو جاتا ہے۔ عبد اللہ بن حُبْشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (لمبی حدیث ہے): [ قِيْلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَالِهِ، وَنَفْسِهِ، قِيْلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ ] [ مسند أحمد: 411/3، ۴۱۲، ح: ۱۵۴۰۷، قال المحقق إسنادہ قوي۔ أبوداوٗد: ۱۴۴۹، قال الألباني صحیح ] ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کیا گیا کہ کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشرکین کے ساتھ اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔“ پوچھا گیا: ”پھر کون سا قتل سب سے اونچی شان والا ہے؟“ فرمایا: ”جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا جائے۔“ ➋ یعنی اللہ پر جھوٹ گھڑنے اور حق کو جھٹلانے والوں کا انجام تو جہنم ہے، مگر ہماری خاطر جو لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد کریں گے اور ہماری راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں قربان کریں گے ہم ضرور ہی انھیں وہ راستہ دکھا دیں گے جن پر چل کر وہ ہم تک پہنچیں اور انھیں ان پر چلنے کی توفیق دیں گے اور ان پر ثابت قدم رکھیں گے، کیونکہ ہدایت کی تکمیل ان تینوں چیزوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ:اِنَّ “} علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، یہاں ایک جملہ محذوف ہے جو خودبخود سمجھ میں آرہا ہے، وہ یہ ہے کہ جو شخص ہماری راہ میں جہاد کرے وہ محسن ہے، یعنی اپنی جان پر اور دوسرے لوگوں پر احسان کرنے والا ہے اور ایسے لوگ جو احسان کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ ➍ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اس کے باوجود وہ اپنی مخلوق کے ساتھ بھی ہے۔ پھر اس کی یہ معیت (ساتھ) ایک تو عام ہے کہ وہ اپنے علم وقدرت کے ساتھ یا جس طرح وہ خود بہتر جانتا ہے ہر بندے کے ساتھ ہے (دیکھیے حدید: ۴۔ مجادلہ: ۷) اور ایک خاص معیت ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے لشکروں کے آنے پر کہا تھا: «‏‏‏‏{ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ }» [الشعراء: ۶۲ ] ”بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔“ اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کے آ پہنچنے پر اپنے غار کے ساتھی سے فرمایا تھا: «{ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا }» [ التوبۃ: ۴۰ ] ”غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ {” الْمُحْسِنِيْنَ “} کے ساتھ ہونے سے مراد یہی خاص معیت ہے، یعنی اللہ اپنی ہدایت، حفاظت، حمایت اور نصرت کے ذریعے سے ان کے ساتھ ہے۔ ➎ بعض مفسرین نے اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ ] ”ہم چھوٹے جہاد (یعنی کفار سے لڑائی) سے بڑے جہاد (یعنی نفس سے جہاد) کی طرف واپس آئے ہیں۔“ حالانکہ یہ کسی شخص کا قول ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگانا بہت بڑا جھوٹ اور زبردست دیدہ دلیری ہے۔ جہاد اکبر وہی ہے جس کا ذکر اوپر حدیث رسول میں آیا ہے: [ مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ وَ عُقِرَ جَوَادُهُ ] ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا گیا۔“ حقیقت یہ ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد بھی سب سے بڑھ کر اسی کا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتا ہے۔ کچھ لوگوں نے قتال فی سبیل اللہ کو چھوٹا قرار دیا اور نفس سے جہاد کو بڑا قرار دے کر حجروں میں چلہ کشی کے لیے بیٹھ گئے۔ ایسے آرام دہ جہاد ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں مغلوب ہیں اور کافر غالب۔ کاش! یہ حضرات راہبوں کے طریقے کے بجائے وہ جہاد کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کیا، جس کے ساتھ وہ صرف دس سال کے عرصے میں پورے جزیرۂ عرب کے مالک بن گئے اور پھر نصف صدی کے اندر اندر مشرق سے مغرب تک کے فرماں روا بن گئے۔
← پچھلی آیت (68) پوری سورۃ اگلی آیت →