بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 73
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾
جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا
کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا
اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا
اور جو کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہیں اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بہت بڑا فساد ہو گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دو مختلف مذاہب والے آپس میں دوست نہیں ہو سکتے ٭٭

اوپر مومنوں کے کارنامے اور رفاقت و ولایت کا ذکر ہوا اب یہاں کافروں کی نسبت بھی بیان فرما کر کافروں اور مومنوں میں سے دوستانہ کاٹ دیا۔ مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:240/2:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں بھی ہے { مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6864] ‏‏‏‏ سنن وغیرہ میں ہے { دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ حسن کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک نئے مسلمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا کہ { نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور جب اور جہاں شرک کی آگ بھڑک اٹھے تو اپنے آپ کو ان کا مقابل اور ان سے برسر جنگ سمجھنا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16353:صحیح بالشواھد] ‏‏‏‏۔ یہ روایت مرسل ہے

اور مفصل روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین میں ٹھہرا رہے۔ کیا وہ دونوں جگہ لگی ہوئی آگ نہیں دیکھتا؟ } ۱؎ [سنن ابوداود:2645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو مشرکوں سے خلا ملا رکھے اور ان میں ٹھہرا رہے وہ انہی جیسا ہے۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں ہے اللہ کے رسول رسولوں کے سرتاج محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم رضامند ہو تو اس کے نکاح میں دے دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں زبردست فتنہ فساد برپا ہو گا۔} لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ چاہے وہ انہیں میں رہتا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: { جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام نکاح آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم خوش ہو تو اس کا نکاح کر دو تین بار یہی فرمایا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1084،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ آیت کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ’ اگر تم نے مشرکوں سے علیحدگی اختیار نہ کی اور ایمان داروں سے دوستیاں نہ رکھیں تو ایک فتنہ برپا ہو جائے گا۔ یہ اختلاط برے نتیجے دکھائے گا لوگوں میں زبردست فساد برپا ہو جائے گا۔‘

📖 احسن البیان

73۔ 1 یعنی جس طرح کافر ایک دوسرے کے دوست اور حمایتی ہیں اس طرح اگر تم نے بھی ایمان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی حمایت اور کافروں سے عدم موالات نہ کی، تو پھر بڑا فتنہ اور فساد ہوگا اور یہ کہ مومن اور کافر کے باہمی اختلاط اور محبت وموالات سے دین کے معاملے میں اشتباہ اور مداہنت پیدا ہوگی۔ بعض نے (بعضھم اولیآء بعض) سے وارث ہونا مراد لیا ہے یعنی کافر ایک دوسرے کے وارث ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے جیسا کہ احادیث میں اسے وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے اگر تم وراثت میں کفر و ایمان کو نظر انداز کرکے محض قرابت کو سامنے رکھو گے تو اس سے بڑافتنہ اور فساد پیدا ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 73) ➊ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ:} یعنی کافر آپس میں خواہ جتنی بھی دشمنی رکھتے ہوں تمھارے خلاف سب کے سب ایک دوسرے کے مدد گار اور حمایتی ہیں۔ کافر، کافر ہی کا دوست ہے، مسلمان کا نہیں، اس لیے مسلمان اور کافر کا آپس میں موالات (دوستی، حمایت اور مدد) کا رشتہ کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ ➋ { اِلَّا تَفْعَلُوْهُ:} یعنی اگر تم آپس میں محبت، حمایت اور نصرت نہیں کرو گے اور کفار سے ترک موالات نہیں کرو گے، یعنی ان کے ساتھ باہمی محبت، تعاون اور ایک دوسرے کا وارث بننا نہیں چھوڑو گے اور قطع تعلق نہیں کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بہت بڑا فساد ہو گا۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا، نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے۔“ [ بخاری، الفرائض، باب لا یرث المسلم الکافر …: ۶۷۶۴۔ مسلم: ۱۶۱۴ ] ➌ {تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِيْرٌ:} یعنی مسلمانوں کے راز افشا ہوتے رہیں گے، آئے دن جنگ رہے گی، کفار کے خلاف مسلمانوں کے یک جان نہ ہونے سے اسلام اور مسلمان کمزور ہوں گے، ان کا رعب جاتا رہے گا، کفار غالب آئیں گے، تو ان کے ساتھ رہنے والے مسلمان مجبوراً مرتد ہو جائیں گے، یا ان کے رسوم و رواج، عقائد اور اعمال قبول کریں گے، یا ان پر خاموش رہیں گے، یا شدید آزمائش کا شکار ہوں گے۔ غرض کفار کے غلبے اور ان کے ساتھ رہ کر ان کی غلامی پر قناعت یا ان سے دوستی کی صورت میں اللہ کی زمین پر امن کسی صورت قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ ہر طرف فتنہ و فساد، جنگ و جدل، شرک و کفر، بے حیائی اور بدکاری ہی کا دور دورہ ہو گا۔
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →