بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 67
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 67
آیت نمبر: 67 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ اِن کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں
اور کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین پناہ بنائی اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے ناشکری کرتے ہیں،
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم نے (ان کے شہر کو) امن والا حرم بنا دیا ہے۔ حالانکہ ان کے گرد و پیش کے لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے (پھر بھی) یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران (ناشکری) کرتے ہیں۔
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے ہیں، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

احسان کے بدلے احسان؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آ جائے، امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال وقتال، لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن و امان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جیسے سورۃ «لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ۱؎ [106-قريش:1-4] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا۔ تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں؟ بجائے ایمان لانے کے، شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ انہیں تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ واحد کی عبادت میں سب سے بڑھے ہوئے رہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے اور سچے طرف دار رہیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک و کفر کرنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکے سے نکال دیا۔

بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہو گئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل و پست کیا۔ اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی اور حق کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفتری اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہوں گے۔

فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے۔ دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ ابواحمد عباس ہمدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں، اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے۔ ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو، گو وہ بھلی بات ہو۔ تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کرے۔ اور اللہ کی حمد کرے کہ جو اس کے جی میں آیا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ احسان اس کا نام ہے جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

67-1اللہ تعالیٰ اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے جو اہل مکہ پر اس نے کیا کہ ہم نے ان کے حرم کو امن والا بنایا جس میں اس کے باشندے قتل و غارت اسیری لوٹ مار وغیرہ سے محفوظ ہیں۔ جب کہ عرب کے دوسرے علاقے اس امن و سکون سے محروم ہیں قتل و غارت گری ان کے ہاں معمول اور آئے دن کا مشغلہ ہے۔ 67-2یعنی کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی پرستش کرتے رہیں۔ اس احسان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے اور اس کے پیغمبر کی تصدیق کرتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 67) {اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا …:} اہل مکہ کو اس سے پہلے سمندری سفر میں خوف میں مبتلا کرنے کے بعد امن عطا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا تھا، اب خشکی کے اندر کسی خوف میں مبتلا کیے بغیر اس وقت امن عطا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا جب پورا عرب اس نعمت سے محروم تھا۔{” اَوَ لَمْ يَرَوْا “} میں واؤ عطف اصل میں ہمزہ استفہام سے پہلے ہے، مگر چونکہ ہمزہ استفہام شروع میں آتا ہے، اس لیے واؤ کو بعد میں کر دیا۔ اس لیے واؤ کا ترجمہ ہمزہ سے پہلے کیا گیا ہے ”اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا…۔“ یعنی جس وقت ان کے ارد گرد پورے جزیرۂ عرب کی یہ حالت ہے کہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، کسی کو کچھ خبر نہیں کہ اسے کب اٹھا لیا جائے گا۔ ان حالات میں اہلِ مکہ کو حرم کی وجہ سے مکہ میں بھی امن ہے، حتیٰ کہ کوئی حرم میں اپنے باپ کے قاتل کو دیکھ لے تو اسے کچھ نہیں کہتا اور پھر سردی اور گرمی میں دور دراز کے سفروں میں بھی حرم کے با شندے ہونے کی وجہ سے انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔ (دیکھیے سورۂ قریش کی تفسیر) کیا اس کے باوجود وہ باطل معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں؟ مزید دیکھیے سورۂ قصص (۵۷)۔
← پچھلی آیت (66) پوری سورۃ اگلی آیت (68) →